عظمیٰ نیوز سروس
ممبئی //مغربی ایشیا میں جاری تنازع کے درمیان شیئر بازار میں بدھ کے روز ایک بار پھر بڑی گراوٹ دیکھنے کو ملی ہے۔ سینسیکس
-نفٹی دونوں انڈیکس اپنے سابقہ بند کے مقابلے کل بری طرح پھسل کر کھلے۔ بامبے اسٹاک ایکسچینج کا 30 شیئروں والا سینسیکس دیکھتے ہی دیکھتے 800 پوائنٹس سے زیادہ کا غوطہ لگا گیا، تو وہیں نیشنل اسٹاک ایکسچینج کا نفٹی بھی 200 پوائنٹس سے زیادہ کی گراوٹ کے ساتھ کاروبار کر رہا تھا۔ اس دوران ا?ئی ٹی شیئر، جو گزشتہ کاروباری دن کھلبلی مچائے ہوئے تھے، اچانک کریش ہو گئے۔
اس میں ٹی سی ایس سے لے کر انفوسس تک شامل ہیں۔شیئر بازار میں شروعاتی کاروبار پر نظر ڈالیں تو مثبت عالمی اشاروں کے باوجود ہندوستانی اسٹاک مارکیٹ کریش ہو گئی۔ بی ایس ای کا سینسیکس اپنے گزشتہ بند 74,649.84 کی سطح سے بری طرح پھسل کر 74,507 پر کھلا اور پھر کچھ ہی منٹوں میں یہ 890 پوائنٹس کی گراوٹ کے ساتھ 73,759 کی سطح پر کاروبار کرتا نظر ا?یا۔ این ایس ای نفٹی کی رفتار بھی سینسیکس جیسی ہی رہی۔ یہ 50 شیئروں والا انڈیکس اپنے گزشتہ بند 23,483 کی سطح سے پھسل کر اچانک 23,244 کی سطح پر کاروبار کرتا ہوا نظر ا?یا۔شیئر بازار میں بدھ کے روز سینسیکس-نفٹی میں اچانک مچے کہرام کے پیچھے کے اسباب پر نظر ڈالیں تو اس کے پس منظر میں امریکہ-ایران امن معاہدے کے حوالے سے جاری غیر یقینی صورتحال سب سے اہم ہے۔ اس درمیان خام تیل کی قیمتوں میں بھاری اتھل پتھل نظر ا? رہا ہے جو گزشتہ روز ٹوٹنے کے بعد اب پھر سے چھلانگ لگاتی ہوئی نظر ا? رہی ہے۔ تادم تحریر خام تیل کی قیمت 97 ڈالر فی بیرل کے قریب تھی۔ دوسری طرف غیر ملکی سرمایہ کاروں کی طرف سے جاری لگاتار بکوالی سے بھی ہندوستانی شیئر بازار دباو? کا شکار ہے۔