مشتاق الاسلام
پلوامہ //ضلع پلوامہ کے کاکاپورہ میں 50 بستروں پر مشتمل سب ڈسٹرکٹ ہسپتال کی تکمیل کے باوجود اس کا غیر فعال رہنا مقامی آبادی کیلئے ایک سنگین مسئلہ بن چکا ہے۔ سات برس قبل شروع ہونے والا یہ منصوبہ اب مکمل ہو چکا ہے، مگر دروازے آج بھی مریضوں کیلیے بند ہیں، جس پر لوگوں میں شدید ناراضی اور بے چینی پائی جا رہی ہے۔ سال 2018 میں شروع ہونے والے اس اہم صحت منصوبے کا مقصد کاکاپورہ سمیت پلوامہ اور بڈگام اضلاع کے تقریباً 100 دیہات کو جدید طبی سہولیات فراہم کرنا تھا۔ سرکاری منصوبے کے مطابق اس ہسپتال پر مجموعی طور پر 21 کروڑ روپے خرچ ہونا تھے، جن میں سے تقریباً 20 کروڑ روپے پہلے ہی صرف کیے جا چکے ہیں۔ اس مقصد کیلئے لوگوں نے 16 کنال اراضی وقف کی گئی، جبکہ ہسپتال کی عمارت، ڈاکٹروں اور نرسنگ اسٹاف کے رہائشی کوارٹرز بھی مکمل طور پر تیار ہیں۔ تعمیراتی کام 2025 میں مکمل قرار دیا گیا، حالانکہ اسے 2024 تک عوام کیلیے کھولنے کا وعدہ کیا گیا تھا۔مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ ہسپتال فعال ہونے سے ہزاروں مریضوں کو گھر کے قریب علاج میسر آئے گا اور معمولی بیماریوں کیلئے سری نگر یا دیگر اضلاع کا رخ کرنے کی مجبوری ختم ہو جائے گی۔ ان کے مطابق اس ہسپتال کے کھلنے سے ضلع ہسپتال پلوامہ پر مریضوں کا دباؤ بھی نمایاں طور پر کم ہو سکتا ہے۔اس مسئلے کو اجاگر کرنے کیلئے مقامی سماجی کارکن علی محمد جان نے آج کاکاپورہ سے پریس کالونی سری نگر اور وہاں سے سول سیکرٹریٹ تک پیدل مارچ کا اعلان کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ عوامی مفاد کے اس منصوبے کو مکمل ہونے کے باوجود بند رکھنا انتظامیہ کی سنگین لاپرواہی ہے۔انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ہسپتال کو انسانی بنیادوں پر فوری طور پر عوام کے حوالے کیا جائے تاکہ 80 دیہات پر مشتمل اس تحصیل صدر مقام کے عوام کو بروقت اور بنیادی طبی سہولیات فراہم ہو سکیں۔