عظمیٰ نیوز سروس
سرینگر//کاروباری انجمن (کے ٹی ایم ایف) نے جے کے بینک کی اعلیٰ انتظامیہ کے ساتھ ایک اہم ملاقات کے دوران بینک اور کاروباری طبقے کے درمیان بڑھتی ہوئی دوری پر سخت تشویش ظاہر کرتے ہوئے فوری پالیسی اصلاحات کا مطالبہ کیا ہے۔وفد کی قیادت کے ٹی ایم ایف کے صدر محمد یاسین خان کر رہے تھے۔ ملاقات میں تاجروں کو درپیش دیرینہ مسائل، قرضہ جاتی پالیسیوں، سود کی شرح، او ٹی ایس اسکیم، انشورنس دعوؤں اور ریکوری طریقہ کار سے متعلق معاملات تفصیل سے اٹھائے گئے۔محمد یاسین خان نے کہا کہ جے کے بینک کو ماضی میں عوامی بینک اور مقامی تجارت و صنعت کی ریڑھ کی ہڈی تصور کیا جاتا تھا، تاہم اب تاجروں کی ایک بڑی تعداد خود کو بینک کی بعض پالیسیوں اور طرزِ عمل کی وجہ سے اجنبی محسوس کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تاجروں میں یہ تاثر مضبوط ہو رہا ہے کہ بینک اپنے پرانے اور وفادار صارفین کو سہارا دینے کے بجائے زمینی حقائق سے دور ہوتا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کے ٹی ایم ایف کی جانب سے اٹھائے گئے مسائل محض چند افراد کی شکایات نہیں بلکہ جموں و کشمیر بھر کے تاجروں اور کاروباری حلقوں کے جذبات کی نمائندگی کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ دہائیوں سے بینک کے ساتھ وابستہ کاروباری ادارے اب زیادہ لچک، تعاون اور بہتر تفہیم کی توقع رکھتے ہیں۔یاسین خان نے جے کے بینک کی جانب سے کاروباری قرضوں پر دیگر قومی اور نجی بینکوں کے مقابلے میں زیادہ شرح سود وصول کیے جانے پر بھی تشویش ظاہر کی۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ برسوں سے وفادار رہنے والے مقامی تاجروں پر اضافی مالی بوجھ کیوں ڈالا جا رہا ہے۔وفد نے بغیر سخت شرائط کے ایک جامع ون ٹائم سیٹلمنٹ (او ٹی ایس) اسکیم متعارف کرنے کا بھی مطالبہ کیا اور کہا کہ مالی مشکلات سے دوچار تاجروں کو عملی اور حقیقت پسندانہ سہولتیں فراہم کی جائیں۔کے ٹی ایم ایف نے افکو ٹوکیو جنرل انشورنس سے وابستہ انشورنس پالیسیوں کے دعوؤں کی ادائیگی میں تاخیر اور صارفین کو درپیش مشکلات کا معاملہ بھی زور دار انداز میں اٹھایا۔ یاسین خان نے کہا کہ پالیسی ہولڈرز کی جانب سے بار بار شکایات موصول ہو رہی ہیں کہ حقیقی دعوؤں کے باوجود انہیں غیر ضروری رکاوٹوں اور ہراسانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چونکہ جے کے بینک کا اس کمپنی کے ساتھ مفاہمتی معاہدہ موجود ہے، اس لیے بینک صارفین کی مشکلات سے لاتعلق نہیں رہ سکتا۔ریکوری عمل سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے یاسین خان نے کہا کہ کے ٹی ایم ایف قانونی وصولی کے خلاف نہیں، تاہم قرض داروں کی عوامی سطح پر نامزدگی اور رسوائی جیسے اقدامات ان کی عزتِ نفس کو مجروح کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مالی دباؤ کو سماجی سزا میں تبدیل نہیں کیا جانا چاہیے۔انہوں نے غیر استعمال شدہ منظور شدہ فنڈز پر عائد ’’کمٹمنٹ چارجز‘‘ کو بھی کاروباری طبقے پر اضافی بوجھ قرار دیا۔وفد نے پریمیم اور پرانے صارفین کے لیے اوور ڈرافٹ سہولتوں میں توسیع، اعلیٰ انتظامیہ تک آسان رسائی، مصروف شاخوں میں عملے کی تعداد بڑھانے، قرضہ جاتی نظام کو آسان بنانے اور تجارتی نمائندوں پر مشتمل ’’ٹریڈ کنسلٹیشن بورڈ‘‘ کے قیام کی تجویز بھی پیش کی تاکہ تاجروں اور بینک کے درمیان سہ ماہی بنیادوں پر باضابطہ مشاورت ہو سکے۔انہوں نے کہا کہ تجارت اور بینکاری معیشت کے دو لازم و ملزوم ستون ہیں اور زمینی حقائق سے کٹی ہوئی پالیسیاں کاروباری اعتماد کو متاثر کر سکتی ہیں۔اس موقع پر جے کے بینک کی جانب سے آشوتوش سرین چیف جنرل منیجر انٹیگریٹڈ کریڈٹس اینڈ مارکیٹس، نے وفد کے خدشات کا مثبت جواب دیتے ہوئے یقین دلایا کہ جے کے بینک کاروباری برادری کے ساتھ اپنے تعلقات کو انتہائی اہمیت دیتا ہے اور جموں و کشمیر کی معیشت میں تاجروں کے کردار کو تسلیم کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ کے ٹی ایم ایف کی جانب سے اٹھائے گئے مسائل حقیقی زمینی صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں اور بینک صارفین کے اعتماد کو مزید مضبوط بنانے، خدمات میں بہتری لانے اور کاروبار دوست ماحول پیدا کرنے کے لیے متعدد اصلاحات پر غور کر رہا ہے۔انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ وفد کی جانب سے پیش کیے گئے تمام معاملات کو سنجیدگی سے متعلقہ سطحوں پر زیر غور لایا جائے گا اور بینک تجارتی تنظیموں کے ساتھ تعمیری مکالمے کو جاری رکھے گا۔ملاقات میں جے کے بینک کے مختلف زونل اور کلسٹر سربراہان کے علاوہ کے ٹی ایم ایف کے سینئر اراکین اور مختلف تجارتی انجمنوں کے نمائندے بھی موجود تھے۔