عظمیٰ نیوزسروس
سرینگر//جموں و کشمیر کرائم برانچ کے سپیشل کرائم ونگ کشمیر نے زمینوں میں مبینہ فراڈ کیس کے سلسلے میں بدھ کے روز سرینگر اور بڈگام اضلاع میں مختلف مقامات پر چھاپہ مار کارروائیاں انجام دیں۔ یہ کارروائیاں ایف آئی آر نمبر 06/2026 کے تحت درج کیس کی تحقیقات کے سلسلے میں کی گئیں۔حکام کے مطابق یہ کیس ایک تحریری شکایت کی بنیاد پر درج کیا گیا تھا، جو ہمہامہ، بڈگام کے ایک رہائشی کی جانب سے درج کرائی گئی۔ شکایت میں الزام لگایا گیا کہ سولنہ سرینگر کے رہائشی طارق احمد صوفی نے نارکرہ علاقے میں زمین فروخت کرنے کے بہانے شکایت کنندہ سے لاکھوں روپے ہڑپ کیے۔ تحقیقات کے دوران کرائم برانچ کو ابتدائی طور پر یہ شواہد ملے کہ ملزم نے مبینہ طور پر نارکرہ بڈگام کے ایک اور شخص طارق احمد وانی کے ساتھ مل کر ایک منظم منصوبہ بنایا، جس میں اس وقت کے پٹواری کی ملی بھگت سے جعلی دستاویزات تیار کرکے غیر قانونی لین دین کو انجام دیا گیا۔حکام کے مطابق ملزمان مبینہ طور پر لینڈ بروکر کے طور پر کام کرتے ہوئے ایک مجرمانہ سازش کے تحت شکایت کنندہ کو دھوکہ دینے اور رقم ہڑپ کرنے میں ملوث پائے گئے۔کرائم برانچ نے بتایا کہ تحقیقات کے سلسلے میں مختلف مقامات پر کارروائیاں متعلقہ ایگزیکٹو مجسٹریٹس کی موجودگی میں کی گئیں تاکہ اہم دستاویزات اور شواہد اکٹھے کئے جاسکیں۔ادھر کرائم برانچ نے عوام کو خبردار کیا ہے کہ وہ زمینوں کے معاملات میں احتیاط برتیں اور کسی بھی مشکوک لین دین کی صورت میں فوری طور پر ایس ایس پی اسپیشل کرائم ونگ کشمیر کو اطلاع دیں۔