ثاقب ملک
سرینگر// سرینگر بین الاقوامی ہوائی اڈے پر رن وے کی مرمت کے کام کے باعث جہاں حال ہی میں حج سے واپس آنے والے عازمین کے سامان کی ترسیل میں مشکلات سامنے آئیں، وہیں اب ہوائی اڈہ آئندہ تین ماہ کے دوران ہر ہفتے دو دن بند رہے گا۔ایئرپورٹس اتھارٹی آف انڈیا سرینگر کے ڈائریکٹر جاوید انجم کے مطابق جولائی سے ستمبر کے اختتام تک ہر پیر اور منگل کو سرینگر ہوائی اڈے پر مسافر پروازوں کی آمد و رفت معطل رہے گی۔انہوں نے کہا، ’’ہمیں باضابطہ اطلاع موصول ہوئی ہے کہ رن وے کی مرمت کے باعث جولائی، اگست اور ستمبر کے دوران ہر پیر اور منگل کو مسافر پروازوں کے آپریشن متاثر رہیں گے‘‘۔قابل ذکر ہے کہ فضائیہ کی جانب سے فروری میں ایئرپورٹس اتھارٹی آف انڈیا اور سرینگر کے لیے خدمات انجام دینے والی تمام ایئرلائنز کو ایک مکتوب جاری کیا گیا تھا، جس میں کہا گیا تھا کہ رن وے کی ازسرِ نو سطح سازی (ری سرفیسنگ) کے کام کے سبب یکم اگست سے 15اکتوبر تک ہر ہفتے ہفتہ اور اتوار کے دن ہوائی اڈہ بند رہے گا۔تاہم ہوائی اڈے کے حکام نے تصدیق کی ہے کہ پہلے سے طے شدہ بندش کے دنوں میں تبدیلی کر دی گئی ہے۔
ایک سینئر عہدیدارنے بتایا ’’اب ہفتہ اور اتوار کے بجائے یکم جولائی سے ہر پیر اور منگل کو ہوائی اڈہ بند رہے گا اور یہ سلسلہ تین ماہ تک جاری رہے گا‘‘۔انہوں نے مزید کہا کہ اکتوبر کے بعد ہوائی اڈے کے آپریشن سے متعلق حتمی فیصلہ بعد میں لیا جائے گا۔اس سے قبل بھی رن وے کی مرمت کے کام کے لیے اپریل سے جولائی کے درمیان سرینگر ہوائی اڈے پر پروازی سرگرمیوں کو محدود کیا گیا تھا۔فضائیہ کی جانب سے جاری کردہ نوٹس ٹو ایئرمین (NOTAM) میں کہا گیا تھا کہ اپریل کے پہلے ہفتے سے شروع ہونے والے رن وے کے کام کے باعث 6 اپریل سے 31جولائی تک مسافر پروازوں کے اوقاتِ کار عارضی طور پر شام 5 بجے تک محدود رہیں گے۔اس پابندی سے قبل سرینگر ہوائی اڈے پر روزانہ تقریباً 60 پروازیں (آمد اور روانگی) صبح 8 بجے سے رات 10 بجے تک چلائی جاتی تھیں۔تاہم آپریشنل اوقات صبح 8 بجے سے شام 5 بجے تک محدود کیے جانے کے باوجود پروازوں کی تعداد میں کمی نہیں آئی، بلکہ بعض اوقات اس میں اضافہ بھی ہوا۔اس وقت سرینگر ہوائی اڈے پر روزانہ تقریباً 35 سے 40 پروازوں کی آمد ریکارڈ کی جا رہی ہے۔ایئرپورٹس اتھارٹی آف انڈیا نے پہلے وضاحت کی تھی کہ ’’اگرچہ آپریشنل اوقات کم ہوں گے، لیکن ڈی جی سی اے کے منظور شدہ سمر شیڈول کے مطابق پروازوں کی تعداد میں اضافہ متوقع ہے اور ایئرلائنز نئی ٹائمنگ کے مطابق اپنی پروازوں کی منصوبہ بندی کریں گی۔‘‘
سیاحتی شعبے کو دھچکے کا خدشہ
نامناسب فیصلہ:چایا،بکنگ منسوخ ہونیکاامکان:سیاح
مکیت اکملی
سرینگر// سرینگر ہوائی اڈے پر جولائی سے ستمبر تک ہر ہفتے دو دن مسافر پروازوں کی معطلی کے فیصلے نے کشمیر کے سیاحتی اور سفری شعبے سے وابستہ افراد میں شدید تشویش پیدا کر دی ہے۔سیاحتی صنعت سے وابستہ افراد کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ وادی کے اہم سیاحتی سیزن کو متاثر کر سکتا ہے، جس سے بکنگ منسوخ ہونے، سفری مشکلات بڑھنے اور مالی نقصان کا اندیشہ ہے۔جموں و کشمیر ہوٹلیئرز کلب کے صدر مشتاق احمد چایا نے کہا کہ ایسے وقت میں یہ فیصلہ سامنے آیا ہے جب کشمیر میں سیاحت بتدریج بحال ہو رہی تھی۔انہوں نے کہا، ’’سیاحت دوبارہ رفتار پکڑ رہی تھی، لیکن اس فیصلے سے یہ عمل متاثر ہوگا۔ ہم حکومت اور متعلقہ حکام سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ مرمتی کام کے لیے کوئی متبادل طریقہ اختیار کریں‘‘۔چایا کے مطابق وادی کے واحد سول ہوائی اڈے کو ہر ہفتے دو دن بند رکھنے سے نہ صرف سیاحوں بلکہ مقامی لوگوں کے سفری منصوبے بھی متاثر ہوں گے۔انہوں نے تجویز دی کہ مکمل بندش کے بجائے مخصوص اوقات میں پروازیں چلانے اور باقی وقت مرمتی کام انجام دینے کے امکانات پر غور کیا جانا چاہیے۔ٹریول ایجنٹس سوسائٹی آف کشمیر (TASK) کے صدر محمد ابراہیم سیاح نے اس فیصلے کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس حوالے سے سیاحتی شعبے کے نمائندوں سے کوئی مشاورت نہیں کی گئی۔
انہوں نے کہا ’’اگر ہفتے کے سات دنوں میں سے دو دن ہوائی اڈہ بند رہے گا تو بکنگ منسوخ ہوں گی اور باقی دنوں میں مسافروں کا غیر معمولی رش پیدا ہوگا‘‘۔سیاح کے مطابق سرینگر ہوائی اڈہ پہلے ہی گنجائش کے مسائل سے دوچار ہے اور محدود دنوں میں بڑھتے ہوئے مسافروں کو سنبھالنا مشکل ہو سکتا ہے۔ٹریول ایجنٹ فرح راشد نے بھی خدشہ ظاہر کیا کہ اس فیصلے سے سیاحوں کے سفری منصوبے متاثر ہوں گے اور بہت سے لوگ اپنے دورے منسوخ یا ملتوی کر سکتے ہیں۔انہوں نے کہا ’’بہت سے سیاح مختصر دورانیے کے لیے کشمیر آتے ہیں۔ مقررہ دنوں میں ہوائی اڈے کی بندش ان کے پروگراموں میں خلل ڈال سکتی ہے، خاص طور پر خاندانوں اور گروپ سیاحوں کے لیے‘‘۔فرح راشد کے مطابق ٹریول ایجنٹس کو بھی پروازوں، ہوٹلوں اور مقامی ٹرانسپورٹ کی نئی ترتیب بنانی پڑے گی، جس سے اخراجات اور مشکلات میں اضافہ ہوگا۔سیاحتی شعبے کے نمائندوں نے حکام سے اپیل کی ہے کہ وہ بندش کے شیڈول پر نظرِ ثانی کریں یا مرحلہ وار مرمتی کام انجام دیں تاکہ کشمیر کے اہم سیاحتی موسم کے دوران فضائی رابطے میں کم سے کم خلل آئے۔ان کا کہنا ہے کہ فضائی رابطے میں طویل تعطل سیاحوں کی آمد، ہوٹلوں کی بکنگ اور سیاحت سے وابستہ دیگر کاروباروں پر منفی اثرات مرتب کر سکتا ہے۔