سیدرضوان گیلانی
سرینگر//جموں و کشمیر کے محکمہ سکولی تعلیم کو گزشتہ مالی سال کے دوران مرکزی معاونت یافتہ اسکیم سماگرا شکشا کے تحت وزارتِ تعلیم، حکومتِ ہند کی جانب سے منظور شدہ گرانٹس کا صرف 20 فیصد حصہ ہی جاری کیا گیا۔ایک اعلیٰ سرکاری افسر نے کشمیرعظمیٰ کو بتایا کہ فنڈز میں یہ کمی صرف جموں و کشمیر تک محدود نہیں تھی بلکہ دیگر ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو بھی اسی صورتحال کا سامنا کرنا پڑا۔افسر کے مطابق گزشتہ پروجیکٹ اپروول بورڈ (PAB) اجلاس میںمحکمہ سکولی تعلیم و خواندگی (DSEL) نے سالانہ ورک پلان اور بجٹ کے تحت تقریباً 2500 کروڑ روپے مختص کیے تھے، تاہم صرف 500 کروڑ روپے جاری کیے گئے جو اسکیم کی پہلی قسط تھی۔انہوں نے کہا،’’فنڈز عام طور پر سہ ماہی بنیادوں پر چار قسطوں میں جاری کیے جاتے ہیں، لیکن گزشتہ مالی سال میں ہمیں مجموعی منظور شدہ رقم کا صرف 20 فیصد حصہ ملا۔‘‘موجودہ مالی سال کے لیے تازہ PABاجلاس 26 مئی 2026 کو وزارتِ تعلیم کے سیکریٹری کی صدارت میں منعقد ہوا۔ افسر نے بتایا کہ محکمہ نے گزشتہ مالی سال میں موصول ہونے والے فنڈز کے 100 فیصد استعمال کی تفصیلات اجلاس میں پیش کیں۔انہوں نے کہا کہ یہ اجلاس پہلے 7 مئی 2026 کو منعقد ہونا تھا لیکن بعد میں اسے مؤخر کرکے 26 مئی کو منعقد کیا گیا۔افسر نے مزید بتایا کہ حالیہ PAB اجلاس میںتعمیراتی کاموں کے لیے کوئی گرانٹ منظور نہیں کی گئی کیونکہ وزارتِ تعلیم نے مطلع کیا ہے کہ ستمبر تک اس اسکیم کا نام تبدیل کیے جانے کا امکان ہے۔ اس کے بعد تعمیراتی منصوبوں کے لیے فنڈز جاری کیے جائیں گے۔ان کے مطابق موصول ہونے والے 500 کروڑ روپے میں سے تقریباً 6.75 کروڑ روپے جموں و کشمیر کے سکولوں میں کام کرنے والی آیا ورکرز کی تنخواہوں پر خرچ کیے جاتے ہیں۔افسر نے کہا کہ فنڈز میں کمی مختلف وجوہات کی بنا پر تمام ریاستوں میں کی گئی، تاہم جموں و کشمیر کے تعلیمی شعبے میں اصلاحات کے لیے کئی منصوبے زیر غور ہیں۔انہوں نے بتایا کہ وزارتِ تعلیم آنگن واڑی مراکز کو پری پرائمری کلاسوں کے ساتھ ضم کرنے اور موجودہ انسانی وسائل کو سکولوں میں مؤثر انداز میں استعمال کرنے پر بھی غور کر رہی ہے۔اس سلسلے میں جموں و کشمیر کے چیف سیکریٹری اس اقدام کا جائزہ لینے اور وزارتِ تعلیم کی جانب سے منعقد کی جانے والی ایک کانفرنس میں شرکت کرنے والے ہیں۔افسر کے مطابق یہ ماڈل ملک کی مختلف ریاستوں میں پہلے ہی نافذ کیا جا چکا ہے اور امکان ہے کہ جلد ہی اسے جموں و کشمیر میں بھی باضابطہ طور پر نافذ کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ حکومت تعلیمی شعبے میں اصلاحات لانے کے لیے کنورجنس موڈ کے تحت مختلف اداروں اور وسائل کو
یکجا کرنے کی حکمت عملی پر غور کر رہی ہے۔