عظمیٰ ویب ڈیسک
نئی دہلی/ایران اور اسرائیل کے درمیان ایک دوسرے پر تازہ حملوں کے بعد مغربی ایشیا میں ایک بار پھر کشیدگی بڑھنے کے درمیان ہندوستان نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اسے بین الاقوامی برادری کے لیے تشویش کا موضوع بتایا ہے اور کہا ہے کہ تمام فریقین کو بات چیت کے ذریعے حل تلاش کرنا چاہیے تاکہ خطے میں امن قائم ہو سکے ساتھ ہی ہندوستان نے اپنے شہریوں کو ایران کے سفر سے گریز کرنے کی ایڈوائزری دہرائی ہے اور وہاں رہنے والے ہندوستانیوں سے دستیاب ذرائع سے ملک چھوڑنے کی اپیل کی ہے۔ وزارت خارجہ نے پیر کو ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا، ”ہندوستان کو مغربی ایشیا میں دوبارہ ہونے والے حملوں پر بہت افسوس ہے۔ یہ صورتحال بین الاقوامی برادری کے لیے انتہائی تشویش کا باعث ہے۔ اس لڑائی کو اب 100 دن سے زیادہ ہو چکے ہیں اور اس سے پہلے ہی لوگوں کی پریشانیاں بڑھی ہوئی ہیں۔ اس کا عالمی معیشت اور توانائی کی سپلائی پر بھی بہت برا اثر پڑا ہے“۔
ہندوستان نے تمام فریقین سے کشیدگی کم کرنے کی اپیل کی ہے اور یہ یقینی بنانے کو کہا ہے کہ عام لوگوں کو کوئی نقصان نہ پہنچے اور سفارتی حل کے لیے جاری بات چیت کو پورا کریں تاکہ خطے میں امن و استحکام لوٹ سکے۔ اس دوران تہران میں واقع ہندوستانی سفارت خانے نے حالیہ واقعات کے پیش نظر تمام ہندوستانی شہریوں کو ایران کا سفر کرنے سے بچنے کی اپنی پچھلی ایڈوائزری دہرائی ہے۔ سفارت خانے نے کہا ہے کہ جو ہندوستانی شہری ابھی ایران میں ہیں، انہیں بھی دستیاب ٹرانسپورٹ کے ذرائع سے ملک چھوڑنے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔
قابل ذکر ہے کہ ایران اور امریکہ-اسرائیل کے درمیان جاری جنگ بندی کے درمیان اسرائیل نے پیر کو جنوب مغربی ایران میں ایک اہم پیٹرو کیمیکل پلانٹ اور کئی دیگر فوجی اڈوں پر فضائی حملے کیے ہیں۔ دو ماہ قبل ہونے والی جنگ بندی کے بعد ایران کے اندر کسی توانائی کی تنصیب پر یہ پہلا اسرائیلی حملہ ہے۔
ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی میں اضافہ بین الاقوامی برادری کے لیے تشویشناک : ہندوستان