راجہ یوسف
’’کیا دیکھ رہی ہو میری آنکھوں میں۔ کیا تم ڈر کی تلاش میں ہو؟‘‘
’’ نہیں ، میں تمہاری آنکھوں میں تیری خود اعتمادی کو دیکھ رہی ہوں۔‘‘
’’ یہاں؟ آنکھوں میں‘‘
’’ تمہاری آنکھوں سے تمہاری روح کے اندر۔‘‘
’’ اوووو سارہ ۔ سارہ تم کیا یہ سمجھتی ہو کہ میں خوفزدہ ہوں۔ ‘‘
’’ ہاں۔۔۔ پر میں چاہتی ہوں کہ تم ڈر کو اپنے دل سے نکال دو۔ یہ سارہ تمہارے ساتھ ہے جس سے ڈر بھی خوفزدہ رہتا ہے۔‘‘
’’ میں بھی اپنی ہمت جٹھا رہا ہوں اور مجھے خود پر بھروسہ ہے۔ میں کسی بھی خوف کا ڈٹ کر مقابلہ کر سکتا ہوں۔‘‘
’’ Good۔ میں تمہیں اسی طرح بے خوف اور نڈر دیکھنا چاہتی ہوں۔ ‘‘
ہم یعنی میں اور سارہ بڑی دیر سے باغ نشاط کے چناروں کی چھائوں میں جھیل ڈل کے کنارے سیڑھیوں پر بیٹھے ایک دوسرے کی آنکھوں میں جھانک رہے تھے ۔ میں اس کی نظروں کی تیز چبھن برداشت نہیں کر پا رہا تھا اسی لئے اسے اتنے سارے سوالات کر ڈالے۔ لیکن وہ بھی ہر ایک سوال کا جواب رکھتی تھی اسی لئے بنا کسی ہچکچاہٹ کے مجھے سمجھا رہی تھی اور ساتھ ہی میری ہمت بھی بڑھا رہی تھی۔
اس کی باتوں میں ایک عجیب سا جادو تھا۔ وہ میرے لفظوں سے پہلے میرے خوف کو پڑھ لیتی تھی۔ میں اس کے سامنے مسکراتا رہتا تھا ، مگر اندر سے میرا دل لرز تا جا رہا تھا۔ کچھ لوگ سوال نہیں کرتے، وہ سیدھا روح پر ہاتھ رکھ دیتے ہیں۔ سارہ کی طرح۔
میں گھر واپس آیا تو یہاں کے در و دیوار سے وحشت ٹپکتی محسوس ہو رہی تھی ۔ میرے بوڑھے باپ کی آنکھوں میں خاموشی اتر آئی تھی۔ وہ کچھ کہے بغیر مجھے دیکھ رہا تھا، جیسے میرے اندر کے زلزلے کو پڑھنے کی کوشش کر رہا ہو۔ اس کی پلکیں بوجھل تھیں مگر آنسوو ں سے خالی۔ میں جانتا تھا، اگر میں ذرا سا بھی ٹوٹا تو وہ بکھر جائے گا۔ اسی لئے میں مضبوط نظر آ رہا تھا۔۔۔ صرف نظر آ رہا تھا۔
سارہ مجھ سے عمر میں چھوٹی تھی، مگر فیصلے کرنے میں مجھ سے آگے۔ وہ بڑے باپ کی بیٹی تھی۔ اس کا باپ اسلم بٹ شہر کے نام ور لوگوں اور ٹھیکیدار وں میں بڑا نام تھا ۔ جس کے لئے رشتے پیار یامحبت کوئی معنٰی نہیں رکھتے تھے۔ میں پڑھا لکھا لیکن بے کار نوجوان تھا، جو سرکاری نوکری کے انتظار میں باپ کی چھوٹی سی دکان سنبھال رہا تھا۔ بن ماں کا بیٹا اور باپ کا اکلوتا سہارا۔کھیل وہی پرانا تھا مخمل میں ٹاٹ والا پیوند۔ میں ٹاٹ اور سارہ مخمل ۔ سارہ کا باپ اسلم بٹ مخمل میں پیوند کرنے کا قائل تھا ہی نہیں۔ ایسی نوبت آجائے تو وہ پورا قالین ہی جلا ڈالے ۔
میں نے سارہ کو بہت سمجھایا تھا۔
’’یہ دو دنیاؤں کا ٹکرائو ہے ۔ زمین اور مریخ جیسا۔ یہاں غریبی اور امیری کو اسی ایک نظر سے دیکھا جاتا ہے۔ ان کا آپس میں کوئی میل نہیں۔ اگر پیسہ ہے یا بڑا عہدہ تو یہ دنیا تمہاری۔ ‘‘
وہ ہنس دی۔
’’دنیا خواب دیکھنے والوں کی نہیں، جیتنے والوں کی ہوتی ہے اور میں تمہیں جیتا ہوا دیکھنا چاہتی ہوں۔‘‘
ہمارے گائوں کا اکلوتا سرمایہ دار چودھری رمضان، جو علاقے کا سابق ایم ایل اے (MLA) بھی رہ چکا تھا، اپنے آوارہ بیٹے کا رشتہ سارہ سے کرانا چاہتا تھا اور سارہ کا باپ اسلم بٹ چونکہ لالچی آدمی تھا اس لئے وہ چودھری کی امیری ٹھاٹ سے بہت زیادہ مرعوب تھا اور کسی حد تک راضی بھی ۔حالانکہ پورا علاقہ جانتا تھا کہ چودھری کا بیٹا نہ صرف آوارہ تھا بلکہ چوبیس گھنٹے نشے میں دھت رہتا تھا۔ چودھری نے کئی بار اسے Rehabilitation centre میں بھرتی بھی کروایا لیکن اسے کوئی فرق نہیں پڑا۔ واپس آکر وہ پھر سے نشہ کرنے لگتا تھا۔ اب پولیس اور اسپتال والے بھی اسے تنگ آ چکے تھے اور چودھری کے اپروچ کی وجہ سے کوئی سخت کاروائی بھی نہیں کرپاتے تھے۔ البتہ سب جانتے تھے کہ آج یا کل یہ ڈرگس کرکے ضرور خود کشی کر لے گا۔ چودھری سمجھتا تھا کہ اگر اس کی شادی کر دی جائے تو شاید یہ سدھر بھی سکتا تھا۔ وہ اپنی آدھی جائیداد سارہ کے نام کرنے کے لئے تیار تھا۔ لیکن سارہ بہت ضدی تھی اور اس کی ضد کے سامنے کسی کی بھی نہیں چلتی تھی۔ اس کا چالاک اور شاطر باپ بھی اس کی ضد کے سامنے ہار گیا جب اس نے مجھے اپنا شریک حیات چن لیا ۔ چودھریوں کے ساتھ ساتھ میرے پاس پڑوس والے بھی حیران ہوکر رہ گئے تھے۔ میرے باپ کی عزت کرنے والے اور میرے ساتھ محبت کرنے والے لوگ بہت زیادہ خوش تھے۔ وہ سمجھ رہے تھے کہ میرے باپ کی قربانی اور اس کا صبر رنگ لایا ۔
ہم نے شادی کر لی۔ سارہ کے ساتھ میری شادی کسی کرشمے سے کم نہ تھی۔غریب محلوں میں ایسے کرشمے کبھی ہوتے نہیں ہیں پر ایسا ہوگیا تھا، یہ محلے والوں کا ماننا تھا۔ میرے باپ کی آنکھوں میں برسوں بعد خوشی اترآئی تھی۔ وہ سارہ کو مجھ سے زیادہ پیار کرنے لگا تھا مگرجیسے کہا جاتاہے کہ خوشیاں غریب کے گھر میں کرایہ دار ہوتی ہیں۔ زیادہ دیر ٹھہرتی نہیں ہیں۔
شادی کے کچھ دنوں بعد ہی سارہ بدلنے لگی یا جو کچھ وہ کہنا چاہتی تھی شاید میں اسے سمجھنا ہی نہیں چاہتا تھا۔ اسے میرا گھر چھوٹا لگنے لگا اور میرا حوصلہ کمزور۔ وہ چاہتی تھی کہ میں اُس کے باپ کے سائے میں بڑا آدمی بن جاؤں۔ میرے باپ نے ٹوکا تو وہ میرے باپ کے خلاف ہوگئی۔ جب بھی اس کا ذکر آتا تو نفرت سے اس کا نام لیتی ، میں نے فیصلہ کر لیا۔
میں نے اپنے غریب باپ کا ہاتھ چوم لیا۔
سارہ تلملا اٹھی۔
ہم کچھ دیر ایک دوسرے میں پناہ لینے کی کوشش کرتے رہے۔ پھر نظریں لوٹ آئیں اور راستے الگ ہو گئے۔ میں نے تو یہی سوچ لیا کہ
کچھ کہانیاں مکمل نہیں ہوتیں۔
کچھ محبتیں انجام تک نہیں پہنچ پاتیں۔
بس دل کے کسی کونے میں
خاموشی سے
زندگی گزارتی رہتی ہیں۔
لیکن یہ سب اتنا آسان بھی نہ تھاکہ پانی ایک بار سر کے اوپر سے گزرا اور بس۔ اس کے بعدتو سب کچھ بدل گیا۔ جنگ جیسا ماحول بن گیا۔ جھوٹے مقدمے، تھانے، عدالتیں۔ پیسہ بولتا رہا، میں سنتا رہا۔ ایک رات مجھ پر حملہ بھی ہوا۔ جان بچ گئی مگر میرے باپ کا سکون مر گیا۔
یہ واقعہ کوئی معمولی صدمہ نہ تھا۔ ایسا صدمہ جو انسان کو اندر سے کھوکھلا کر دیتا ہے۔ مگر میں نے اپنے خوف کو ہونٹوں پر آنے نہیں دیا۔ کمزوری عیاں ہو جاتی تو سب کچھ ختم ہو جاتا۔ میرا اعتماد، میرا وجود سب بکھر کر رہ جاتا۔
لیکن آخر کب تک۔
میں خود کو کتنا بھی بہادر ظاہر کرتا ، تھا تو میں ایک کمزور انسان۔ کب تک ڈٹا رہتا۔ آخرکار میں ٹوٹ گیا۔ طلاق پر آمادہ ہو گیا۔
لیکن طلاق ہونے سے پہلے ہی ایک بڑی خبر آئی کہ سارہ کا رشتہ شہر کے چودھری سیاستدان کے بیٹے سے طے ہو گیا ۔ میں نے سکون کی سانس لی مگر دل نے عجیب سا درد محسوس کیا۔
پھر میں نے زور سے سر کو جھٹک دیا تو میرے ذہن پر پڑا بوجھ کچھ کچھ ہلکا ہو گیا ۔ میں نے دل کو تھپکی دی اور اسے زبردستی خوش ہونے کہ تلقین کی ،جیسے یہ دن میرے لئے ڈھیرساری خوشیاں لے کر آیا تھا ۔
چودھری رمضان کے آوارہ بیٹے اور سارہ کا رشتہ پھر سے جوڑا گیا تھا۔ شاید اب میں سارہ کے چنگل سے آسانی کے ساتھ چھوٹ جاتا۔ دونوں گھرانوں میں چراغاں ہو رہاتھا اور شادیانے بج رہے تھے۔ لیکن جانے میرے دل میں درد سا کیوں اٹھ رہا تھا اور میرا دل بار بار یہ کیوں کہہ رہا تھا کہ اس شادی میں سارہ کی مرضی شامل نہیں ہوگی بلکہ اس کانڈ ھ میں چودھری کے ساتھ سارہ کا لالچی باپ ملا ہوگا۔
شام کا وقت تھا میرے گھر پر یار دوست اور پڑوسی جمع تھے جو میرے باپ کو دلاسہ دے رہے تھے کہ اچانک دھڑام سے دروازہ کھل گیا اور سارہ اندر چلی آئی ۔ اس کے پیچھے پیچھے کئی نوکر اس کا سامان اٹھائے چلے آرہے تھے۔ ہم سب ہکابکا ہوکر رہ گئے۔
’’ یہ پیار ہے تمہارا ؟ چودھری جیسا راون میرا اپہرن کرلیتا تو؟؟ میں ایک دم کھڑا ہوگیا اور ڈرا سہما اسے ایک ٹک دیکھتا جا رہا تھا۔
’’ صرف رام نے ہی نہیں ، سیتا نے بھی بنواس کاٹا ہے لیکن رام سیتا کے ساتھ ساتھ رہے ۔ تم نے تو مجھے راون کی لنکا میں دھکیل ہی دیا تھا۔ اگرمیں اپنے پیار کو اپنا passionاور اپنی ضد نہ بنا لیتی تو ‘‘ سارہ چلا رہی تھی اور میں دم بخود ۔
’’ اب ٹکر ٹکر دیکھ کیا رہے ہو ۔ سامان میرے کمرے میں رکھوا دو ۔‘‘ میں ایک ہی قدم آگے بڑھا تھا کہ سارہ دوڑ کے آئی اور میرے سینے سے لگ کر زار و قطاررونے لگی۔ میرے روم روم میں مستی اور خون میں گرمی دوڑتی جا رہی تھی۔ آہستہ آہستہ میرے بازووں نے اس کے گرد مضبوط حسار بنا لیا۔ سارہ کی ہچکیاں بلند ہوتی جا رہی تھیں اور میری انگلیاں اس کے بالوں میں کنگی کرتی جا رہی تھیں ۔
���
اننت ناگ، کشمیر
موبائل نمبر؛9419734234