عظمیٰ نیوزسروس
نئی دہلی// حج کا سب سے اہم رکن وقوفِ عرفہ میدانِ عرفات میں لاکھوں فرزندانِ توحید نے ادا کیا، جہاں مدینہ منورہ کی مسجد نبوی کے امام و خطیب شیخ علی الحذیفی نے خطبۂ حج دیتے ہوئے امتِ مسلمہ سے اتحاد، یکجہتی اور برائی و انتشار کے خلاف متحد ہو کر کھڑے ہونے کی اپیل کی۔شیخ الحذیفی نے حجاج کرام پر زور دیا کہ وہ رحم دلی، صبر، عاجزی اور بھائی چارے جیسی اسلامی اقدار کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں۔ انہوں نے کہا کہ حج مساوات، اتحاد اور اللہ تعالیٰ کے سامنے مکمل سپردگی کی علامت ہے۔امام نے ظہر اور عصر کی نمازیں قصر اور جمع کرکے ادا کروائیں۔
اپنے خطبے میں شیخ الحذیفی نے مسلم اتحاد، انسانی جان کے تقدس اور تقویٰ کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے مسلمانوں کو تلقین کی کہ وہ قرآنِ مجید اور سنتِ نبوی ﷺ کو مضبوطی سے تھامے رکھیں کیونکہ یہی ایک متوازن، پاکیزہ اور کامیاب زندگی گزارنے کے بنیادی اصول ہیں۔انہوں نے مسلمانوں کو ارکانِ اسلام کی پابندی، اختلافات اور تفرقہ بازی سے اجتناب اور چھوٹے گناہوں سے بھی بچنے کی نصیحت کرتے ہوئے کہا کہ معمولی گناہ اگر مسلسل نظر انداز کیے جائیں تو وہ رفتہ رفتہ ایمان اور اخلاقی کردار کو کمزور کر دیتے ہیں۔اسلام کے آفاقی پیغام پر روشنی ڈالتے ہوئے شیخ الحذیفی نے کہا کہ کسی نسل، قومیت یا ذات کو دوسری پر کوئی برتری حاصل نہیں، سوائے تقویٰ، نیکی اور اچھے اعمال کے۔انہوں نے ایک بار پھر حجاج کو صبر، عاجزی، ہمدردی اور بھائی چارے کی صفات اپنانے کی تلقین کی اور کہا کہ حج انسانوں کے درمیان مساوات، اتحاد اور اللہ کے حضور مکمل بندگی کا عملی مظہر ہے۔شیخ الحذیفی نے یہ تاریخی خطبہ مسجد نمرہ کے منبر سے دیا، جو دنیا بھر سے آئے لاکھوں مسلمانوں کے لیے روحانی اجتماع کا اہم لمحہ تھا۔حجاج کرام میدانِ عرفات میں عبادت، تلاوتِ قرآن، ذکرِ الٰہی اور دعا و مناجات میں مصروف رہے۔ صبح صادق کے فوراً بعد ہی قافلے میدانِ عرفات کی جانب روانہ ہونا شروع ہو گئے تھے تاکہ حج کا اہم ترین رکن ادا کیا جا سکے۔اسلامی روایات کے مطابق وقوفِ عرفہ حج کا مرکز اور روح تصور کیا جاتا ہے۔ حضور اکرم ﷺ کا ارشاد ہے’’الحج عرفہ‘‘یعنی’’حج عرفہ ہی ہے‘‘، جو اس اجتماع کی بنیادی اہمیت کو واضح کرتا ہے۔علمائے اسلام کے مطابق یومِ عرفہ اسلامی کیلنڈر کے مقدس ترین ایام میں شمار ہوتا ہے اور یہ دن رحمت، مغفرت اور روحانی تجدید سے وابستہ ہے۔یہ دن 632 عیسوی میں رسول اللہ ﷺ کے حجۃ الوداع کی بھی یاد دلاتا ہے، جب آپ ﷺ نے جبلِ عرفات پر اپنا آخری خطبہ دیا تھا، جس میں عدل، مساوات اور انسانی جان و مال کے احترام کے اصول بیان کیے گئے تھے۔عرفات مکہ مکرمہ سے تقریباً 20 کلومیٹر جنوب مشرق میں واقع ایک وسیع میدان ہے، جہاں جبل الرحمت یا ’’رحمت کا پہاڑ‘‘ واقع ہے۔ یہاں لاکھوں حجاج دعا اور عبادت میں مصروف رہتے ہیں۔ اسلامی روایت کے مطابق یہی وہ مقام ہے جہاں حضرت آدم علیہ السلام اور حضرت حوا علیہا السلام کی دوبارہ ملاقات ہوئی تھی، جس کی وجہ سے یہ مقام دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے خاص روحانی اہمیت رکھتا ہے۔حجاج کی نقل و حرکت کو منظم رکھنے کے لیے سکیورٹی فورسز راستوں اور گزرگاہوں پر تعینات رہیں اور قافلوں کی مسلسل نگرانی کرتی رہیں۔وقوفِ عرفہ کو حج کا دل تصور کیا جاتا ہے اور اس کے بغیر حج مکمل نہیں ہوتا۔حجاج کرام غروبِ آفتاب تک میدانِ عرفات میں قیام کریں گے، جہاں وہ دعاؤں، توبہ اور استغفار میں مصروف رہیں گے۔ غروبِ آفتاب کے فوراً بعد قافلے مزدلفہ روانہ ہوں گے، جہاں وہ کھلے آسمان تلے رات گزاریں گے، مغرب اور عشاء کی نمازیں جمع کرکے ادا کریں گے اور شیطان کو کنکریاں مارنے کی رسم کے لیے کنکریاں جمع کریں گے۔