ریجنل آپتھولوکوجی انسٹی ٹیوٹ کے قیام کا معاملہ 2015سےلٹکا ہوا
پرویز احمد
سرینگر //کشمیر میں بینائی کی خرابی اور آنکھوں کی بیماریاں صحت عامہ کے اہم مسائل ہیں۔ ہسپتال پر مبنی اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ موتیابن اور وادی کی 90فیصد آبادی آنکھوں کے مختلف امراض میں مبتلا ہے اور امراض چشم میں مبتلا لوگوں کی اتنی بڑی تعداد میں معیاری طبی خدمات فراہم کرنے کیلئے سرکاری سطح پر کوئی بھی ہسپتال موجود نہیں ہے۔ دوسری جانب نجی سطح پر قائم آنکھوں کے ہسپتالوں میں تل دھرنے کی جگہ نہیں ہوتی ہے۔جہاں مختلف قسم کی آنکھوں کی جراحیوں کیلئے 20ہزار سے ڈیڑھ لاکھ روپے تک لئے جاتے ہیں۔وادی میں عمر رسیدہ آبادی میں، بصارت کی خرابی تقریباً 26% افراد کو متاثر کرتی ہے۔ آنکھوں کے مسائل کا پھیلائو حالت اور عمر کے لحاظ سے نمایاں طور پر مختلف ہے۔ اضطراری خرابیاں اور بصارت کی خرابی بالغوں میںمجموعی طور پرتقریباً 12فیصد ہے۔ بڑی عمر کی آبادی بصارت کی شدید خرابی یا کمزوری کا تجربہ کرتی ہے۔ اندھا پن تقریباً 2% کو متاثر کرتا ہے۔
مطالعات سے پتہ چلتا ہے کہ تقریباً 20% سکولی بچے غیر درست نہ ہونے والی اضطراری غلطیوں کا شکار ہیں۔مایوپیا کے شکار 57.4%ہے۔موتیابن وادی میں دو طرفہ اور یکطرفہ اندھے پن کی سب سے بڑی وجہ ہے۔ بالغوں میں سے 30.8فیصد تک موتیا کی تشخیص کی جاتی ہے۔ دو طرفہ موتیابن اندھا پن تقریباً 4.16 فیصد آبادی کو متاثر کرتا ہے۔ گلوکوما ناقابل واپسی اندھے پن کی سب سے عام وجہ ہے، جو خطے میں یکطرفہ اور 45 فیصد دو طرفہ اندھے پن کے کیسز کا باعث بنتا ہے۔گلوکوما وادی میں بہت زیادہ پایا جاتا ہے۔ کشمیر میں ناقابل واپسی اندھے پن کے تقریباً 18 فیصد کیسز ہیں۔ کلر ویژن کی کمی سے4 فیصد متاثر ہوتی ہے۔اتنے بڑے پیمانے پر آنکھوں کے مسائل سے نمٹ رہی وادی کشمیر کی آبادی عرصہ دراز سے امراض چشم کیلئے خصوصی ادارے کی مانگ کررہی ہے لیکن سننے والا کوئی نہیں ہے۔ خاص کر 2016میں جب پیلٹ گن سے ہزاروں لوگ ،تاثر ہوئے تو اس وقت اسکے قیام کی ضرورت زیادی محسوس کی گئی لیکن بعد میں اس معاملے کو فوقیت نہیں دی گئی۔یہ بات قابل ذکر ہے کہ سال 2015میں لوگوں کی بصارت بچانے کیلئے پورے بھارت میں 22ریاستوں اور مرکزی زیر انتظام علاقوں میں آنکھوں کے خصوصی ہسپتال کے قیام کیلئے رقوامات وگذار کی گئیں اور سرینگر میں قائم ہونے والے ریجنل آپتھولوکوجی انسٹی ٹیوٹ کے لئے بھی ایک کروڑ روپے کی پہلی قسط واگذار کی گئی تھی لیکن حکومت اور جی ایم سی سرینگر کے شعبہ امراض چشم کے ڈاکٹروں کی عدم توجہی کی وجہ سے سرینگر میں آنکھوں ہسپتال کا قیام ایک خواب بن کر رہ گیا ۔ مجموعی طور پر 90فیصد آبادی آنکھوں کی مختلف بیماریوں میں مبتلا ہونے کے باوجود آج تک کسی بھی حکومت نے سرکاری سطح کا ہسپتال قائم کرنے کی ذمہ داری نہیں نبھائی۔عمومی طور پر بھارت کی ہر ریاست اور یوٹیز میں آنکھوں کیلئے خصوصی ہسپتال قائم کئے گئے ہیں لیکن کشمیر اس لحاظ سے انتائی بدقسمت رہا ہے۔ مریضوں کی اتنی بڑی تعداد کے باوجود بھی لوگوں کو معیاری علاج فراہم کرنے کیلئے صدر ہسپتال میں کئی دہائیوں سے صرف ایک چھوٹا سا یونٹ کام کررہا ہے۔ سرکاری سطح پر آنکھوں کیلئے مخصوص ہسپتال کی ضرورت کیوں نہیں سمجھی گئی لوگ سمجھنے سے قاصر ہیں۔جموں و کشمیر آپتھومولوجی انسٹی ٹیوٹ کیلئے کشمیر نرسنگ ہوم کا انتخاب کیا گیاتھا۔ کشمیر نرسنگ ہوم کو امراض چشم کے خصوصی ہسپتال میں تبدیل کرنے کیلئے پہلے 48کرورڑروپے کا منصوبہ بنا یاگیا اور پروجیکٹ کو حتمی شکل دینے میں تاخیر کی وجہ سے آنکھوں کی بیماریوں کا علاج کرنے کیلئے علیحدہ خصوصی ہسپتال بنانے کا منصوبہ بنا یاگیا جسکا تخمینہ 9.81کروڑ روپے لگایا گیا لیکن کورونا وائرس کے عالمی وباء کی وجہ سے یہ منصوبہ شروع نہ ہوسکا ۔ سال 2021میں جی ایم سی سرینگر کو ایک کروڑ روپے وگذار کئے گئے لیکن کورونا وائرس کی وجہ سے منصوبہ ایک مرتبہ پھر تاخیر کا شکار ہوگیا۔ گورنمنٹ میڈیکل سرینگر نے ریجنل آپتھوموجی کے منصوبہ میں پھر ترمیم کرکے اس کیلئے 61کروڑ روپے کا ڈی پی آر تیار کرکے سرکار کو بھیج دیا ۔ پرنسپل گورنمنٹ مڈیکل کالج سرینگر ڈاکٹر عفت شاہ نے کہا ’’ سپر سپیشلٹی ہسپتال بنانے کیلئے ہم نے منصوبہ میں ترمیم کی اور کئی نئی سہولیات کو بھی شامل کیا گیا اور منصوبہ سرکار کومنظوری کیلئے بھیج دیا گیاہے۔ انہوں نے کہا کہ ابھی تک سرکار کی طرف سے منظوری نہیں دی گئی ہے۔