سمت بھارگو
راجوری//راجوری ضلع کے دھوری مہل علاقے کے گھنے جنگلات میں جاری سیکورٹی فورسز اورکے درمیان تصادم پیر کے روز تیسرے مسلسل دن بھی جاری رہا۔ اس دوران جنگلاتی علاقے سے شدید فائرنگ اور زور دار دھماکوں کی آوازیں سنائی دیتی رہیں، جن سے پورا علاقہ گونج اٹھا۔ مقامی لوگوں کے مطابق دھماکوں کی آوازیں کئی کلومیٹر دور تک سنی گئیں، جس سے علاقے میں خوف و ہراس کی فضا پیدا ہو گئی۔واضح رہے کہ یہ انکاؤنٹر ہفتہ کی صبح اْس وقت شروع ہوا تھا جب سیکورٹی فورسز اورملی ٹینٹوںکے درمیان پہلی بار رابطہ قائم ہوا۔ اس کے بعد سیکورٹی فورسز نے پورے علاقے کو محاصرے میں لے کر بڑے پیمانے پر اینٹی ٹیرر آپریشن شروع کیا، جو اب بھی جاری ہے۔
سرکاری ذرائع کے مطابق ہفتہ کو ابتدائی فائرنگ کے بعد اتوار کے روزملی ٹینٹوںکی جانب سے کوئی براہ راست فائرنگ نہیں ہوئی، تاہم فوج، پولیس اور سی آر پی ایف کی مشترکہ ٹیموں نے جنگلاتی علاقے میں تلاشی کارروائیاں جارحانہ انداز میں جاری رکھیں۔ فورسز مسلسل انملی ٹینٹوںکا سراغ لگانے کی کوشش کر رہی تھیں جو گھنے جنگل اور جھاڑیوں میں چھپے ہوئے ہیں۔پیر کے روز آپریشن کے تیسرے دن صورتحال دوبارہ کشیدہ ہو گئی اور صبح کے وقت جنگلات سے شدید فائرنگ کی آوازیں آنا شروع ہوئیں۔ مقامی باشندوں کا کہنا ہے کہ وقفے وقفے سے فائرنگ پورے دن جاری رہی اور آخری اطلاعات موصول ہونے تک بھی گولیوں کی آوازیں سنائی دے رہی تھیں۔ اس دوران متعدد زور دار دھماکے بھی ہوئے، جنہیں علاقے کے دور دراز مقامات تک محسوس کیا گیا۔اگرچہ سیکورٹی فورسز نے پیر کے روز کسی قسم کا باضابطہ بیان جاری نہیں کیا، تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ جنگل میں دو سے تین بھاری ہتھیاروں سے لیس ملی ٹینٹوںکی موجودگی کا شبہ ہے۔ حکام کے مطابق یہ علاقہ گھنی نباتات، اونچی گھاس اور پیچیدہ جغرافیائی ساخت کی وجہ سے انتہائی دشوار گزار تصور کیا جاتا ہے، جس کے باعث آپریشن میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔ذرائع نے مزید بتایا کہ سرچ آپریشن کے دوران سیکورٹی فورسز نےملی ٹینٹوںکا ایک خفیہ ٹھکانہ بھی تباہ کر دیا ہے۔ یہ ٹھکانہ قدرتی جھاڑیوں اور درختوں کے درمیان بڑی مہارت سے بنایا گیا تھا تاکہ آسانی سے نظر نہ آئے۔ وہاں سے کچھ بیگز، کھانے پینے کی اشیاء ، کپڑے اور روزمرہ استعمال کا سامان برآمد کیا گیا ہے۔سیکورٹی ذرائع کے مطابق ٹھکانے کے قریب خون کے نشانات بھی پائے گئے ہیں، جس سے اندازہ لگایا جا رہا ہے کہ انکاؤنٹر کے دوران ایک یا ایک سے زائد دہشت گرد زخمی ہوئے ہو سکتے ہیں تاہم ابھی تک اس کی باضابطہ تصدیق نہیں کی گئی ہے۔ادھر آپریشن کی نگرانی کے لیے انسپکٹر جنرل آف پولیس جموں زون اور آئی جی سی آر پی ایف نے بھی پیر کے روز آپریشن سائٹ کا دورہ کیا۔ دونوں اعلیٰ افسران نے گھمبیرمغلاں علاقے میں پہنچ کر جاری کارروائی کا جائزہ لیا۔اس موقع پر رومیو فورس کے جی او سی ،ڈی آئی جی راجوری پونچھ رینج اور ایس ایس پی راجوری نے سینئر افسران کو آپریشن کی پیش رفت، سیکورٹی صورتحال اور جنگلاتی علاقے میں جاری سرچ کارروائیوں کے بارے میں تفصیلی جانکاری فراہم کی۔سیکورٹی فورسز نے پورے علاقے میں نگرانی مزید سخت کر دی ہے جبکہ اضافی دستے بھی تعینات کیے گئے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ملی ٹینٹوںکے خاتمے تک آپریشن جاری رہے گا۔