گوشت، انڈوں اور دودھ کا کم استعمال عام طور پر کمی کا سبب
پرویز احمد
سرینگر //وٹامن بی 12 کی کمی جموں و کشمیر میں صحت عامہ کی ایک اہم اور بہت زیادہ عام تشویش ہے، جو اکثر اس خطے کی سبزی خور غذا کی عادات اور سماجی ثقافتی غذائی پیٹرن کی وجہ سے بڑھ جاتی ہے۔علاقائی مطالعات اور کثیر مرکزی اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ پورے شمالی ہند اور جموں و کشمیر میں 24% سے تقریباً 50% تک غیر علامتی افراد بی 12 کی کمی کا شکار ہیں۔ کیسز کا ایک بڑا حصہ خالص سبزی خوروں میں شامل ہے جن کے پاس گوشت، مچھلی، انڈے، اور دودھ کی مصنوعات کا استعمال کی کمی ہے۔ حاملہ خواتین اور چھوٹے بچوں کو خاص طور پر خطرہ ہوتا ہے، جو زچگی میں خون کی کمی اور نشوونما کا سبب بن سکتا ہے۔وٹامن B12 اہم غذائیت ہے جو جسم کی مجموعی صحت کو بنائے رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔یہ خون کی سرخ خلیوں کی پیدوار،جینیات کی ترکیب اور اعصابی نظام کے صحیح طریقے سے کام کرنے کیلئے ضروری ہے۔
اس اہم وٹامن کی کمی صحت کیلئے مسائل کا سبب بن سکتی ہے اور اسی وجہ سے اس کی کمی کو ابتداء میں پہنچاننا اور علامات کو دور کرنا لازمی ہوتا ہے۔ وٹامن بی 12کی کمی اسوقت ہوتی ہے جب یہ وٹامن جسم کی ضرورت پوری کرنے کیلئے صحیح مقدار میں موجود نہیں ہوتا ہے۔ یہ کمی کافی وجوہات کی وجہ سے ہوتی ہے جن میں غیرمتوازن طاقت کی کمی والی خوراک،نظام ہاضمہ میں مسائل اور دیگر بیماریاں شامل ہیںجومریضوں میں کئی پریشانیوں کا سبب بن جاتی ہے۔ ملکی سطح پر یہ کمی 50فیصد سے زائد ہے لیکن جموں و کشمیر میں اس کی اوسط قومی سطح سے کم ہے۔ جموں و کشمیر میں وٹامن بی 12کی کمی سے جوج رہے لوگوں کی شرح 24فیصد سے زیادہ ہے جبکہ بچوں میں اس کی شرح 17فیصد سے کم ہے۔ قدرتی طور پر وٹامن B12 گوشت، انڈے اور دودھ میں پایا جاتا ہے اور ان چیزوں کا کم استعمال عام طور پر B12کی کمی کا سبب بنتی ہے۔ اس کے علاوہ نظام ہاضمہ میں مسائل کی وجہ سے کھانا جذب نہ ہونے کی وجہ سے بھی B12وٹامن کی کمی ہوجاتی ہے جبکہ چند انفکیشن کی وجہ سے بھی اس کی کمی پیدا ہوتی ہے۔اس کی اہم علاماتوں میںشدید تھکاوٹ یا کمزوری،سانس لینے میں تکلیف ، دل کی دھڑکن تیز ہونا ،اعصاب میں بے حسی یا جھنجھناہٹ ،موڈ میں تبدیلی اور افسردگی کی علامتیں شامل ہیں۔ وٹامن B 12کی کمی کی تشخیص کے بعد اس کے علاج کیلئے کئی طریقے اپنائے جاتے ہیں۔شدید کمی کی صورت میں ڈاکٹر نہ صرف B12کے انجیکشوں اور گولیاں لینے کی صلاح دیتے ہیں بلکہ اس کے ساتھ ساتھ متوازن اور طاقت سے بھر پور غذا لینے کی بھی صلاح دی جاتی ہے۔واد میں بیشتر ماہر امراض اعصاب کا کہنا ہے کہ جموں و کشمیر میں اس کی کمی کی سب سے بڑی وجہ موٹاپا اور بڑھتی ہوئی شوگر کی بیماری ہے۔ ڈاکٹر عادل امتیاز کا کہنا ہے کہ جموں و کشمیر میں یہ بیماری زیادہ تر عمر رسیدہ افراد اور شوگر مریضوں میں ہوتی ہے۔ ڈاکٹر عادل نے بتایا کہ عمر رسیدہ مرد اور خواتین میں یہ بیماری غذاہضم نہ ہونے کی وجہ سے ہوتی ہے جبکہ شوگر اور بلڈ پریشر مریضوں میں اس کی بڑی وجہ طاقت سے بھر پور غذا کی کمی ہوتی ہے۔