عظمیٰ ویب ڈیسک
نئی دہلی/لداخ کے سماجی و عوامی نمائندوں نے ہفتہ کے روز کہا کہ مرکزی حکومت نے لداخ کو چھٹے شیڈول کے بجائے آرٹیکل 371 کے تحت آئینی تحفظات دینے اور ایک قانون ساز ادارہ قائم کرنے کی پیشکش کی ہے، تاہم بات چیت ابھی جاری ہے اور کوئی حتمی معاہدہ طے نہیں پایا ہے۔وزارتِ داخلہ کی ذیلی کمیٹی کے ساتھ جمعہ کو ہونے والی میٹنگ کے بعد معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے پی ٹی آئی کو بتایا کہ حکومت نے لداخ کیلئے آرٹیکل 371A اور 371G کی طرز پر تحفظات دینے کی تجویز پیش کی ہے اور اصولی طور پر پورے خطے کیلئے ایک بااختیار انتظامی ڈھانچہ قائم کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے، نہ کہ صرف ضلع کونسلوں تک اختیارات محدود رکھنے پر۔
کرگل ڈیموکریٹک الائنس کے رکن سجاد کرگلی نے بتایا کہ مرکز نے لداخ کو قانون ساز، انتظامی، مالیاتی اور ایگزیکٹو اختیارات دینے کی بھی تجویز دی ہے، اور وفد نے حکومت سے اس حوالے سے ایک باضابطہ مسودہ فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ قانونی اور آئینی ماہرین سے مشاورت کے بعد جواب دیا جا سکے۔جمعہ کو لیہہ ایپکس باڈی ،کرگل ڈیموکریٹک الائنس اور وزارتِ داخلہ کی ذیلی کمیٹی کے درمیان ہونے والی میٹنگ میں لداخ کیلئے آئینی تحفظات، جمہوری نمائندگی اور ریاستی درجے کے دیرینہ مطالبے پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔
سونم وانگچک نے کہا کہ مذاکرات کے دوران لداخ کو چھٹے شیڈول میں شامل کرنے اور ریاستی درجے کے مطالبات پر تفصیلی بات ہوئی، تاہم حکومت نے آرٹیکل 371 کے تحت تحفظات دینے کی تجویز پیش کی۔انہوں نے کہا کہ حکومت کو چھٹے شیڈول پر کچھ اعتراضات ہیں، لیکن وہ آرٹیکل 371 کے تحت خصوصی تحفظات دینے پر غور کرنے کیلئے تیار ہے۔
آرٹیکل 371 کے تحت بعض ریاستوں کو ان کی منفرد سماجی، ثقافتی اور علاقائی ضروریات کے پیش نظر خصوصی آئینی اختیارات اور تحفظات دیے جاتے ہیں، جبکہ چھٹے شیڈول کے تحت شمال مشرقی ریاستوں کے قبائلی علاقوں کو خود مختار ضلع کونسلوں کے ذریعے خصوصی انتظامی اور قانون ساز اختیارات حاصل ہوتے ہیں۔
وانگچک کے مطابق پہلے کی تجاویز میں اختیارات صرف لیہہ اور کرگل کی ضلع کونسلوں تک محدود تھے اور اہم فیصلے لیفٹیننٹ گورنر اور بیوروکریسی کے ہاتھ میں رہتے تھے، لیکن اب حکومت اس بات پر متفق ہوئی ہے کہ جو بھی آئینی انتظام ہوگا، وہ پورے لداخ کیلئے ہوگا۔انہوں نے اس پیش رفت کو’’بہت بڑی تبدیلی‘‘قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس نئے ڈھانچے کے تحت منتخب ادارے کو قانون سازی، انتظامی نگرانی اور مالیاتی اختیارات حاصل ہوں گے۔
وانگچک نے کہا کہ بہترین انتظامی نظام ریاستی درجہ ہوتا ہے اور اب لداخ یونین ٹیریٹری ود لیجسلیچر یا ریاستی درجے کی سمت میں بڑھ رہا ہے۔انہوں نے بتایا کہ حکومت کی بنیادی تشویش لداخ کی مالی خود کفالت اور اپنے وسائل سے انتظامی اخراجات پورے کرنے کی صلاحیت سے متعلق ہے، جس کیلئے مختلف مطالعات کئے جا رہے ہیں۔
دوسری جانب سجاد کرگلی نے کہا کہ حکومت نے ایک تجویز پیش کی ہے جس کے مطابق لداخ کو آرٹیکل 371A اور 371G کی طرز پر تحفظات اور قانون ساز، انتظامی، مالیاتی و ایگزیکٹو اختیارات دیے جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ LAB اور KDA نے حکومت سے تحریری مسودہ طلب کیا ہے تاکہ اسے آئینی و قانونی ماہرین کے ساتھ مشاورت کے بعد حتمی رائے دی جا سکے۔کرگلی نے واضح کیا کہ مذاکرات ابھی ابتدائی مرحلے میں ہیں اور اس پر نہ خوشی منانے کی ضرورت ہے اور نہ مایوس ہونے کی، کیونکہ یہ عمل ابھی جاری ہے۔انہوں نے کہا کہ مذاکرات کا جاری رہنا بذاتِ خود ایک مثبت اشارہ ہے اور دونوں فریق لداخ کے عوام کیلئے قابلِ قبول حل تلاش کرنے کیلئے سنجیدہ دکھائی دیتے ہیں۔
واضح رہے کہ لیہہ ایپکس باڈی اور کرگل ڈیموکریٹک الائنس 2019 میں لداخ کو بغیر اسمبلی کے مرکز کے زیر انتظام علاقہ قرار دیے جانے کے بعد سے ریاستی درجے، زمین و ملازمتوں کے تحفظ اور زیادہ جمہوری اختیارات کا مطالبہ کرتے آرہے ہیں۔
لداخ کیلئے آرٹیکل 371 طرز کے آئینی تحفظات کی پیشکش، مذاکرات جاری ہیں