عظمیٰ نیوز سروس
سرینگر// اپنی پارٹی سربراہ سید الطاف بخاری نے جموں و کشمیر سرکارسے تلقین کی ہے کہ وہ تمل ناڈو کی نئی منتخب حکومت سے تحریک حاصل کرکے یہاں بھی شراب کی خرید و فروخت پر پابندی عائد کرے۔ انہوں نے کہا کہ یہاں کے لوگ مکمل شراب بندی چاہتے ہیں، اور منتخب حکومت عوامی جذبات کا احترام کرنے کی پابند ہے۔اپنے ایکس ہینڈل پر بخاری نے لکھا’’ اقتدار سنبھالنے کے فورا ًبعد تمل ناڈو کے نئے منتخب وزیر اعلیٰ نے یہ دکھایا کہ حقیقی عوامی قیادت کیسی ہوتی ہے، ان کے فیصلے واضح طور پر ان لوگوں کی خواہشات اور جذبات کی عکاسی کرتے ہیں جنہوں نے انہیں منتخب کیا ہے۔
حلف اٹھانے کے دو دن بعد ہی انہوں نے ریاست بھر میں مندروں، سکولوں اور بس اڈوں کے قریب واقع 717 شراب کی دکانوں کو بند کرنے کا حکم دیا۔اس اقدام کو جرات مندانہ قرار دیتے ہوئے بخاری نے مزید کہاکہ یہ فیصلہ آسان نہیں تھا۔ کیونکہ تمل ناڈو کی آمدنی کا ایک بڑا حصہ شراب کی فروخت سے حاصل ہوتا ہے۔ اس کے باوجود ایک دیرینہ عوامی مطالبہ پورا کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے ہماری سیاسی جماعتیں الزام تراشی میں مصروف ہیں۔ برسر اقتدار نیشنل کانفرنس کہتی ہے کہ جب پی ڈی پی اقتدار میں تھی تو اس نے بھی شراب بندی نہیں کی، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ نیشنل کانفرنس بھی پی ڈی پی کے راستے پر چلے۔انہوں نے مزید کہا، جموں و کشمیر کے لوگ، چاہے ان کا تعلق کسی بھی مذہب یا خطے سے ہو، بارہا مکمل شراب بندی کا مطالبہ کر چکے ہیں۔ جمہوریت میں اقتدار عوام کا ہوتا ہے، اور ہر منتخب حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے عوام کے جذبات، اقدار اور امنگوں کا احترام کرے۔