عظمیٰ نیوز سروس
نئی دہلی// عالمی سطح پر خوراک کی قیمتیں ایک بار پھر آسمان چھو سکتی ہیں۔ سٹی ریسرچ کی تازہ ترین ’کموڈٹیز آٹ لک‘رپورٹ کے مطابق آبنائے ہرمز میں ممکنہ تجارتی رکاوٹیں اور ال نینو کے بگڑتے ہوئے حالات اگلے 6 سے 12 ماہ کے دوران عالمی غذائی افراط زر میں تیزی سے اضافہ کر سکتے ہیں۔ رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ رواں سال مئی کے وسط تک زرعی مصنوعات کی قیمتوں میں پہلے ہی 13 فیصد اضافہ ہو چکا ہے۔سٹی ریسرچ کے مطابق اگر آبنائے ہرمز میں طویل کشیدگی یا ناکہ بندی ہوتی ہے تو اس کا براہ راست اثر عالمی زرعی شعبے پر پڑے گا۔ اس راستے کی بندش سے خام تیل اور خام مال کی سپلائی رک جائے گی جس سے ایندھن اور بجلی کی قیمتیں بڑھ جائیں گی۔ اس کی وجہ سے کاشتکاری کی لاگت میں نمایاں اضافہ ہوگا۔
اس کے علاوہ پوری دنیا میں کھاد کی شدید قلت ہو سکتی ہے۔ کیمیائی کھادوں اور پیٹرولیم پر مبنی کیڑے مار ادویات کی کمی کے باعث فصلوں کی پیداوار میں بڑے پیمانے پر کمی کا امکان ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ جب جیواشم ایندھن مہنگا ہو جاتا ہے تو مکئی اور گنے جیسی غذائی فصلوں کو بائیو فیول بنانے کے لیے بڑے پیمانے پر استعمال کیا جاتا ہے۔ اس سے انسانی استعمال کے لیے اناج کی سپلائی کم ہو جاتی ہے اور قیمتیں بڑھ جاتی ہیں۔سپلائی چین میں خلل کے ساتھ ساتھ خراب موسم بھی اس بحران کو مزید سنگین بنا رہا ہے۔ ال نینو کے اثر کی وجہ سے جنوب اور جنوب مشرقی ایشیا کے کئی حصوں میں درجہ حرارت معمول سے زیادہ رہنے کا امکان ہے اور وہاں بارشیں بھی کم ہوں گی۔ پانی کی کمی اور خشک سالی جیسے حالات کی وجہ سے ایشیا میں فصلوں کی پیداوار بری طرح متاثر ہو سکتی ہے۔رپورٹ کے مطابق اس دوہرے بحران کا سب سے زیادہ اثر چینی، کوکو اور کافی جیسی نرم اشیا پر دیکھا جا رہا ہے۔ بھارت اور تھائی لینڈ میں خشک سالی کے باعث چینی کی پیداوار میں کمی کا خدشہ ہے جب کہ ویتنام اور انڈونیشیا میں پانی کی کمی کے باعث کافی کی فصلیں متاثر ہو رہی ہیں۔ مغربی افریقہ میں خراب موسم کی وجہ سے کوکو کی قیمتیں پہلے ہی ریکارڈ بلندیوں کو چھو چکی ہیں۔اپریل تک عالمی غذائی اشاریوں میں 5 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا تھا۔ مشرق وسطی میں جاری کشیدگی اور بدلتے موسم نے مارکیٹ میں غیر یقینی کی صورتحال بڑھا دی ہے جس کی وجہ سے آنے والے مہینوں میں عام عوام کی جیب پر بوجھ بڑھنا یقینی ہے۔