شخصیات
آصف حسین الکشمیری
مولانا نورالدین ترالیؒ کا شمار وادیٔ کشمیر کی اُن ممتاز علمی اور روحانی شخصیات میں ہوتا ہے جنہوں نے ایک طویل عرصے تک تدریس، دعوت، اصلاحِ معاشرہ اور تربیتِ نسل کے میدان میں گراں قدر خدمات انجام دیں۔ آپ علم و عمل کے ایسے پیکر تھے جن کی پوری زندگی اخلاص، تقویٰ، سادگی اور خدمتِ دین سے عبارت تھی۔ انہوں نے نہ صرف علومِ اسلامیہ کی اشاعت میں نمایاں کردار ادا کیا بلکہ اپنی عملی زندگی، حسنِ کردار اور فکری بصیرت کے ذریعے بھی ہزاروں انسانوں کی زندگیوں پر اثرات مرتب کیے۔ آج بھی ترال اور اس کے اطراف میں آپ کا تذکرہ احترام، عقیدت اور محبت کے ساتھ کیا جاتا ہے۔
مولانا نورالدین ترالیؒ ولدِ پیر احمد اللہ 1900ء میں ترال میں پیدا ہوئے۔ ابھی آپ کی عمر صرف چھ ماہ تھی کہ والدین کا سایۂ شفقت سر سے اٹھ گیا اور یوں آپ نے یتیمی کی حالت میں زندگی کا آغاز کیا۔ والدین کی وفات کے بعد آپ نے ضلع اسلام آباد (اننت ناگ) کے علاقے شانگس میں اپنے بچپن کے ایام گزارے۔ یہ وہ دور تھا جب زندگی کی محرومیاں اور مشکلات آپ کے ساتھ ساتھ چل رہی تھیں، مگر قدرت نے آپ کے لیے علم و فضل کی وہ راہیں مقدر کر رکھی تھیں جنہوں نے آگے چل کر آپ کو وادیٔ کشمیر کے ممتاز علماء کی صف میں لا کھڑا کیا۔ نو برس کی عمر میں آپ اپنے آبائی علاقے ترال واپس آئے اور قرآنِ مجید حفظ کرنے کی سعادت حاصل کی۔ فطری ذہانت، غیر معمولی حافظہ اور شوقِ علم نے کم عمری ہی میں آپ کو دینی علوم کی طرف متوجہ کر دیا۔
حفظِ قرآن کے بعد آپ نے سرینگر کا رخ کیا جہاں اُس دور کے جید علماء مولانا محمد حسین وفائیؒ اور مفتی محمد شریف الدینؒ سے نحو، صرف اور دیگر ابتدائی علومِ عربیہ حاصل کیے۔ آپ کی علمی استعداد اور غیر معمولی ذوقِ مطالعہ نے جلد ہی اہلِ علم کو متوجہ کر لیا۔ میرواعظ مولانا محمد یوسف شاہؒ نے آپ کی قابلیت کو محسوس کرتے ہوئے آپ کی تعلیم میں خصوصی دلچسپی لی اور مزید اعلیٰ تعلیم کے حصول کی ترغیب دی۔ چنانچہ 1924ء میں آپ پنجاب کے شہر امرتسر روانہ ہوئے جہاں مولانا عبدالکبیر رینہؒ کے مدرسے میں مسلسل سات برس تک دینی علوم کی تحصیل میں مصروف رہے۔ اس عرصے میں آپ نے عربی زبان و ادب، فقہ، اصولِ فقہ اور دیگر مروجہ علوم میں مضبوط بنیاد قائم کی اور اپنے اساتذۂ کرام سے بھرپور استفادہ کیا۔ یہی علمی سرمایہ بعد میں آپ کی تدریسی اور دعوتی زندگی کی مضبوط اساس ثابت ہوا۔
امرتسر میں ابتدائی اور متوسط دینی تعلیم کی تکمیل کے بعد آپ برصغیر کے عظیم علمی مرکز دارالعلوم دیوبند پہنچے۔ اُس وقت دارالعلوم دیوبند علومِ نبوت کا ایک عظیم سرچشمہ تھا جہاں برصغیر کے نامور علماء تدریسی خدمات انجام دے رہے تھے۔ مولانا نورالدین ترالیؒ نے یہاں شیخ الحدیث حضرت مولانا انور شاہ کشمیریؒ، حضرت مولانا حسین احمد مدنیؒ، حضرت مولانا قاری محمد طیبؒ اور دیگر اکابر علماء سے اکتسابِ فیض کیا۔ علمِ حدیث سمیت مختلف علوم و فنون میں مہارت حاصل کی اور علمی پختگی کے وہ مراحل طے کیے جنہوں نے آپ کو ایک صاحبِ نظر عالمِ دین بنا دیا۔ ظاہری علوم کے ساتھ ساتھ آپ نے روحانی تربیت کی طرف بھی خصوصی توجہ دی۔ آپ کو حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ سے بیعت و اصلاح کا شرف حاصل ہوا اور ان کی روحانی رہنمائی سے استفادہ کیا۔ بعد ازاں حضرت تھانویؒ کے وصال کے بعد ان کے نامور خلیفہ حضرت مولانا مسیح اللہ خانؒ سے تعلق قائم رکھا اور ان کی صحبتوں سے بھی فیض یاب ہوتے رہے۔
دارالعلوم دیوبند سے فراغت کے بعد مولانا نورالدین ترالیؒ کشمیر واپس تشریف لائے اور اپنی پوری زندگی دین اسلام کی خدمت کے لیے وقف کر دی۔ ابتدائی طور پر آپ نے نصرت الاسلام سرینگر میں تقریباً پانچ برس تک تدریسی خدمات انجام دیں۔ اس دوران بے شمار طلبہ نے آپ سے علم حاصل کیا اور آپ کی علمی و روحانی صحبتوں سے فیض یاب ہوئے۔ آپ کی تدریس صرف کتابی معلومات تک محدود نہ تھی بلکہ آپ طلبہ کی فکری، اخلاقی اور روحانی تربیت پر بھی خصوصی توجہ دیتے تھے۔ اسی وجہ سے آپ کے شاگرد آپ کو صرف ایک استاد نہیں بلکہ ایک مربی اور محسن کے طور پر یاد کرتے ہیں۔
1943ء میں ترال کے غیور، باشعور اور مخلص افراد کے تعاون سے دارالعلوم تعلیم الاسلام کا قیام عمل میں آیا۔ اس ادارے کے قیام نے علاقے میں دینی تعلیم کے فروغ کے لیے ایک نئی راہ ہموار کی۔ مولانا نورالدین ترالیؒ اس ادارے کے صدر مدرس مقرر ہوئے اور تقریباً چالیس برس تک اس علمی مرکز کی آبیاری کرتے رہے۔ ہزاروں طلبہ نے یہاں سے دینی تعلیم حاصل کی اور بعد ازاں مختلف شعبوں میں خدمات انجام دے کر اپنے ادارے اور اساتذہ کا نام روشن کیا۔ 1983ء تک آپ مسلسل درس و تدریس، دعوت و اصلاح اور دینی رہنمائی کے فرائض انجام دیتے رہے اور اپنی زندگی کا ہر لمحہ علمِ دین کی خدمت میں صرف کیا۔
مولانا نورالدین ترالیؒ کتاب و سنت کے سچے داعی تھے۔ آپ نے پوری زندگی توحید، اتباعِ سنت اور اصلاحِ عقائد کی دعوت دی۔ بدعات اور خرافات کے خلاف ہمیشہ علمی، مدلل اور حکیمانہ انداز اختیار کیا اور لوگوں کو قرآن و سنت کی طرف متوجہ کرنے کی کوشش کی۔ ترال اور اس کے گرد و نواح میں دینی بیداری، اصلاحِ معاشرہ اور دعوتِ توحید کے فروغ میں آپ کی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔ آپ اختلافات کو ہوا دینے کے بجائے اتحاد، اتفاق اور اخوتِ اسلامی کے داعی تھے اور لوگوں کو ایک پرچم تلے جمع دیکھنے کی تمنا رکھتے تھے۔
آپ علم کے سمندر تھے، مگر علم کے اس بلند مقام پر پہنچنے کے باوجود مطالعہ اور تحقیق سے کبھی بے نیاز نہیں ہوئے۔ کتاب آپ کی دائمی رفیق تھی اور ڈائری آپ کی ہمراز۔ سفر ہو یا حضر، مطالعہ اور قلم ہمیشہ آپ کے ساتھ رہتے تھے۔ علامہ محمد اقبالؒ کی کلیاتِ اقبال اور حضرت مولانا جلال الدین رومیؒ کی مثنوی سے آپ کو خاص شغف تھا۔ ان دونوں بزرگوں کے اشعار اکثر آپ کی زبان پر جاری رہتے تھے اور وعظ، نصیحت، تدریس اور گفتگو کے دوران کسی نکتے کی وضاحت کے لیے برمحل ان کے اشعار پیش کیا کرتے تھے۔ اس سے آپ کی گفتگو میں علمی گہرائی، فکری وسعت اور روحانی تاثیر مزید بڑھ جاتی تھی۔
22 جنوری 1993ء کو یہ مردِ درویش اپنے ربِ حقیقی سے جا ملا۔ جمعہ کا مبارک دن تھا۔ مولانا نورالدین ترالیؒ حسبِ معمول نمازِ جمعہ کی ادائیگی کے لیے مسجد تشریف لے گئے۔ نماز سے قبل حاضرین کو نماز کی فضیلت، اس کی اہمیت اور مومن کی زندگی میں اس کے مقام و مرتبے کے حوالے سے مختصر مگر نہایت مؤثر نصیحت فرمائی۔ ابھی نمازِ جمعہ کا مبارک اجتماع جاری تھا کہ اسی دوران اللہ تعالیٰ کے اس نیک بندے کی روح اپنے مالکِ حقیقی کی طرف پرواز کر گئی۔ یوں ایک ایسی بابرکت زندگی، جو علم، عمل، دعوت، تدریس، ذکرِ الٰہی اور خدمتِ دین سے عبارت تھی، نماز کی حالت میں اپنے اختتام کو پہنچی۔ اہلِ ایمان کے نزدیک اس سے بڑی سعادت اور کیا ہو سکتی ہے کہ انسان اپنے رب کے حضور عبادت میں مشغول ہو اور اسی حالت میں دنیا سے رخصت ہو جائے۔
مولانا نورالدین ترالیؒ کو ان کے آبائی علاقے ترال میں سپردِ خاک کیا گیا۔ آپ کی رحلت کی خبر پورے علاقے میں غم و اندوہ کی لہر بن کر پھیل گئی۔ علماء، طلبہ، عقیدت مندوں اور عام لوگوں نے ایک ایسے معلم، مربی، داعی اور محسن کو کھو دیا جس نے اپنی پوری زندگی دینِ اسلام کی سربلندی اور انسانیت کی بھلائی کے لیے وقف کر رکھی تھی۔ اگرچہ آج وہ ہمارے درمیان موجود نہیں، مگر ان کے علمی نقوش، دینی خدمات، تربیت یافتہ شاگرد اور نیک یادیں آج بھی زندہ ہیں اور ان شاء اللہ آنے والی نسلوں تک زندہ رہیں گی۔
رابطہ۔: 9797888975
[email protected]
�����������������