ڈاکٹر شگفتہ خالدی
وادیٔ کشمیر کی خوبصورتی دنیا بھر میں مشہور ہے مگر افسوس کہ یہاں کی سڑکوں کی حالت روز بروز بد سے بدتر ہوتی جا رہی ہے۔ سرینگر شہر سمیت کشمیر کے تقریباً ہر ضلع قصبے اور دیہات میں ٹوٹی پھوٹی سڑکیں عوام کے لیے ایک بڑا مسئلہ بن چکی ہیں۔ جگہ جگہ گڑھے، اکھڑی ہوئی سڑکیں ناقص تعمیر اور بارش کے بعد پانی سے بھرے راستے نہ صرف عوام کے لیے باعث ِ تکلیف ہیں بلکہ مریضوں، بزرگوں، طلبہ اور مسافروں کے لیے ایک عذاب بن گئے ہیں۔سرینگر کے کئی علاقوں میں سڑکیں خستہ حال ہیں، شہر کے اندرونی علاقوں سے لے کر مضافاتی علاقوں تک کےباشندگان کے لئے یہ سڑکیں مشکلات کا سبب بنی ہوئی ہیں۔ کئی مقامات پران سڑکوں پر گاڑی چلانا تو دور، پیدل چلنا بھی دشوار ہو چکا ہے۔ یہی حال شمالی، جنوبی اور وسطی کشمیر کے اضلاع کا بھی ہے جہاں عوام برسوں سے بہتر سڑکوں کی مانگ کر رہی ہے مگر زمینی سطح محدود پیمانے کام ہورہا ہے۔
بارش کے دنوں میں صورتحال سنگین ہو جاتی ہے۔ سڑکوں پر پانی جمع ہونے سے بڑے بڑے گڑھے چھپ جاتے ہیں جس کے نتیجے میں حادثات پیش آتے ہیں۔ مریضوں کو اسپتال پہنچانے میں تاخیر ہوتی ہے کیونکہ ایمبولینسیں خراب سڑکوں میں پھنس جاتی ہیں۔ دیہی علاقوں میں بعض مقامات ایسے ہیں جہاں مریضوں کو چارپائیوں پر اٹھا کر سڑک تک لانا پڑتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ آخر عوام کب تک یہ تکلیف برداشت کرے گی۔طلبہ بھی شدید متاثر ہو رہے ہیں، اسکول اور کالج جانے والے بچے روزانہ دھول کیچڑ اور ٹریفک جام کا سامنا کرتے ہیں۔ بارش کے بعد کئی علاقوں میں سڑکیں تالاب کا منظر پیش کرتی ہیں۔ جس سےدکاندار اور تاجر طبقہ پریشان ہوجاتا ہے کیونکہ خراب سڑکوں کی وجہ سے اُن کا کاروبار متاثر ہوتا ہے۔ہر سال کروڑوں روپے سڑکوں کی تعمیر و مرمت کے نام پر مختص کئے جاتے ہیں مگر چند ماہ بعد ہی سڑکیں دوبارہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جاتی ہیں۔ اس سے تعمیراتی کاموں کے معیار پر سوالیہ نشان لگ جاتا ہے۔ اگر کام ایمانداری اور معیاری طریقے سے ہو تو سڑکیں برسوں تک قائم رہ سکتی ہیں۔ لیکن بدقسمتی سے اکثر مقامات پر جلد بازی، ناقص میٹریل اور نگرانی کی کمی کے باعث عوام کے لئے باعث عذاب بن جاتی ہیں۔ٹریفک جام بھی ایک بڑا مسئلہ بن چکا ہے۔ خراب سڑکوں کی وجہ سے گاڑیوں کی رفتار سست ہو جاتی ہے اور کئی علاقوں میں گھنٹوں جام رہتا ہے۔ مریض ملازمین طلبہ اور عام مسافر شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوتے ہیں۔ خاص طور پر اسپتالوں کے آس پاس کی سڑکوں کی حالت بہتر ہونا بے حد ضروری ہے تاکہ ایمرجنسی کی صورت میں کسی کی جان خطرے میں نہ پڑے۔
حکمرانوں اور متعلقہ محکموں کو اب خوابِ خرگوش سے جاگنا ہوگا۔ صرف اعلانات اور بیانات سے مسئلے حل نہیں ہوں گے۔ زمینی سطح پر فوری اور مؤثر اقدامات کی ضرورت ہے۔ جن سڑکوں کی حالت انتہائی خراب ہے وہاں ہنگامی بنیادوں پر مرمت کا کام شروع کیا جانا چاہیے۔ ساتھ ہی تعمیراتی کاموں کی نگرانی سخت کی جائے تاکہ عوام کے پیسے کا صحیح استعمال ہو سکے۔اچھی سڑکیں کسی بھی علاقے کی ترقی میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ بہتر سڑکوں سے تجارت، سیاحت، تعلیم اور صحت کے شعبے مضبوط ہوتے ہیں۔ کشمیر جیسے سیاحتی خطے میں خراب سڑکیں نہ صرف مقامی عوام بلکہ سیاحوں کے لیے بھی مشکلات پیدا کرتی ہیں۔ اگر حکومت واقعی ترقی کے دعوے کرتی ہے تو سب سے پہلے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانا ہوگا۔ضرورت اس بات کی ہے کہ عوامی مسائل کو ترجیح دی جائے۔ لوگوں کو صاف محفوظ اور بہتر سڑکیں فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ عوام ٹیکس دیتی ہے اور بدلے میں بنیادی سہولیات کی توقع رکھتی ہے۔ متعلقہ حکام میدان میں آئیں اور سرینگر سمیت پورے کشمیر میں سڑکوں کی حالت بہتر بنانے کے لیے سنجیدہ اقدامات کریں تاکہ عوام کو راحت مل سکے۔
������������������