۔ 23مئی سے عمل شروع ہوگا، آخری تاریخ 27جون مقرر
محمد تسکین
بانہال//جموں و کشمیر سٹیٹ پاور ڈیولپمنٹ کارپوریشن لمیٹڈ(جے کے ایس پی ڈی سی ایل)نے ضلع رام ن میں مجوزہ بغلیہار ہائیڈرو الیکٹرک پروجیکٹ سٹیجIII کیلئے تفصیلی پروجیکٹ رپورٹ (DPR) تیار کرنے کے سلسلے میں ٹینڈر جاری کر دیا ہے۔جموں و کشمیر ای-پروکیورمنٹ پورٹل پر دستیاب ٹینڈر نوٹس کے مطابق یہ ٹینڈر کنسلٹنسی خدمات کیلئے جاری کیا گیا ہے، جس کے تحت بغلیہار سٹیج-III منصوبے کی مکمل ڈی پی آر، تکنیکی مطالعہ اور متعلقہ دستاویزات تیار کئے جائیں گے۔ دستاویزات کے مطابق یہ اوپن ٹینڈر ہے جبکہ منصوبہ کنسلٹنسی زمرے میں شامل کیا گیا ہے۔ٹینڈر تفصیلات کے مطابق ٹینڈروں کی آن لائن جمع آوری 23 مئی 2026 سے شروع ہوگی جبکہ آخری تاریخ 27 جون 2026 مقرر کی گئی ہے۔ تکنیکی بولیاں (ٹینڈر) 29 جون کو سرینگر میں کھولے جائیں گے۔ اس کے علاوہ 4 جون 2026 کو پری-بیڈنگ میٹنگ بھی منعقد ہوگی۔ٹینڈر دستاویزات میں بتایا گیا ہے کہ حصہ لینے والی کمپنیوں کیلئے 10 لاکھ روپے بطور زت ضمانت( ای ایم ڈی) اور 10 ہزار روپے ٹینڈر فیس مقرر کی گئی ہے۔
بغلیہار ہائیڈرو الیکٹرک پروجیکٹ دریائے چناب پر چندرکوٹ کے نزدیک واقع جموں و کشمیر کے اہم ترین پن بجلی منصوبوں میں شمار ہوتا ہے۔ موجودہ بغلیہار منصوبہ تقریباً 900 میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور یہ خطے میں بجلی کی پیداوار کا ایک بڑا ذریعہ ہے۔ جموں وکشمیر سٹیٹ پاور ڈیولپمنٹ کارپوریشن حکام کے مطابق مجوزہ بغلیہار سٹیج تین منصوبہ دریائے چناب میں پن بجلی پیداوار کی صلاحیت میں مزید اضافہ کرے گا اور جموں و کشمیر میں بجلی کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔ بغلیہار پاور پروجیکٹ کے پہلے دو یونٹ 450میگاواٹ کے ہیں۔ ان میں پہلا یونٹ 2008اور دوسرا یونٹ 2015 میں مکمل کیا گیا۔ موسم گرما کے مہینوں کے دوران، دریائے چناب پر برف پگھلنے اور دریا کے بہا ئومیں اضافہ عام طور پر اس سہولت کو اپنی پوری 900 میگاواٹ صلاحیت پر یا اس کے قریب کام کرنے کی صلاحیت دیتا ہے۔ تاہم، پیداوار میں اتار چڑھائو آ تا ہے۔ کم بارش یا طویل خشک سالی کے ادوار میں، پیداوار کل صلاحیت 120-150 میگاواٹ تک گر سکتی ہے۔مئی اور ستمبر کے درمیان پاور پروجیکٹ کے دونوں یونٹ اپنی پوری صلاحیت کے مطابق کام کرتے ہیں لیکن ستمبر کے بعد ایک یونٹ تقریباً بند ہوجاتا ہے جبہ دوسرے یونٹ کی صلاحیت قریب 150میگاواٹ تک گرتی ہے۔بغلیہار پاور پروجیکٹ جموں کشمیر حکومت کا اپنا منصوبہ ہے اور اس میں این ایچ پی سی کی کوئی شراکت داری نہیں ہے۔