عظمیٰ نیوز سروس
سرینگر// سعودی عرب میں حج مکمل کرنے کے بعد واپسی کے منتظر حجاج کرام نے حکومتی انتظامات پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں حج کی روانگی کے موقعہ پر بتایا گیا تھا کہ واپسی پر انہیں 40کلو سامان ساتھ لانے کی اجازت ہوگی جبکہ اسکے علاوہ 7کلو ذاتی سامان ساتھ رکھنے کی بھی اجازت ہے تاہم واپسی کے شیڈول سے قبل انہیں اب بتایا جارہا ہے کہ انہیں صرف 30کلو سامان اور 7کلو ذاتی سامان ساتھ رکھنے کی اجازت ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ انتہائی کوفت کے شکار ہیں کیونکہ انکے لئے پریشان کن صورتحال پیدا ہوگئی ہے۔عازمین کا کہنا ہے کہ انہوں نے پہلے سے دیئے گئے اجازت نامے کے مطابق سامان کی پیکنگ کی ہے اور اب وہ 10کلو گرام سامان پھینکنے پر مجبور ہورہے ہیں۔
عازمین نے مزید کہا کہ انکے لئے دوسری پریشانی یہ پیدا کی گئی ہے کہ ان سے کہا گیا ہے کہ احمد آباد سے انکا سامان زمینی راستے سے سرینگر لایا جائیگا۔عازمین نے لیفٹیننٹ گورنر، وزیر اعلیٰ اور مرکزی وزارت اقلیتی امور و حج سے اپیل کی ہے کہ 2جون سے قبل انکے اہم مسئلے کو حل کرنے کی کوشش کی جائے۔یاد رہے کہ جموں کشمیر حج کمیٹی کی طرف سے جاری کردہ ایک نوٹیفکیشن کے مطابق، جموں و کشمیر سے عازمین حج کے لیے حج پروازوں کی آمد کا مرحلہ 2جون 2026سے شروع ہوگا، اور پہلی پرواز سرینگر کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر دوپہر 12:45پر اترے گی۔حج کمیٹی نے کہا کہ بھاری بوجھ کے ساتھ ہوائی جہاز کے اترنے سے متعلق نوٹم اور پابندیوں کی وجہ سے احمد آباد سے واپس آنے والے عازمین کے سامان کو پروازوں میں لے جانے کی بجائے سڑک کے ذریعے سری نگر پہنچایا جائے گا۔ نوٹیفکیشن میں کہا گیا کہ سرینگر روانگی سے قبل زائرین کی امیگریشن اور کسٹم کلیئرنس احمد آباد میں ہی مکمل کی جائے گی۔حجاج کو ان کے واٹس ایپ پر اطلاع بھیجی گئی ہے اور اس سے کشیدگی پیدا ہوگئی ہے۔ حج کمیٹی نے سرینگر جانے والے عازمین کے لیے سامان کے سخت ضابطے نافذ کیے ہیں۔ ہر حاجی کو سری نگر جانے والی پرواز میں صرف ایک ہینڈ بیگج جس کا وزن 7کلوگرام تک ہو اور زیادہ سے زیادہ 5کلو گرام چیک ان سامان کی اجازت ہوگی۔بقیہ سامان، زیادہ سے زیادہ 30لوگرام فی یاتری، احمد آباد سے سری نگر تک سڑک کے ذریعے الگ سے لے جایا جائے گا۔
حکام نے یہ بھی ہدایت کی ہے کہ چیک ان سامان کے کسی ایک ٹکڑے کا وزن 22کلو گرام سے زیادہ نہیں ہونا چاہیے۔ حجاج کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ ایک ہی کور گروپ سے تعلق رکھنے والے ارکان کے چیک ان سامان کو ساتھ رکھیں تاکہ ہینڈلنگ اور نقل و حمل میں آسانی ہو۔نوٹیفکیشن میں مزید کہا گیا کہ سڑک سے نقل و حمل کا سامان سری نگر پہنچنے پر حج ہائوس، بمنہ میں جمع کرنے کے لیے دستیاب کرایا جائے گا۔سری نگر بین الاقوامی ہوائی اڈے پر عازمین کا استقبال کرنے کے خواہشمند رشتہ داروں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ پروازوں کی آمد سے دو دن قبل حج کمیٹی کی سرکاری ویب سائٹ سے گاڑیوں کے پاس ڈان لوڈ کریں۔کئی کشمیری عازمینِ حج نے واپسی پر سامان کی نئی پابندیوں پر شدید ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے اسے امتیازی رویہ قرار دیا ہے۔ایک عازمِ حج نے کہاکہ “ہمیں محسوس ہوتا ہے کہ کشمیری عازمین کیلئے الگ قوانین نافذ کیے جا رہے ہیں۔ یہ ناانصافی ہے اور اس فیصلے نے بہت سے عازمین کو ذہنی پریشانی میں مبتلا کر دیا ہے‘‘۔انہوں نے مزید کہا کہ اگر مسئلہ حل نہ ہوا تو بعض عازمین واپسی کی پروازوں کے بائیکاٹ پر بھی غور کر رہے ہیں۔عازمین نے کھجوروں اور اہلِ خانہ کیلئے خریدے گئے تحائف کی ترسیل کے حوالے سے بھی تشویش ظاہر کی۔ ان کا کہنا ہے کہ سامان کی تاخیر سے ترسیل کے باعث قیمتی اور مذہبی اہمیت رکھنے والی اشیا خراب یا ضائع ہو سکتی ہیں۔ایک اورحاجی نے کہا”ہم اپنے خاندانوں کے لیے کھجوریں اور تحائف خرید کر لائے ہیں۔ یہ متبرک اشیا ہیں، اگر ان کی ترسیل میں تاخیر ہوئی تو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ اس کے علاوہ کشمیر کے مختلف اضلاع سے تعلق رکھنے والے لوگوں کیلئے سرینگر آ کر بعد میں سامان وصول کرنا بھی ایک بڑا مسئلہ ہوگا‘‘۔حاجیوںکا کہنا ہے کہ واپسی کے بعد پہلے ہی طویل سفر درپیش ہوتا ہے، ایسے میں سامان کئی دن بعد ملنے کی صورت میں انہیں اضافی اخراجات، وقت کے ضیاع اور سفری مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ انہوں نے متعلقہ حکام، ایئرلائن اور حج کمیٹی سے مطالبہ کیا ہے کہ اس مسئلے کا فوری اور قابلِ عمل حل نکالاجائے تاکہ عازمین کو مزید پریشانی نہ اٹھانی پڑے۔جموں و کشمیر حج کمیٹی کے ایگزیکٹو آفیسر شجاعت احمد قریشی نے کہا ہے کہ سرینگر ہوائی اڈے پر جاری رن وے مرمت کے کام کے باعث حج عازمین کے سامان کی نقل و حمل کے نظام میں عارضی تبدیلیاں کی گئی ہیں۔انہوں نے بتایا کہ حج عازمین کو دی گئی تربیت اور ہدایات کے مطابق پہلے 40 کلوگرام چیک اِن بیگیج اور 7لوگرام ہینڈ بیگیج لے جانے کی اجازت تھی، تاہم سرینگر ایئرپورٹ پر آپریشنل پابندیوں کے باعث ایئرلائنز نے وزن کی حد میں کمی کی ہے۔قریشی کے مطابق اکاسا ایئر،جو سرینگر سمیت مختلف امبارکیشن پوائنٹس سے حج پروازیں چلاتی ہے، نے تکنیکی وجوہات کی بنا پر سامان کی حد 35کلوگرام چیک اِن بیگیج اور 7کلوگرام ہینڈ بیگیج مقرر کی ہے۔انہوں نے وضاحت کی کہ سرینگر سے واپسی کے دوران طیارے رن وے کی موجودہ صورتحال کے پیش نظر زیادہ وزن کے ساتھ لینڈ نہیں کر سکتے۔ اسی لیے عازمین کے 30 کلوگرام سامان کو احمد آباد سے سرینگر سڑک کے راستے منتقل کیا جائے گا جبکہ ہر حاجی اپنے ساتھ 5کلوگرام چیک اِن بیگیج اور 7کلوگرام ہینڈ بیگیج لا سکے گا۔شجاعت احمد قریشی نے کہا کہ حج کمیٹی کوشش کر رہی ہے کہ علیحدہ بھیجا جانے والاسامان تین سے چار دن کے اندر سرینگر پہنچ جائے۔ انہوں نے عازمین کو مشورہ دیا کہ کھجوروں یا دیگر جلد خراب ہونے والی اشیاء کو اپنے ساتھ لے جانے والے سامان میں شامل کریں۔انہوں نے کہا’’ہم نے عازمین سے درخواست کی ہے کہ خراب ہونے والی اشیاء مقررہ وزن کے اندر اپنے ساتھ رکھیں۔ ہماری کوشش ہے کہ باقی سامان بھی تین سے چار دن کے اندر اپنی منزل تک پہنچ جائے‘‘تاہم متعدد حاجیوںنے اس انتظام پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے بالخصوص دور دراز اضلاع کے رہائشیوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ انہوں نے متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا کہ اس معاملے پر دوبارہ غور کیا جائے اور حاجیوں کی سہولت کیلئے متبادل انتظامات کیے جائیں۔