ماحولیاتی و صحت کے خدشات، سیاحوں کیلئے بدنما منظر
زہرالنساء
سرینگر// ڈل جھیل کے کچھ حصوں میں گزشتہ کئی مہینوں سے پانی کا رنگ مٹیالا اور سبز مائل ہو رہا ہے، جس پر ماہرین نے تشویش ظاہر کرتے ہوئے اس کی وجہ غیر سائنسی انداز میں آبی جڑی بوٹیوں کی صفائی (ڈی ویڈنگ) کو قرار دیا ہے۔جھیل سے پانی پمپوں کے ذریعے نشاط باغ تک پہنچایا جاتا ہے، جہاں یہ سبز مائل پانی باغ کی نہروں کو بھی متاثر کر رہا ہے۔ سری نگر کی سب سے مشہور سیاحتی جگہوں میں شامل یہ جھیل، جو کبھی دلکش منظر پیش کرتی تھی، اب ماحولیاتی زوال اور صحت کے خطرات کی علامت بنتی جا رہی ہے۔ماہرین کے مطابق پانی کے رنگ میں یہ تبدیلی مضر الجی (algal bloom) یعنی Microcystis aeruginosa کی افزائش کی وجہ سے ہو رہی ہے، جو شدید یوتروفیکیشن (eutrophication) کی علامت ہے۔ اس صورتحال نے مقامی لوگوں اور سیاحت سے وابستہ افراد میں تشویش پیدا کر دی ہے۔ جھیل کے وہ حصے جہاں جڑی بوٹیاں نکالی گئی ہیں، خاص طور پر کناروں اور نکاسی آب کے راستوں پر پانی گاڑھا سبز اور ’مٹر کے سوپ‘جیسا دکھائی دیتا ہے۔اس کے باعث شِکارہ چلانے والوں کی روزی روٹی متاثر ہو رہی ہے کیونکہ سیاح اس طرح کے پانی میں سواری کرنے سے گریز کرتے ہیں۔ اسی طرح فوٹوگرافرز اور دیگر چھوٹے کاروباری افراد بھی سیاحوں کی کم ہوتی دلچسپی پر فکر مند ہیں۔ماحولیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ حد سے زیادہ اور غیر سائنسی ڈی ویڈنگ اس الجی کے پھیلاؤ کی بنیادی وجہ ہے۔ ماحولیاتی کنسورشیم آن ڈل لیک نے اس سے قبل بھی اسی طرح کے واقعات پر کہا تھا، ’’بڑے پیمانے پر آبی پودوں کو بغیر سائنسی مشاورت کے ہٹانے سے جھیل میں زہریلی الجی کی افزائش ہوئی ہے‘‘۔کنسورشیم کے مطابق، ایسے الجی بلوم عموماً اْن پانیوں میں ہوتے ہیں جہاں غذائی اجزاء پہلے سے زیادہ ہوں۔ جڑی بوٹیاں اپنی جڑوں میں نقصان دہ اجزاء کو بند رکھتی ہیں، لیکن ان کے اچانک خاتمے سے یہ اجزاء پانی میں شامل ہو کر الجی کی تیزی سے افزائش کا سبب بنتے ہیں۔ چونکہ ڈل جھیل کا پانی پینے کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے، اس لیے یہ صورتحال انسانی صحت کے لیے بھی خطرناک ہے۔تحقیقی رپورٹس کے مطابق Microcystis aeruginosa ایسے پانی میں تیزی سے بڑھتا ہے جہاں فاسفورس اور دیگر غذائی اجزاء کی مقدار زیادہ ہو، خاص طور پر 15 سے 30 ڈگری سینٹی گریڈ درجہ حرارت میں۔ یہ بیکٹیریا زہریلے مادے (microcystins) پیدا کرتا ہے، جن میں microcystin-LR سب سے عام ہے، جو جگر کو نقصان پہنچانے والے زہریلے مرکبات ہیں، اور اعصابی نظام اور ہارمونز پر بھی اثر ڈال سکتے ہیں۔ماحولیاتی اور صحت کے مسائل کے علاوہ، جھیل کی خراب ہوتی حالت نے سیاحت کو بھی متاثر کیا ہے۔ مقامی دکانداروں، شِکارہ والوں اور باغ آنے والے افراد نے سیاحوں کی تعداد میں کمی کی شکایت کی ہے۔ایک مقامی سیاح زید حسین نے کہا، ’’جھیل بیمار لگ رہی ہے، سڑ رہی ہے۔ نشاط باغ کی نہروں میں گندا پانی دیکھ کر بہت دکھ ہوا۔‘‘ملائیشیا سے آئی ایک سیاح نور عائشہ نے بھی مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جھیل خوبصورت ہے مگر اس کا پانی بہت گندا ہے، اور انہوں نے شِکارہ سواری نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔لیک کنزرویشن اینڈ مینجمنٹ اتھارٹی (LCMA) کے چیئرمین خورشید احمد شاہ سے اس معاملے پر رابطہ نہیں ہو سکا۔