عظمیٰ ویب ڈیسک
سرینگر/جموں و کشمیر اینٹی کرپشن بیورو (اے سی بی) نے سنٹر آف ایکسیلینس زاووَرا گارڈن، سرینگر میں انجام دیے گئے ترقیاتی کاموں میں مبینہ مالی بے ضابطگیوں، قواعد کی خلاف ورزیوں اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے معاملے میں ایک بدعنوانی کیس درج کیا ہے۔اے سی بی کے مطابق پولیس اسٹیشن اے سی بی سرینگر کی جانب سے مشترکہ اچانک جانچ (جوائنٹ سرپرائز چیک) کے بعد یہ کارروائی عمل میں لائی گئی۔ جانچ کا مقصد باغبانی محکمہ کے تحت انجام دیے گئے کاموں میں مبینہ بے ضابطگیوں کی تحقیقات کرنا تھا۔تحقیقات کے دوران ابتدائی طور پر ٹینڈرنگ اور کاموں کی عمل آوری کے عمل میں سنگین بے ضابطگیوں کے شواہد سامنے آئے ہیں۔
اے سی بی کے مطابق نوٹس اِن وائٹنگ ٹینڈر (NIT) کو مبینہ طور پر واضح معیار اور تکنیکی تفصیلات کے بغیر تیار کیا گیا، جس سے من مانی فیصلوں کی گنجائش پیدا ہوئی۔ مزید یہ کہ ٹینڈر میں شامل مالی تخمینے منظور شدہ ڈیٹیلڈ پروجیکٹ رپورٹ (DPR) کے مقابلے میں کہیں زیادہ رکھے گئے تھے۔تحقیقات میں یہ بھی انکشاف ہوا کہ مالیاتی ٹرن اوور سے متعلق اہلیت کی شرط غیر معمولی طور پر زیادہ مقرر کی گئی تھی، حالانکہ اصل منصوبے کی ضرورت اس سے کہیں کم تھی۔ اے سی بی کے مطابق اس شرط نے مقابلہ محدود کر دیا اور مبینہ طور پر ایک مخصوص بولی دہندہ کو فائدہ پہنچایا۔
اے سی بی کا کہنا ہے کہ دستیاب شواہد سے سرکاری عہدے کے ناجائز استعمال، مجرمانہ بدعنوانی اور مجرمانہ سازش کا ابتدائی طور پر پتہ چلتا ہے، جس میں سرکاری ملازمین اور ایک نجی فرم ملوث ہیں۔ اس عمل سے ٹھیکیدار کو ناجائز مالی فائدہ پہنچا جبکہ سرکاری خزانے کو نقصان ہوا۔
اس سلسلے میں پولیس اسٹیشن اے سی بی سرینگر میں ایف آئی آر نمبر 09/2026 جموں و کشمیر انسدادِ بدعنوانی ایکٹ اور دفعہ 120-بی آر پی سی کے تحت درج کی گئی ہے۔ مقدمے میں اُس وقت کے ڈائریکٹر ہارٹیکلچر کشمیر، ضلعی سطحی خریداری کمیٹی (DLPC) کے ارکان، انسپکشن کمیٹی کے اراکین، فائدہ اٹھانے والی کمپنی M/S Fruit Master Agro Fresh Pvt. Ltd. اور دیگر متعلقہ افراد کو نامزد کیا گیا ہے۔اے سی بی نے کہا کہ معاملے کی مزید تحقیقات جاری ہیں تاکہ تمام متعلقہ افراد کے کردار اور ذمہ داری کا تعین کر کے قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
باغبانی منصوبوں میں مبینہ بدعنوانی کا الزام،اے سی بی نے سابق ڈائریکٹر ہارٹیکلچر سمیت کئی افراد کے خلاف کیس درج کیا