تینوں افواج مکمل ہم آہنگی کے ساتھ تیار:فوجی سربراہ
پونے//بھارتی فوج کے سربراہ جنرل اوپیندر دویدی نے کہا ہے کہ اگر ضرورت پیش آئی تو مسلح افواج آپریشن سندور 2.0 کیلئے مکمل طور پر تیار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تینوں مسلح افواج مستقبل کی جدید اور ملٹی ڈومین جنگی حکمت عملی کے لیے بھرپور ہم آہنگی کے ساتھ اپنی صلاحیتیں بڑھا رہی ہیں۔پونے میں نیشنل ڈیفنس اکیڈمی (NDA) کے 150ویں کورس کی پاسنگ آئوٹ پریڈ کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے دویدی نے کہا کہ اس وقت اگرچہ عارضی طور پر دشمنی میں کمی (cessation of hostilities) موجود ہے، تاہم تمام افواج آئندہ کسی بھی صورتحال کے لیے مکمل تیاری کر رہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ مستقبل کی جنگیں صرف زمین، سمندر اور فضا تک محدود نہیں رہیں گی بلکہ خلا، سائبر اور کگنیٹو وارفیئر جیسے نئے میدان بھی اہم کردار ادا کریں گے۔جنرل دویدی کے مطابق جدید میدانِ جنگ انتہائی شفاف ہو چکا ہے جہاں ہر نقل و حرکت پر نظر رکھی جاتی ہے، اس لیے فوجی تعیناتی اور فورس پروٹیکشن میں انتہائی احتیاط ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ آپریشن سندور نے یہ ثابت کیا کہ مربوط منصوبہ بندی، بروقت انٹیلیجنس، درست نشانہ بازی، مضبوط فضائی دفاع اور محفوظ کمیونیکیشن کسی بھی جدید آپریشن کی بنیاد ہیں۔
آرمی چیف نے کہا کہ مستقبل کی جنگوں میں معلوماتی جنگ (Information Warfare) فیصلہ کن کردار ادا کرے گی اور قومی اتحاد و اعتماد کامیابی کی بنیاد ہوگا۔انہوں نے کہا کہ فتح صرف میدان میں نہیں بلکہ ذہن میں ہوتی ہے۔ اگر قوم اداروں پر اعتماد کرے تو کوئی بھی ملک شکست نہیں دے سکتا۔جنرل دویدی نے کہا کہ بھارتی فوج ڈی کیڈ آف ٹرانسفارمیشن کے تحت خود کو جدید خطوط پر استوار کر رہی ہے، جس میں نوجوان نسل کا کردار کلیدی ہوگا۔انہوں نے بتایا کہ فوج میں ڈرون یونٹس، جدید بیٹریاں اور ٹیکنالوجی پر مبنی نئی تشکیلیں شامل کی جا رہی ہیں تاکہ جنگی صلاحیتوں کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔آرمی چیف کے مطابق مستقبل کا اہم مرحلہ ڈیٹا سینٹرک اور نیٹ ورکنگ پر مبنی نظام ہے، جہاں فیصلہ سازی زیادہ تیز، موثر اور مضبوط ہوگی۔انہوں نے کہا کہ ہر سپاہی کے ہاتھ میں ڈرون (Eagle on the Arm) کا تصور فروغ دیا جا رہا ہے اور تربیتی اداروں میں اس پر عملی کام جاری ہے۔جنرل دویدی نے مزید کہا کہ فوجی تھیٹرائزیشن کا عمل درست سمت میں آگے بڑھ رہا ہے اور اس حوالے سے تجویز دفاعی وزارت کو بھیج دی گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ مستقبل میں کمانڈرز آپریشنل ذمہ داریاں سنبھالیں گے جبکہ سروسز اپنے بنیادی کردار یعنی Raise, Train and Sustain پر توجہ دیں گی۔قبل ازیں آرمی چیف نے NDA کی پاسنگ آئوٹ پریڈ کا معائنہ کیا اور کیڈٹس کو خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آپریشن سندور نے قومی عزم اور درست ردعمل کا نیا معیار قائم کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج کے دور کی جنگیں ہائبرڈ نوعیت کی ہیں اور افسران کو تیز سوچ اور درست فیصلہ سازی کی صلاحیت اپنانی ہوگی۔انہوں نے کہا کہ وہ اسی اکیڈمی سے 42سال قبل پاس آئوٹ ہوئے تھے اور آج ان کے لیے یہ لمحہ انتہائی جذباتی اور یادگار ہے۔