جاوید اقبال
مینڈھر // سرحدی تحصیل منکوٹ کے گاؤں ناڈ منکوٹ میں ایک غریب خاتون اپنی ہی ملکیتی زمین پر چھت تعمیر کرنے کے حق کے لیے در در کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہے۔ رخسانہ کوثر زوجہ محمد عرفان نے ضلع و تحصیل انتظامیہ سے فوری مداخلت کی اپیل کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ چند سیاسی اثر و رسوخ رکھنے والے افراد انہیں اپنے خاندان کے لیے مکان تعمیر کرنے سے روک رہے ہیں، جبکہ خود جنگلاتی اراضی پر دکانیں اور مکانات تعمیر کر رہے ہیں۔رخسانہ کوثر نے میڈیا نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان کا پرانا مکان اب کھنڈر میں تبدیل ہو چکا ہے اور کسی بھی وقت کوئی بڑا حادثہ پیش آ سکتا ہے۔ ان کے مطابق بارشوں اور خراب موسم کے دوران ان کے اہل خانہ شدید خوف و ہراس میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں، لیکن اس کے باوجود انہیں اپنی زمین پر تعمیرات کی اجازت نہیں دی جا رہی۔
انہوں نے الزام لگایا کہ پہلے متعلقہ پٹواری نے زمین کے کاغذات کی جانچ کے بعد مثبت رپورٹ دی اور تعمیر کی اجازت کا عندیہ دیا، مگر اب اچانک وہی پٹواری تعمیراتی کام رکوانے کی کوشش کر رہا ہے۔ رخسانہ کوثر کا کہنا ہے کہ انہیں سمجھ نہیں آ رہا کہ آخر قانون صرف غریبوں کے لیے ہی کیوں بدل جاتا ہے۔انہوں نے مزید بتایا کہ تقریباً چھ سال قبل مکان کی تعمیر کے لیے نقشہ اور منصوبہ تیار کیا گیا تھا، لیکن بااثر افراد کی مداخلت اور انتظامی رکاوٹوں کی وجہ سے آج تک وہ اپنے خوابوں کا گھر تعمیر نہیں کر سکیں۔رخسانہ کوثر نے ضلع انتظامیہ، تحصیلدار منکوٹ اور اعلیٰ حکام سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ان کی ملکیتی زمین کی فوری نشاندہی کرائی جائے اور انہیں قانونی طور پر گھر تعمیر کرنے کی اجازت دی جائے تاکہ وہ اپنے بچوں کے ساتھ ایک محفوظ زندگی گزار سکیں۔ مقامی عوام نے بھی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ معاملے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کر کے متاثرہ خاتون کو انصاف فراہم کیا جائے۔