عظمیٰ نیوز سروس
سرینگر//بھارت میں اپریل 2026 کے دوران بے روزگاری کی مجموعی شرح 5.2 فیصد پر برقرار رہی تاہم دیہی علاقوں میں بے روزگاری میں اضافہ درج کیا گیا ہے جس سے روزگار کی صورتحال پر نئی تشویش پیدا ہو گئی ہے۔سرکاری اعداد و شمار کے مطابق شہری علاقوں کے مقابلے میں دیہی علاقوں میں روزگار کے مواقع محدود ہونے کی وجہ سے بے روزگاری کی شرح بڑھ کر 4.6 فیصد تک پہنچ گئی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ زرعی سرگرمیوں میں کمی، موسمی عوامل اور محدود صنعتی مواقع اس اضافے کی اہم وجوہات ہیں۔رپورٹ کے مطابق شہری علاقوں میں خدمات اور چھوٹے کاروبار کے شعبے میں سرگرمیاں برقرار رہنے سے بے روزگاری میں زیادہ اتار چڑھاؤ نہیں دیکھا گیا جبکہ دیہی معیشت اب بھی روزگار کے بحران سے مکمل طور پر نہیں نکل سکی ہے۔ماہرین اقتصادیات کا ماننا ہے کہ حکومت کو دیہی علاقوں میں روزگار پیدا کرنے کیلئے خصوصی اسکیموں، چھوٹے صنعتوں کے فروغ اور بنیادی ڈھانچے کی ترقی پر توجہ دینی ہوگی تاکہ نوجوانوں کو بہتر روزگار فراہم کیا جاسکے۔اعداد و شمار سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ نوجوانوں میں بے روزگاری کی شرح اب بھی ایک بڑا چیلنج بنی ہوئی ہے، خاص طور پر تعلیم یافتہ نوجوان مستقل ملازمتوں کے حصول میں مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔معاشی ماہرین کے مطابق اگرچہ مجموعی بے روزگاری کی شرح میں استحکام ایک مثبت اشارہ ہے، لیکن دیہی علاقوں میں بڑھتی بے روزگاری مستقبل میں معیشت اور سماجی صورتحال پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔