محتشم احتشام
پونچھ//ضلع پونچھ کی تحصیل منڈی کے دور افتادہ علاقے ڈنوگام میں واقع گورنمنٹ ہائی سکول میں اضافی کمروں کی تعمیر کا کام جاری ہے، تاہم مقامی آبادی نے منصوبے کے تعمیراتی معیار پر سنگین تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے انتظامیہ سے فوری مداخلت کی اپیل کی ہے۔علاقہ مکینوں کے مطابق سکول میں تعمیر ہونے والے اضافی کمروں کی دیواروں میں ضرورت سے زیادہ پتھر استعمال کیے جا رہے ہیں، جس سے عمارت کی مضبوطی اور پائیداری پر سوالات جنم لے رہے ہیں۔
مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ تعلیمی اداروں کی بنیادی سہولیات کو بہتر بنانے کے لیے حکومت کی جانب سے خطیر فنڈز فراہم کیے جاتے ہیں، لیکن اگر تعمیراتی کام میں مقررہ معیار اور تکنیکی اصولوں کو نظر انداز کیا جائے تو نہ صرف سرکاری وسائل ضائع ہوں گے بلکہ طلبہ کے لیے محفوظ تعلیمی ماحول کی فراہمی بھی متاثر ہو سکتی ہے۔عوامی حلقوں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر تعمیراتی کام میں غیر معیاری مواد یا ناقص طریقہ کار اختیار کیا گیا تو مستقبل میں عمارت کی ساختی مضبوطی خطرے میں پڑ سکتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ دیہی اور پسماندہ علاقوں میں تعلیمی ڈھانچے کی بہتری حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے، اس لیے ایسے ترقیاتی منصوبوں میں شفافیت اور معیار کو ہر صورت یقینی بنایا جانا چاہیے۔مقامی باشندوں نے مزید کہا کہ ترقیاتی منصوبوں میں کسی بھی قسم کی کوتاہی نہ صرف عوامی اعتماد کو مجروح کرتی ہے بلکہ حکومتی منصوبہ بندی اور فنڈز کے مؤثر استعمال پر بھی سوالیہ نشان کھڑا کرتی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ متعلقہ محکمہ تعمیرات اور اعلیٰ حکام فوری طور پر موقع کا معائنہ کریں اور تعمیراتی کام کے معیار کا تکنیکی جائزہ لیا جائے۔عوام نے ضلع انتظامیہ، بالخصوص ڈپٹی کمشنر پونچھ سے اپیل کی ہے کہ معاملے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں اور اگر کسی قسم کی بے ضابطگی یا غفلت ثابت ہو تو ذمہ دار عناصر کے خلاف قانونی اور محکمانہ کارروائی عمل میں لائی جائے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ سکول کی عمارت کی تعمیر میں معیار، شفافیت اور حفاظتی تقاضوں پر کوئی سمجھوتہ نہ کیا جائے تاکہ طلبہ کو بہتر اور محفوظ تعلیمی سہولیات میسر آ سکیں۔