شدید بارش کے بعد دور افتادہ گاؤں بتھوئی میں جمسلان ندی میں طغیانی، کئی مکانات بری طرح متاثر
سمت بھارگو
ریاسی //ریاسی ضلع کے مہور سب ڈویژن کے دور افتادہ گاؤں بتھوئی میں اچانک آنے والے سیلاب نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی، جس کے نتیجے میں متعدد مکانات اور دیگر ڈھانچوں کو شدید نقصان پہنچا ہے جبکہ انتظامیہ نے احتیاطی اقدام کے طور پر کم از کم چالیس افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا ہے۔جمعرات کے روز علاقے میں اچانک موسلادھار بارش ہوئی جس کے بعد جمسلان ندی میں شدید طغیانی آ گئی۔ ندی میں پانی کے ساتھ بھاری مقدار میں مٹی، پتھر اور ملبہ بھی بہہ کر آبادی والے علاقوں میں داخل ہو گیا جس کے باعث کئی مکانات اور دیگر تعمیرات متاثر ہوئیں۔مقامی لوگوں کے مطابق سیلابی پانی نے اچانک بستیوں کا رخ کیا جس سے لوگوں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ کئی خاندانوں کو اپنے گھروں سے نکل کر محفوظ مقامات کی طرف جانا پڑا۔ سیلاب کے باعث بعض مکانات کو شدید نقصان پہنچا جبکہ کچھ مکانات مکمل طور پر تباہ ہونے کی اطلاعات بھی موصول ہو رہی ہیں۔سب ڈویژنل مجسٹریٹ مہور، شفقت مجید نے واقعہ کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ خوش قسمتی سے اس قدرتی آفت میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی، تاہم املاک کو کافی نقصان پہنچا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ابتدائی اطلاعات کے مطابق متعدد ڈھانچے متاثر ہوئے ہیں اور کئی مکانات بری طرح نقصان زدہ ہوئے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ابھی نقصانات کا مکمل تخمینہ لگانا ممکن نہیں کیونکہ دور دراز علاقوں سے مسلسل اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔ ابتدائی رپورٹوں میں نصف درجن سے زائد مکانات کے متاثر ہونے کی بات سامنے آئی تھی لیکن امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ متاثرہ گھروں کی تعداد میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔ایس ڈی ایم مہور نے بتایا کہ انتظامیہ، پولیس اور مقامی رضاکار فوری طور پر متحرک ہو گئے تھے اور احتیاطی تدابیر کے تحت تقریباً چالیس افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا۔ متاثرہ خاندانوں کے لیے عارضی رہائش اور ضروری امدادی سامان کی فراہمی کے اقدامات بھی شروع کر دیے گئے ہیں۔ادھر جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر نے بھی صورتحال کا نوٹس لیتے ہوئے ضلع ترقیاتی کمشنر ریاسی سے رابطہ قائم کیا اور متاثرہ خاندانوں کو فوری امداد فراہم کرنے کی ہدایت دی۔لیفٹیننٹ گورنر نے اپنے سرکاری بیان میں کہا کہ انہوں نے گاؤں بتھوئی میں بادل پھٹنے اور اچانک سیلاب کے بعد صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے ضلع ترقیاتی کمشنر ریاسی سے بات کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ کئی مکانات کو نقصان پہنچا ہے لیکن خوش قسمتی سے کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔انہوں نے مزید کہا کہ انتظامیہ کو ہدایت دی گئی ہے کہ متاثرہ خاندانوں کو فوری راحت اور ہر ممکن امداد فراہم کی جائے تاکہ انہیں اس مشکل وقت میں کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔دریں اثنا، مقامی انتظامیہ کی جانب سے متاثرہ علاقوں میں نگرانی کا عمل جاری ہے جبکہ لوگوں کو ندی نالوں کے قریب نہ جانے اور احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی اپیل کی گئی ہے۔ موسم کی خراب صورتحال کے پیش نظر حکام نے مزید بارشوں کے امکان کو دیکھتے ہوئے الرٹ جاری رکھا ہوا ہے۔