اشرف چراغ
کپوارہ// ایک پارلیمانی وفد نے ممبر پالیمنٹ بارمولہ انجینئر رشید کی مسلسل قید پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کی مسلسل قید کی وجہ سے دلی اور کشمیر کے دمیان دوریا ں بڑھ رہی ہیں۔ایک پارلیمانی وفد جمعہ کے روز انجنیئر رشید کے گھر واقع لاچھ ماور گیا جہا ں انہو ں نے انجینئر رشید کے والد کے انتقال پر ان کی ڈھارس بندھائی۔پارلیمانی وفد میں ارکان پارلیمنٹ امیش بہو بھائی پٹیل اور سدھار کر سنگھ سمیت مختلف سیاسی جماعتو ں کے رہنما شامل تھے۔وفد نے اہل خانہ ،پارٹی لیدڑان اور وہا ں موجود لوگو ں سے ملا قات کی۔اس موقع پر وفد نے نامہ نگارو ں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ملک بھر میں ایسے لوگو ں کی کوئی کمی نہیں ہے جو جمو ں و کشمیر کے عوام کے درد اور مشکلات کو محسوس کرتے ہیں۔
انہو ں نے کہا کہ کہ خطے میں دیر پا امن اور مفاہمت کے لئے جمہوری روابط اور سنجیدہ مذکرات ناگزیر ہیں۔وفد کی قیادت بہار سے تعلق رکھنے والے پارلیمنٹ ممبر سدھار کر سنگھ نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ کشمیر عوام نے بے پناہ مشکلات جھیلی ہیں اور ان کی آ واز کو سنجیدگی وقار اور خلوص کے ساتھ سنا جانا چاہیں۔انہو ں نے پارلیمنٹ میں انجینئر رشیدکی جانب سے جمو ں و کشمیر کے سیاسی اور انسانی حقوق کے مسائل کو مسلسل اجاگر کرنے کو سراہا۔انہو ں نے مزید کہا کہ مودی حکومت کی جانب سے جمو ں و کشمیر کے عوام ساتھ با معنی رابطہ قائم نہ کرنا احساس بیگانگی کو مزید گہرا کر رہا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ انجینئر رشید کی مسلسل قید نئی دلی اور کشمیر کے درمیان اعتماد کے پل کو کمزور کر رہی ہے۔انہو ں نے انجینئر رشید کی فوری رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ انہیں عوامی خدمت جاری رکھنے کا موقع دیا جانا چاہئے کیونکہ عوام نے بھاری اعتماد کے ساتھ انہیں منتخب کیا۔وفد نے مختلف طبقہ ہائے فکر سے تعلق رکھنے والے لوگو ں سے بھی ملاقات کی اور یقین دلایا کہ ہندوستان کے عوا م کشمیریو ں کے دشمن نہیں ہیں۔