رُخ سے نقاب داتؔ نے ہٹائی نہیں ہنوز
دیدار کی سعادت ابھی پائی نہیں ہنوز
محرم کیا نہ اُس نے کبھی اپنی ذات سے
اب تک متاعِ یہ طلحہ پائی نہیں ہنوز
چوگانِ زیست گھوم کر ننگ ہوں آذرؔ
ہم نے ردائے عام تک پائی نہیں ہنوز
آگے میرے سراب ہے پیچھے میرے سراب
بادِ نسیم نخل تک سے آئی نہیں ہنوز
یہ سلسلۂ حیات اک مخمصہ ہے دوست
پائی سیاہ و سفید کی شناسائی نہیں ہنوز
غارت حیات ہم نے کی کنالوں کے ہوس میں
حصے کی اپنے دو گز زمیں پائی نہیں ہنوز
سماعت کو ہر گام پہ شورِ غفور تھا
صورت کوئی بھی رُو بہ رُو آئی نہیں ہنوز
میں لکھ رہا ہوں ازل سے قصہ نجات کا
نجات سے لیکن نجات پائی نہیں ہنوز
سرشار جنکی دید تھی بادئہ حرام سے
بھولی اُنہیں بھولے سے خدائی نہیں ہنوز
دانستہ ہوئی دیکھ لو عُشاقؔ شب دراز
ہم منتظر تھے موت کے آئی نہیں ہنوز
عُشاقؔ کشتواڑی
صدر انجمن ترقی اردو (ہند)شاخ چناب ویلی کشتواڑ،جموں
موبائل نمبر؛9697524469