عظمیٰ نیوز سروس
سرینگر// مرکزی حکومت نے مغربی ایشیا میں جاری کشیدگی اور اس کے نتیجے میں فضائی ایندھن (ایوی ایشن ٹربائن فیول ۔ اے ٹی ایف) کی قیمتوں میں اضافے کے پیش نظر ہندوستانی فضائی کمپنیوں کو راحت فراہم کرنے کے لیے 10 ہزار کروڑ روپے کی ایک مرتبہ مالی امداد کی منظوری دے دی ہے۔بدھ کے روز مرکزی وزیر اطلاعات و نشریات اشونی ویشنو نے اس فیصلے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ یہ امداد آئل مارکیٹنگ کمپنیوں (او ایم سیز) کو فراہم کی جائے گی تاکہ وہ فضائی ایندھن کی قیمتوں کو مستحکم رکھ سکیں اور ملکی و بین الاقوامی پروازیں چلانے والی فضائی کمپنیوں پر بڑھتے ہوئے مالی بوجھ کو کم کیا جا سکے۔وزیر کے مطابق مغربی ایشیا میں جاری تنازعہ کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل اور فضائی ایندھن کی قیمتوں میں غیر یقینی صورتحال پیدا ہوئی ہے، جس کا براہ راست اثر ہندوستانی فضائی شعبے پر بھی پڑ رہا ہے۔ اس کے علاوہ پاکستان کی جانب سے ہندوستانی فضائی کمپنیوں کے لیے اپنی فضائی حدود بند کیے جانے کے باعث کئی بین الاقوامی پروازوں کے راستے طویل ہو گئے ہیں، جس سے ایندھن کی کھپت اور آپریشنل اخراجات میں مزید اضافہ ہوا ہے۔
حکومت کی جانب سے منظور شدہ 10 ہزار کروڑ روپے کی رقم آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کو بلا سود امداد کے طور پر فراہم کی جائے گی۔ اس مالی معاونت کا مقصد اے ٹی ایف کی قیمتوں میں اچانک اضافے کو روکنا اور فضائی کمپنیوں کو نسبتاً مستحکم نرخوں پر ایندھن کی فراہمی یقینی بنانا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ فضائی ایندھن کسی بھی ایئرلائن کے مجموعی آپریشنل اخراجات کا ایک بڑا حصہ ہوتا ہے اور اس کی قیمتوں میں معمولی اضافہ بھی فضائی کمپنیوں کی مالی حالت اور مسافروں کے کرایوں پر نمایاں اثر ڈال سکتا ہے۔ ایسے میں حکومت کا یہ اقدام فضائی شعبے کے لیے ایک اہم ریلیف کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔سرکاری ذرائع کے مطابق حکومت کی کوشش ہے کہ موجودہ بین الاقوامی حالات کے باوجود فضائی خدمات کی روانی برقرار رہے اور مسافروں پر اضافی مالی بوجھ منتقل نہ ہو۔ توقع ظاہر کی جا رہی ہے کہ اس فیصلے سے نہ صرف ایئرلائنز کو استحکام حاصل ہوگا بلکہ ملکی فضائی شعبے میں خدمات کے تسلسل اور مسابقت کو بھی فروغ ملے گا۔