عظمیٰ نیوز سروس
سرینگر//معاشرتی اور اخلاقی اقدار میں خطرناک حد تک گراوٹ پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اپنی پارٹی کے سربراہ سید محمد الطاف بخاری نے علما کرام اور دینی اسکالروں سے اپیل کی کہ وہ عید کے منبروں کو احتسابِ نفس، توبہ اور اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کرنے کا پیغام عام کرنے کے لیے استعمال کریں۔عید الاضحیٰ کے مقدس موقع پر عوام کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے سید محمد الطاف بخاری نے کہا کہ اس مقدس عید کو صرف خوشی اور عقیدت کے ساتھ منانے تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ یہ ہمارے معاشرے کی اخلاقی پستی پر اجتماعی غور و فکر کا موقع بھی بننا چاہیے۔انہوں نے کہا، ’’جب ہم عید الاضحیٰ کے مبارک موقع کو منا رہے ہیں تو ہمیں اپنے سماجی اور اخلاقی ڈھانچے کی تکلیف دہ زبوں حالی پر بھی غور کرنا چاہیے۔‘‘
اپنے ایک خصوصی پیغام میں اپنی پارٹی صدر نے کہا کہ ہمارا معاشرہ ایک سنگین بحران سے دوچار ہے۔ انہوں نے کہا، ’’بحیثیتِ ایک سماج ہمیں فوری طور پر اپنا احتساب کرنا ہوگا اور خود سے یہ سوال پوچھنا ہوگا کہ ہم کیوں مسلسل اپنی دینی، اخلاقی اور بنیادی انسانی اقدار کھوتے جا رہے ہیں۔‘‘حال ہی میں بڈگام میں ایک کمسن بچی کے عصمت دری اور قتل کے ہولناک واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے سید محمد الطاف بخاری نے کہا کہ یہ سانحہ ہر فرد کے ضمیر کو جھنجھوڑ دینا چاہیے۔سماجی اقدار کے تحفظ کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا، ’’اگر ہم آج اپنے سماجی ڈھانچے کی حفاظت کرنے میں ناکام رہے تو کل ہمارا مستقبل کیسا ہوگا، اس کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔‘‘کشمیر کی روحانی میراث کو یاد کرتے ہوئے سید محمد الطاف بخاری نے کہا، ’’یہ سرزمین کبھی امن، وقار اور روحانیت کے لیے جانی جاتی تھی۔ ہماری وادی کو فخر کے ساتھ ’پیر وعر‘‘ یعنی بزرگوں کی سرزمین پکارا جاتا تھا۔ افسوس کہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہم اپنی وہ شناخت کھو چکے ہیں اور ہر گزرتے دن کے ساتھ اس سے مزید دور ہوتے جا رہے ہیں۔‘‘اجتماعی توبہ کی اپیل کرتے ہوئے انہوں نے کہا، ’’ممکن ہے کہ قدرت بھی ہمارے معاشرے کے تئیں ہماری غفلت کو معاف نہ کرے۔ شاید قدرت نے ہمیں خبردار کرنا بھی شروع کر دیا ہے۔ بدلتے موسمی حالات، بار بار آنے والی قدرتی آفات، سکڑتے ہوئے گلیشیئرز اور آبی وسائل میں کمی اس بات کی نشانیاں ہو سکتی ہیں کہ خدا ہم سے ناراض ہے۔ قرآنِ پاک ہمیں یاد دلاتا ہے کہ جب لوگ اخلاقی طور پر زوال پذیر ہو جاتے ہیں اور نیکی سے منہ موڑ لیتے ہیں تو اللہ کا عذاب ان پر نازل ہوتا ہے۔‘‘انہوں نے مزید کہا، ’’عید الاضحیٰ قربانی کی علامت ہے۔ آئیے اس عید پر ہم یہ عہد کریں گے کہ ہم اپنا وقت، آرام اور صلاحیتیں ایک باوقار اور اخلاقی طور پر مضبوط معاشرے کی تعمیر کے لیے قربان کریں گے۔‘دینی علما سے دلی اپیل کرتے ہوئے سید محمد الطاف بخاری نے کہا، ’’میں اپنے معزز علما اور دینی اسکالروں سے عاجزانہ اپیل کرتا ہوں کہ وہ عید کی نماز کے دوران منبروں سے لوگوں کو یہ یاد دلائیں کہ ہمیں فوری طور پر احتسابِ نفس، توبہ اور اخلاقیات و انسانیت کی طرف رجوع کی ضرورت ہے۔‘‘