عظمیٰ نیوز سروس
سرینگر// جنوبی کشمیر کے مختلف علاقوں میں ہفتہ کی شام شدید ژالہ باری، تیز ہواؤں اور بارش نے ایک بار پھر باغبانی شعبے کو زبردست نقصان پہنچایا، جس سے سیب کے باغات متاثر ہوئے اور پہلے ہی موسمی تباہ کاریوں سے پریشان باغبانوں کی مشکلات میں مزید اضافہ ہو گیا۔ژالہ باری نے ضلع شوپیان کے متعدد علاقوں، جن میں شوپیان قصبہ، بٹہ پورہ، میمندر، رام نگری اور ملحقہ دیہات شامل ہیں، کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ اسی طرح ضلع پلوامہ کے آری ہل اور آس پاس کے علاقوں میں بھی شدید نقصان کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔بڑے بڑے اولے کئی منٹ تک باغات پر برستے رہے جس کے نتیجے میں سیب کے نازک پھل زخمی ہو گئے، پتے متاثر ہوئے اور پھلوں سے لدی شاخیں ٹوٹ گئیں۔باغبانوں کا کہنا ہے کہ ژالہ باری ایسے وقت میں ہوئی جب سیب کا پھل ابتدائی نشوونما کے نہایت حساس مرحلے میں ہے، جس سے پیداوار اور معیار دونوں متاثر ہونے کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔میمندر کے ایک باغبان غلام محمد نے کہا’’پہلے کی موسمی تباہ کاریوں کے بعد ہمیں اچھی فصل کی امید تھی، لیکن آج کی ژالہ باری نے ہماری تمام توقعات خاک میں ملا دیں۔ اولے غیر معمولی طور پر بڑے تھے۔
بہت سے کچے سیب درختوں سے گر گئے جبکہ کئی شاخیں ٹوٹ گئیں‘‘۔بٹہ پورہ اور ملحقہ علاقوں کے باغبانوں نے بتایا کہ چند منٹ جاری رہنے والی ژالہ باری نے وسیع پیمانے پر نقصان پہنچایا۔ایک باغبان نے کہا’’جن باغات کو پہلے کی ژالہ باری نے متاثر نہیں کیا تھا، وہاں فصل بہت اچھی نظر آ رہی تھی۔ کاشتکاروں نے اسپرے، کھاد اور دیگر انتظامات پر بھاری سرمایہ لگایا تھا، مگر قدرت نے چند منٹوں میں مہینوں کی محنت ضائع کر دی۔ زخمی پھل اگر بچ بھی گئے تو ان کی مارکیٹ ویلیو کم ہو جائے گی‘‘۔یہ تازہ ژالہ باری ایسے وقت میں ہوئی ہے جب چند روز قبل بھی وادی کے مختلف علاقوں میں اسی نوعیت کے موسمی واقعات نے باغات کو نقصان پہنچایا تھا۔ مسلسل نقصانات کے باعث باغبانی شعبے کے مستقبل کے حوالے سے خدشات بڑھتے جا رہے ہیں۔آری ہل، پلوامہ کے کسانوں نے بتایا کہ اولوں نے باغات کے ساتھ ساتھ سبزیوں کی فصلوں کو بھی نقصان پہنچایا ہے، جس سے پہلے ہی دباؤ کا شکار زرعی برادری کو مزید دھچکا لگا ہے۔ایک باغ مالک نے کہا’’ہماری روزی روٹی مکمل طور پر باغبانی پر منحصر ہے۔ ہر سال کبھی ژالہ باری، کبھی بے وقت بارشیں اور کبھی مارکیٹ کے مسائل ہمیں نقصان پہنچاتے ہیں۔ اس سال صورتحال خاص طور پر سنگین ہو گئی ہے‘‘۔شوپیان کے معروف باغبان محمد یوسف بٹ نے کہا کہ مسلسل ژالہ باری نے ہزاروں خاندانوں کو مالی بحران کے دہانے پر پہنچا دیا ہے۔انکاکہناتھا’’باغبانی کشمیر کے دیہی علاقوں کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے۔ بہت سے کسانوں نے باغات کی دیکھ بھال کے لیے قرضے لیے ہیں اور اب انہیں اپنی سرمایہ کاری ڈوبنے کا خدشہ لاحق ہے‘‘۔تازہ نقصان کے بعد باغبانوں نے ایک بار پھر جامع فصل بیمہ اسکیم اور فوری مالی امداد کا مطالبہ دہرایا ہے۔فیا ض احمد نامی ایک باغبان نے کہا’’ہم برسوں سے فصل بیمہ اور معاوضے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ ہر آفت کے بعد سروے ٹیمیں آتی ہیں، لیکن حقیقی امداد شاذ و نادر ہی متاثرین تک پہنچتی ہے۔ حکومت کو فوری معاوضے کا اعلان کرنا چاہیے اور ایک مؤثر بیمہ نظام نافذ کرنا چاہیے‘‘۔ماہرین باغبانی کے مطابق پھل بننے کے ابتدائی مرحلے میں بار بار ہونے والی ژالہ باری پیداوار، معیار اور باغات کی مجموعی کارکردگی پر گہرے منفی اثرات مرتب کر سکتی ہے۔انہوں نے متاثرہ باغبانوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ فوری طور پر تجویز کردہ فنگس کش ادویات کا استعمال کریں تاکہ پھپھوندی اور ثانوی بیماریوں سے بچا جا سکے۔ اس کے علاوہ نکاسیٔ آب کا مناسب انتظام، فوری کانٹ چھانٹ سے گریز اور متوازن غذائیت کی فراہمی بھی ضروری ہے تاکہ درخت جلد بحال ہو سکیں۔واضح رہے کہ رواں سیزن کے دوران کشمیر میں متعدد بار ژالہ باری ہو چکی ہے۔ اپریل اور مئی میں آنے والی شدید موسمی تبدیلیوں نے شوپیان، پلوامہ، کولگام، بارہمولہ، کپواڑہ اور بانڈی پورہ کے باغات کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچایا ہے۔باغبانوں کا کہنا ہے کہ موسم کی غیر یقینی صورتحال میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور اگر بروقت امداد فراہم نہ کی گئی تو بہت سے کاشتکاروں کے لیے باغبانی کا سلسلہ جاری رکھنا مشکل ہو جائے گا۔ انہوں نے حکومت سے فوری مداخلت اور عملی اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔