گول، گلاب گڑھ ، کشمیر اور مہور کو جوڑ کر سیاحتی سرکٹ بنائے جانے کی عوامی مانگ
محمد تسکین
گول // ضلع رام بن کی خوبصورت وادی گول کے دلکش مقام نرسنگا میں منعقد ہونے والااپنی نوعیت کا پہلا گول میلہ ایک ثقافتی تقریب نہیں بلکہ وادیٔ چناب کے پوشیدہ سیاحتی خزانوں کو منظر عام پر لانے کی ایک مؤثر کوشش ثابت ہونے والی ہے ۔ پانچ ہزار فٹ کی بلندی پر واقع نرسنگا کے سرسبز میدانوں میں تیز ہواؤں، ہلکی بارش اور خوشگوار موسم کے درمیان منعقد ہونے والے اس میلے میں سات سے دس ہزار کے درمیان مقامی اور غیر مقامی افراد نے شرکت کی۔محکمہ سیاحت اور ضلع انتظامیہ رام بن کے اشتراک سے منعقدہ اس میلے میں ثقافتی پروگراموں، لوک موسیقی، آرٹ ، دستکاری اور مقامی مصنوعات کے اسٹالز نے شرکاء کو اپنی جانب متوجہ کیا۔ تاہم میلے کی سب سے اہم بات یہ رہی کہ اس نے گول اور وادیٔ چناب کے وسیع سیاحتی امکانات پر ایک سنجیدہ عوامی بحث کو جنم دیا ہے۔ رام بن ضلع ہیڈکوارٹر سے تقریباً 55کلومیٹر دور واقع گول قدرتی حسن، گھنے جنگلات، بلند چراگاہوں، چشموں اور دلکش پہاڑی مناظر کی وجہ سے منفرد شناخت رکھتا ہے۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ نرسنگا، گھوڑا گلی، دگن ٹاپ، راما کنڈ، نائید مرگ، مرگوٹی، مت گلہ، منزم کنڈ، جبڑ، تتا پانی، گلاب گڑھ اور مہور سمیت درجنوں مقامات اپنی بے مثال خوبصورتی کے باوجود حکومتی توجہ سے محروم ہیں۔گول میلے کے دوران مختلف سماجی و سیاسی شخصیات نے کشمیر عظمیٰ سے بات چیت کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا کہ سنگلدان تک ریلوے رابطہ قائم ہونے کے بعد گول، گلاب گڑھ اور پیر پنجال کے دیگر خوبصورت مقامات کو ایک جامع سیاحتی سرکٹ میں شامل کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر بنیادی ڈھانچے، سڑکوں، رہائش اور دیگر سیاحتی سہولیات کو بہتر بنایا جائے تو نہ صرف ہزاروں ملکی و غیر ملکی سیاح اس خطے کا رخ کر سکتے ہیں بلکہ مقامی نوجوانوں کے لیے روزگار اور خود روزگاری کے بے شمار مواقع بھی پیدا ہوں گے۔مقامی سماجی کارکن گلزار احمد وانی نے کہا کہ گول کی سرسبز چراگاہیں، جنگلی پھول، جڑی بوٹیاں، چشمے اور گھنے جنگلات فطرت سے محبت کرنے والوں کے لیے کسی جنت سے کم نہیں، مگر ان مقامات کو سیاحتی نقشے پر لانے کے لیے سنجیدہ حکومتی اقدامات ناگزیر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وادیٔ چناب کے یہ حسین مگر گمنام مقامات اب بھی سرکاری عدم توجہی کا شکار ہیں اور حکومت اور محکمہ سیاحت کو پٹنی ٹاپ اور بھدرواہ کی طرح گول اور مہو منگت جیسے سیاحتی مقامات کی ترقی کرنی چاہیے ۔معروف قلمکار محمد شفیع جرال نے کہا کہ ایسے میلے علاقے کی ثقافت اور سیاحت کے فروغ کے لیے خوش آئند ہیں، تاہم ترقی کا عمل صرف موسمی تقریبات تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ مستقل بنیادوں پر بنیادی ڈھانچے کی تعمیر ضروری ہے۔کشمیر عظمیٰ سے بات کرتے ہوئے سینئرنیشنل کانفرنس لیڈر اور ممبر اسمبلی بانہال ۔گول سجاد شاہین نے گول میلہ کو ایک بڑی کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا گول میں سیاحت کے بے پناہ امکانات موجود ہیں اور یہاں کے پہاڑ، سرسبز چراگاہیں، گھنے جنگلات، قدرتی چشمے اور ہماری بھرپور ثقافتی روایات ہماری سب سے بڑی دولت ہیں۔ سجاد شاہین نے کہا کہ وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کی قیادت والی حکومت دیہی سیاحت کے فروغ، روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور گول جیسے مقامات کو جموں و کشمیر کے سیاحتی نقشے پر نمایاں مقام دلانے کے لیے پُرعزم ہے۔ انہوں نے مزید کہا حکومت کی توجہ غیر دریافت شدہ سیاحتی مقامات کی ترقی، بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانے اور اس بات کو یقینی بنانے پر مرکوز ہے کہ سیاحت مقامی آبادی کے لیے پائیدار روزگار اور آمدنی کا ذریعہ بن سکے۔