عظمیٰ نیوز سروس
نئی دہلی//مغربی ایشیائی خطے میں لاجسٹکس کے اخراجات میں تیزی سے اضافہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے، جبکہ بھارت میں ساختی اور بیرونی عوامل کے باعث یہ دبا مزید بڑھ گیا ہے۔ ایک تازہ رپورٹ کے مطابق خطے میں اوسط ترسیلی لاگت میں 18.9 فیصد سالانہ اضافہ ہوا ہے جبکہ مجموعی لاجسٹکس اخراجات تقریبا 19 فیصد بڑھ گئے ہیں۔رپورٹ کے مطابق اس اضافے میں بیرونی طور پرمشرق وسطیٰ معاملات کے باعث ایندھن کی عالمی سپلائی میں رکاوٹیں اہم کردار ادا کر رہی ہیں، جبکہ اندرونی سطح پر بھارت کے بنیادی ڈھانچے کے مسائل صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا رہے ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارت کے بڑے شہری مراکز میں لاجسٹکس کے شعبے کو ایندھن کی بڑھتی قیمتوں، ڈرائیوروں کی اجرتوں میں اضافہ، اور شدید شہری ٹریفک کے دبا جیسے مسائل کا سامنا ہے، جس کے نتیجے میں ترسیلی لاگت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔مزید بتایا گیا ہے کہ بڑے شہروں میں پہلی کوشش میں ترسیل ناکام ہونے کی شرح 20 سے 30 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔ ہر ناکام ترسیل کے بعد دوبارہ سفر کرنا پڑتا ہے، جس سے ایندھن کا اضافی استعمال، وقت کا ضیاع اور مجموعی لاگت میں اضافہ ہوتا ہے۔ای کامرس اور تیزی سے بڑھتے ہوئے کوئیک کامرس سیکٹر نے بھی لاجسٹکس دبا میں اضافہ کیا ہے، جہاں 10 سے 20 منٹ میں ڈیلیوری کے ماڈل کو فروغ دیا جا رہا ہے۔ تاہم صارفین کی ترجیحات میں فرق پایا جاتا ہے؛ صرف 22 فیصد صارفین فوری ترسیل کو ترجیح دیتے ہیں جبکہ 41 فیصد قابلِ اعتماد اور مقررہ وقت کی ترسیل کو اہم سمجھتے ہیں۔رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ 60 فیصد صارفین مخصوص حالات میں اضافی ترسیلی چارجز ادا کرنے کے لیے تیار ہیں، جبکہ 70 فیصد کاروباری اداروں کے مطابق ان کے صارفین اہم اور فوری آرڈرز پر اضافی ادائیگی پر آمادہ ہوتے ہیں۔ماہرین کے مطابق بھارت میں لاجسٹکس اخراجات میں اضافہ صرف عالمی توانائی بحران کا نتیجہ نہیں بلکہ اندرونی شہری انفراسٹرکچر کی کمزوری اور ڈیلیوری ناکامیوں کی بلند شرح بھی اس میں اہم کردار ادا کر رہی ہے، جس پر فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے۔