یو این آئی
نئی دہلی//جمعہ کے روز پیٹرول، ڈیزیل اور سی این جی کی قیمتوں میں ہونے والے اضافے پر صنعتی شعبے کا ماننا ہے کہ اس سے روزمرہ کی اشیا کی قیمتیں بڑھیں گی، تاہم مشرقِ وسطی کے بحران کے پیشِ نظر ملک کے مفاد میں یہ قدم اٹھانا ضروری تھا۔تیل کی مارکیٹنگ کمپنیوں نے پٹرول اور ڈیزیل کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا ہے۔ قومی دارالحکومت دہلی میں دونوں ایندھنوں کی قیمتوں میں تین تین روپے کا اضافہ ہوا ہے۔ اس کے ساتھ ہی دہلی اور قریبی شہروں میں گیس سپلائی کرنے والی کمپنی ‘اندر پرستھ گیس’ نے بھی سی این جی کی قیمت دو روپے فی کلوگرام بڑھا دی ہے۔
ایندھن کی قیمتوں میں اضافے پر ردِعمل دیتے ہوئے ‘انفومیرکس ریٹنگز’ کے چیف اکانومسٹ منورنجن شرما نے کہا کہ پیٹرول اور ڈیزیل کی قیمتوں میں آج ہونے والا تین تین روپے کا اضافہ پہلے سے متوقع تھا۔ یہ مشرقِ وسطی کے بحران کی وجہ سے پیدا ہونے والی صورتحال کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایندھن کے دام بڑھنے سے نقل و حمل (ٹرانسپورٹ)اور پیداواری لاگت میں اضافہ ہوگا، جس کے نتیجے میں تمام ضروری اشیا مہنگی ہوں گی اور افراطِ زر(مہنگائی)کی شرح بڑھے گی۔ شرما نے واضح کیا کہ اپنی ضرورت کا 85 فیصد خام تیل درآمد کرنے والے ہندوستان کے لیے زرمبادلہ کے ذخائر اور مالیاتی استحکام کے درمیان توازن برقرار رکھنا لازمی ہے، کیونکہ کمزور ہوتے ہوئے روپے کی وجہ سے درآمدات کی لاگت میں اضافہ ہوا ہے۔