جاوید اقبال
مینڈھر// گورنمنٹ ہائی اسکول ٹوپہ میں منعقدہ سالانہ ثقافتی پروگرام اس وقت عوامی بحث کا موضوع بن گیا جب طلبہ کی جانب سے مبینہ طور پر ’لا کے 3 پیگ بلییے‘ جیسے گانے پر پرفارمنس پیش کی گئی۔ اس واقعہ کے بعد والدین، سماجی کارکنان اور تعلیم سے وابستہ افراد نے شدید تشویش ظاہر کرتے ہوئے سوال اٹھایا ہے کہ تعلیمی اداروں میں آخر کس نوعیت کے ثقافتی پروگراموں کو منظوری دی جا رہی ہے۔مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ اسکول صرف نصابی تعلیم تک محدود ادارے نہیں بلکہ بچوں کی اخلاقی تربیت، کردار سازی اور مثبت سماجی شعور پیدا کرنے کے اہم مراکز بھی ہوتے ہیں۔ ایسے میں شراب کلچر یا نشہ آور رجحانات سے جڑے گانوں پر طلبہ کی پرفارمنس کو کئی حلقوں نے تعلیمی ماحول اور سماجی اقدار کے منافی قرار دیا ہے۔شہریوں کے مطابق اس نوعیت کی پیشکشیں نہ صرف بچوں کی ذہنی تربیت پر منفی اثر ڈال سکتی ہیں بلکہ سماج میں غلط پیغام بھی منتقل کرتی ہیں۔
والدین نے کہا کہ اسکولی تقریبات میں ایسے گانوں کے انتخاب سے پہلے متعلقہ اساتذہ اور منتظمین کو سنجیدگی سے جائزہ لینا چاہیے تاکہ بچوں کے سامنے مثبت اور تعمیری مواد پیش کیا جا سکے۔یہ معاملہ اس وقت مزید حساس شکل اختیار کر گیا جب جموں و کشمیر میں لیفٹیننٹ گورنرکی قیادت میں ’ڈرگ فری جموں و کشمیر‘ مہم سرگرمی سے جاری ہے۔ حکومت اور محکمہ تعلیم کی جانب سے نوجوان نسل کو منشیات اور دیگر نشہ آور عادتوں سے دور رکھنے کیلئے مختلف بیداری پروگرام منعقد کیے جا رہے ہیں، جبکہ اسکولوں کو اس مہم کا اہم حصہ تصور کیا جاتا ہے۔عوامی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ ایک طرف حکومت نوجوانوں کو نشہ کے خلاف بیدار کرنے کی کوشش کر رہی ہے، جبکہ دوسری جانب اسکولی تقریبات میں ایسے گانوں کی اجازت دینا کئی سوالات کو جنم دیتا ہے۔ لوگوں نے ایجوکیشن زون منکوٹ کے نگرانی نظام پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ثقافتی پروگراموں میں پیش کیے جانے والے مواد کی مکمل جانچ ہونی چاہیے تاکہ تعلیمی اداروں کا وقار برقرار رہے۔متعدد سماجی کارکنان اور مقامی شہریوں نے اس واقعہ پر مایوسی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اسکولوں کو طلبہ کی صلاحیتوں، حب الوطنی، تخلیقی سرگرمیوں اور مثبت اقدار کے فروغ کا پلیٹ فارم بننا چاہیے، نہ کہ ایسے تنازعات کا سبب جو معاشرے میں منفی پیغام دیں۔عوام نے محکمہ تعلیم سے مطالبہ کیا ہے کہ اس معاملے کا سنجیدگی سے جائزہ لیا جائے اور آئندہ کیلئے واضح رہنما اصول جاری کیے جائیں تاکہ تمام اسکولی ثقافتی پروگرام تعلیمی، اخلاقی اور سماجی اقدار کے مطابق منعقد ہوں۔