یواین آئی
نئی دہلی//مرکزی وزیر برائے تجارت و صنعت پیوش گوئل نے برآمداتی کاروبار کو خود انحصاری کی اہم علامت قرار دیتے ہوئے پیر کے روز کہا کہ اگلے پانچ سال میں ملک کی برآمدات کو 2000 ارب (2 ٹریلین) ڈالر تک پہنچانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، جبکہ جاری مالیاتی سال میں مجموعی برآمدات 1000 ارب ڈالر سے تجاوز کر جائیں گی۔ گوئل نے برآمداتی کاروبار میں توسیع کو ‘آتم نربھر بھارت’ (خود انحصار ہندوستان) کی اصل پہچان قرار دیتے ہوئے کہا کہ مصنوعات (گڈس)اور خدمات (سروسز) دونوں شعبوں میں ہندوستان نے ترقی درج کی ہے، جو کہ موجودہ عالمی حالات کے تناظر میں ایک بڑی کامیابی ہے۔ وہ یہاں ‘بھارت منڈپم’ میں منعقدہ ‘بھارتیہ ویاپار مہوتسو’ (انڈین ٹریڈ فیسٹیول) کی ویب سائٹ کا افتتاح کرنے کی تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔
امریکی امپورٹ ڈیوٹی (آٹ بانڈ ٹیرف) اور عالمی سطح پر جیو پولیٹیکل چیلنجوں کے باوجود مالیاتی سال 2025-26 میں ہندوستان کی برآمدات 863 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، جو اس سے پچھلے مالیاتی سال کے مقابلے میں تقریبا 5 فیصد زیادہ ہیں۔مرکزی وزیر نے تمام متعلقہ فریقین سے ‘بھارتیہ ویاپار مہوتسو’ کو کامیاب بنانے کے لیے مل کر کام کرنے کی اپیل کی اور اس ایونٹ کے لیے اپنی نیک تمناں کا اظہار کیا۔ یہ تجارتی میلہ 12 اگست سے 15 اگست 2026 تک منعقد کیا جائے گا۔برآمداتی شعبے کو حکومت کی جانب سے مکمل تعاون کا یقین دلاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ برآمدات کا یہ ہدف صرف حکومت کا نہیں بلکہ سب کا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ گزشتہ ساڑھے تین سالوں میں جو تجارتی معاہدے کیے گئے ہیں، ان کے تحت تقریبا 38 ترقی یافتہ ممالک کے ساتھ ‘آزادانہ تجارتی معاہدے’ (ایف ٹی اے) کی سمت اہم پیش رفت ہوئی ہے۔ ان معاہدوں کی بدولت ہندوستانی مصنوعات کو بڑی عالمی مارکیٹوں تک ترجیحی رسائی حاصل ہوگی، جہاں ہندوستانی سامان دیگر مسابقتی ممالک کے مقابلے میں کم امپورٹ ڈیوٹی پر فروخت کیا جا سکے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ معاہدے مرحلہ وار نافذ ہوں گے۔انہوں نے مطلع کیا کہ عمان کے ساتھ آزادانہ تجارتی معاہدہ (ایف ٹی اے) جون سے نافذ العمل ہو سکتا ہے، جبکہ دیگر معاہدے کاغذی کارروائی کی رسمی ضروریات پوری ہونے کے بعد لاگو کر دیے جائیں گے۔ پیوش گوئل نے تمام کاروباری و متعلقہ حلقوں پر زور دیا کہ وہ وزارتِ تجارت کے ‘ٹریڈ پورٹل’ کے ذریعے درآمدات (امپورٹ) کے رجحانات کا باریک بینی سے مطالعہ کریں تاکہ مقامی سطح پر مینوفیکچرنگ کو بڑھانے اور درآمدات کے متبادل تلاش کرنے کے مواقع کی شناخت کی جا سکے۔