عظمیٰ ویب ڈیسک
سری نگر/جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے پیر کے روز انڈیا اتحاد کے ارکان سے اپیل کی کہ وہ پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس کے پہلے دن نئی دہلی میں ہونے والے احتجاج میں ان کی حمایت کریں، جس کا مقصد جموں و کشمیر کو ریاست کا درجہ (اسٹیٹ ہُڈ) بحال کرنے کا مطالبہ کرنا ہے۔جموں وکشمیر نیشنل کانفرنس کے مطابق، عمر عبداللہ نے دہلی میں منعقدہ انڈیا بلاک کی میٹنگ کے دوران یہ معاملہ اٹھایا اور اتحادی جماعتوں سے درخواست کی کہ وہ قومی دارالحکومت میں نیشنل کانفرنس کے مجوزہ احتجاج میں شامل ہوں۔ اس اجلاس میں محبوبہ مفتی بھی شریک تھیں۔
نیشنل کانفرنس نے ایک بیان میں کہاکہ “آج منعقدہ انڈیا بلاک کی میٹنگ میں وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے تمام شرکاء سے درخواست کی کہ جب جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس ریاستی درجہ کی بحالی کے لیے دہلی میں احتجاج کرے تو وہ اس میں شامل ہوں۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ہم اس سلسلے میں ہر جماعت کو علیحدہ طور پر بھی خط لکھیں گے۔3 جون کو نیشنل کانفرنس لیجسلیچر پارٹی نے ایک روزہ اجلاس کے بعد متفقہ طور پر فیصلہ کیا تھا کہ پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس کے افتتاحی دن نئی دہلی میں احتجاج کیا جائے گا، جس میں جموں و کشمیر کو فوری طور پر ریاستی درجہ اور آئینی ضمانتیں بحال کرنے کا مطالبہ کیا جائے گا۔
پارٹی نے فیصلہ کیا تھا کہ یہ احتجاج جنتر منتر یا بعد میں طے کیے جانے والے کسی دوسرے مقام پر کیا جائے گا۔جموں و کشمیر میں ریاستی درجہ اور آئینی ضمانتوں کی بحالی کا مطالبہ 5 اگست 2019 کے بعد سے سیاسی مباحثے کا مرکزی موضوع بنا ہوا ہے۔ اسی روز بی جے پی کی قیادت والی مرکزی حکومت نے آرٹیکل 370 کو منسوخ کر کے سابق ریاست جموں و کشمیر کو دو مرکز کے زیر انتظام علاقوں، جموں و کشمیر اور لداخ، میں تقسیم کر دیا تھا۔
اگرچہ مرکزی حکومت بارہا یہ یقین دہانی کرا چکی ہے کہ ’’مناسب وقت‘‘پر ریاستی درجہ بحال کر دیا جائے گا، تاہم نیشنل کانفرنس سمیت علاقائی جماعتیں مکمل ریاستی درجہ کی جلد بحالی اور زمین، روزگار اور شناخت کے تحفظ کے لیے آئینی ضمانتوں کا مطالبہ کرتی رہی ہیں۔