یو این آئی
نئی دہلی //ہندوستان دنیا کے ان چند ممالک میں شامل ہے جہاں موسمیاتی نظام نہ صرف معیشت بلکہ کروڑوں انسانوں کی روزمرہ زندگی پر براہِ راست اثر انداز ہوتا ہے۔ زرعی پیداوار، آبی وسائل، توانائی کی طلب، صحت عامہ اور بنیادی ڈھانچے کا ایک بڑا حصہ موسم کے رحم و کرم پر ہوتا ہے۔ 2026 کا مانسون ہندوستان کے لیے ایک غیر معمولی موسمی صورتِ حال لے کر آیا ہے، جہاں ایک طرف جنوبی اور شمال مشرقی علاقوں میں شدید بارشوں اور سیلاب کا خطرہ بڑھ گیا ہے، تو دوسری طرف شمالی، وسطی اور مغربی ہندوستان شدید گرمی کی لہروں کی لپیٹ میں ہیں۔ یہ صورتحال محض ایک موسمی بے ترتیبی نہیں بلکہ موسمیاتی تبدیلیوں کے اس بڑھتے ہوئے بحران کی عکاسی کرتی ہے جو پورے جنوبی ایشیا کو اپنی گرفت میں لے رہا ہے۔اس سال ہندوستان ایک ایسے موسمیاتی تضاد کا شکار نظر آتا ہے جسے ماہرین ”کلائمیٹ وِپ لیش” یا موسمیاتی جھٹکا قرار دیتے ہیں۔ اس اصطلاح سے مراد وہ صورتحال ہے جب موسم ایک انتہا سے دوسری انتہا کی طرف غیر معمولی تیزی سے منتقل ہو جائے۔ کہیں شدید بارش اور سیلاب، تو کہیں خشک سالی اور شدید گرمی اور یہ سب ایک ہی وقت میں وقوع پذیر ہو رہا ہو۔ہندوستان میں جنوب مغربی مانسون کو زندگی کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ عام طور پر مانسون یکم جون کے آس پاس ریاست کیرالہ میں داخل ہوتا ہے، تاہم 2026 میں اس کی آمد تین دن کی تاخیر سے 4 جون کو ہوئی۔ بظاہر تین دن کی تاخیر معمولی معلوم ہوتی ہے، لیکن موسمیاتی سائنس کے تناظر میں یہ تبدیلی کئی بڑے عوامل کی نشاندہی کرتی ہے۔مانسون کی رفتار اور شدت سمندری درجہ حرارت، فضائی دباؤ، بحر ہند کے درجہ حرارت اور عالمی موسمیاتی مظاہر جیسے ایل نینو اور لا نینا سے متاثر ہوتی ہے۔ گزشتہ چند برسوں کے دوران بحر ہند کے پانیوں میں مسلسل اضافہ ہونے والا درجہ حرارت مانسون کے معمول کے نظام کو متاثر کر رہا ہے۔ اس کے نتیجے میں بارش کی تقسیم غیر متوازن ہوتی جا رہی ہے۔2026 میں بھی یہی منظر دیکھنے کو ملا۔ مانسون نے جنوبی ریاستوں اور شمال مشرقی علاقوں میں تیزی سے پیش قدمی کی، مگر ملک کے بڑے حصے میں اس کی رسائی سست رہی۔ اس غیر متوازن پیش رفت نے موسمیاتی تضاد کو مزید گہرا کر دیا۔کیرالہ، کرناٹک، تمل ناڈو اور آندھرا پردیش کے کئی علاقوں میں مانسون کے ابتدائی مرحلے میں ہی شدید بارشیں ریکارڈ کی گئیں۔ کئی شہروں میں سڑکیں زیرِ آب آگئیں، ٹریفک نظام متاثر ہوا اور نشیبی علاقوں میں لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنا پڑا۔کیرالہ خاص طور پر گزشتہ چند برسوں سے شدید بارشوں اور سیلابوں کا سامنا کر رہا ہے۔ 2018 کے تباہ کن سیلاب کے بعد ماہرین مسلسل خبردار کر رہے ہیں کہ موسمیاتی تبدیلی کے باعث زبردست بارشوں کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اب بارش کئی دنوں میں تقسیم ہونے کے بجائے چند گھنٹوں میں ہی ریکارڈ مقدار میں برس جاتی ہے، جس سے نکاسی آب کا نظام ناکام ہو جاتا ہے۔شمال مشرقی ریاستیں جیسے آسام، میگھالیہ اور اروناچل پردیش بھی شدید بارشوں کی زد میں ہیں۔ دریاؤں کی سطح بلند ہو رہی ہے اور سیلابی خطرات بڑھ رہے ہیں۔ ان علاقوں میں ہزاروں خاندان ہر سال سیلاب کے باعث بے گھر ہوتے ہیں، جبکہ زرعی زمینوں کو بھی شدید نقصان پہنچتا ہے۔دوسری جانب دہلی، اتر پردیش، راجستھان، ہریانہ، پنجاب اور مدھیہ پردیش شدید گرمی کی لپیٹ میں ہیں۔ کئی شہروں میں درجہ حرارت 45 ڈگری سیلسیس سے تجاوز کر گیا ہے، جبکہ بعض علاقوں میں گرمی کی شدت محسوس شدہ درجہ حرارت کو 50 ڈگری کے قریب لے جا رہی ہے۔موسمیاتی ماہرین کے مطابق ہندوستان میں بیک وقت سیلاب اور گرمی کی لہریں موسمیاتی وِپ لیش کی واضح مثال ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ قدرتی نظام اپنی تاریخی ترتیب کھو رہا ہے۔ہندوستان کی تقریباً نصف آبادی براہِ راست یا بالواسطہ زراعت سے وابستہ ہے۔ مانسون کی غیر یقینی صورتحال زرعی شعبے کے لیے سب سے بڑا چیلنج بن چکی ہے۔اگر بارش وقت پر نہ ہو تو فصلوں کی بوائی متاثر ہوتی ہے۔ اگر بارش ضرورت سے زیادہ ہو تو فصلیں تباہ ہو جاتی ہیں۔ کسانوں کے لیے یہ صورتحال دوہری مصیبت بن چکی ہے۔دھان، کپاس، گنا اور دالوں جیسی اہم فصلیں مانسون پر انحصار کرتی ہیں۔ غیر متوازن بارشیں نہ صرف پیداوار کم کرتی ہیں بلکہ غذائی تحفظ کو بھی خطرے میں ڈالتی ہیں۔ زرعی ماہرین کے مطابق اگر یہی رجحان جاری رہا تو آنے والے برسوں میں خوراک کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے۔سیلاب زدہ علاقوں میں سڑکیں، پل اور مواصلاتی نظام متاثر ہوتے ہیں، جبکہ شدید گرمی صنعتی کارکنوں کی پیداواری صلاحیت کم کر دیتی ہے۔ عالمی بینک اور دیگر اداروں کے مطابق موسمیاتی تبدیلی ترقی پذیر ممالک کی اقتصادی ترقی کے لیے ایک بڑا خطرہ بن چکی ہے۔موسمیاتی وِپ لیش کا یہ دور ہمیں یاد دلاتا ہے کہ قدرت کے ساتھ عدم توازن کی قیمت بہت بھاری ہو سکتی ہے۔ اگر بروقت اور مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو سیلاب اور گرمی کی یہ دوہری آفت آنے والے برسوں میں مزید شدید اور تباہ کن شکل اختیار کر سکتی ہے۔