محمد یوسف بمبور
وہ خود کو ادب کا سب سے بڑا علمبردار سمجھتا تھا۔ اس کی محفل میں بیٹھنے والے اکثر لوگ اس کی تعریفوں کے پل باندھتے اور وہ ان تعریفوں کو اپنے دل کے تخت پر سجا لیتا۔ اس کا ماننا تھا کہ اس جیسا لکھنے والا نہ پہلے کبھی پیدا ہوا، نہ آئندہ ہوگا۔اس کا اصل نام کچھ اور تھا مگر شہر کے ادبی حلقوں میں وہ “فرعونِ ادب” کے نام سے پہچانا جانے لگا تھا—-کچھ اس کے مداحوں کی وجہ سے اور کچھ اس کے تکبر بھرے رویّے کی بنا پر۔اس کے کمرے کی دیواروں پر اس کی اپنی تصاویر، اس کے مضامین کی کٹنگز اور تعریفی اسناد آویزاں تھیں۔ وہ جب بھی لکھنے بیٹھتا تو پہلے ان سب پر ایک سرسری نظر ڈالتا، گویا خود کو یقین دلا رہا ہو کہ وہ کوئی معمولی شخص نہیں۔وہ اکثر کہا کرتا:”ادب کوئی کھیل نہیں، یہ میرے جیسے لوگوں کا میدان ہے۔ ہر کسی کے بس کی بات نہیں۔”نئے لکھنے والے جب اپنی تحریریں لے کر اس کے پاس آتے تو وہ اکثر انہیں پڑھے بغیر ہی کہہ دیتا:”یہ سب فضول ہے… پہلے ادب سیکھو، پھر لکھنے کی کوشش کرنا۔”اس کی محفل میں بیٹھے لوگ اس کی ہر بات پر سر ہلاتے، چاہے وہ درست ہو یا غلط۔ رفتہ رفتہ اس کے گرد خوشامدیوں کا ایک ایسا حصار بن گیا جہاں سچائی کی کوئی گنجائش باقی نہ رہی تھی۔مگر ہر شہر میں کچھ خاموش چراغ بھی ہوتے ہیں، جو نہ تعریف کے بھوکے ہوتے ہیں اور نہ ہی شہرت کے طلبگار۔ایسا ہی ایک نوجوان تھا ۔نوآموز۔نوآموز نے ایک دن ہمت کر کے اپنی تحریر اس کے سامنے رکھی۔ اس نے بمشکل دو سطریں پڑھیں، ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ کاغذ ایک طرف رکھا اور کہا:”یہ ادب نہیں —–یہ تو بچوں کا کھیل ہے۔ تم سے نہیں ہوگا۔”یہ الفاظ نوآموز کے دل میں تیر کی طرح پیوست ہو گئے۔ کئی دن وہ خاموش رہا، قلم سے دور ہو گیا مگر ایک رات اس نے خود سے سوال کیا:”کیا واقعی میں نہیں لکھ سکتا؟ یا کسی ایک شخص کی رائے نے مجھے روک دیا ہے؟”یہی سوال اس کے اندر ایک نئی روشنی بن گیا۔اس نے مطالعہ شروع کیا، اپنے احساسات کو سنوارا اور سچائی کو اپنا سرمایہ بنایا۔ اس نے سیکھا کہ ادب نقل نہیں، اخلاص مانگتا ہے۔ادھر ’’فرعونِ ادب‘‘ دن بدن اپنی ہی تعریفوں کے حصار میں قید ہوتا جا رہا تھا۔ اس کی تحریروں میں الفاظ تو تھے، مگر روح ماند پڑ چکی تھی۔ وہ لکھتا تو بہت تھا مگر دلوں تک رسائی کھو چکا تھا۔وقت گزرتا گیا۔پھر شہر میں ایک عظیم ادبی نشست منعقد ہوئی۔ مختلف علاقوں سے اہلِ قلم جمع ہوئے—-شاعر، ادیب، ناقدین اور نئے لکھنے والے سب ایک ہی چھت تلے موجود تھے۔’’فرعونِ ادب‘‘ بھی اپنی مخصوص شان اور تکبر کے ساتھ وہاں پہنچا، گویا محفل کی رونق اسی سے ہے۔پروگرام شروع ہوا۔ کئی لوگوں نے اپنی تخلیقات پیش کیں۔پھر نوآموز کا نام پکارا گیا۔وہ دھیرے سے اسٹیج پر آیا۔ اس کے ہاتھ میں کاغذ تھا مگر آواز میں اعتماد اور آنکھوں میں سچائی تھی۔ جیسے ہی اس نے پڑھنا شروع کیا، پورا ہال خاموش ہو گیا۔اس کے الفاظ سادہ مگر اثر انگیز تھے۔ اس کی تحریر میں دکھاوا نہیں، سچائی تھی، بناوٹ نہیں، خلوص تھا۔چند لمحوں کی خاموشی کے بعد ہال تالیوں سے گونج اٹھا۔’’فرعونِ ادب‘‘ کے چہرے پر پہلی بار حیرت اور بے یقینی کے آثار نمایاں ہوئے۔یہ وہی نوآموز تھا جسے اس نے کبھی رد کر دیا تھا۔پروگرام کے اختتام پر نوآموز اس کے پاس آیا، مؤدبانہ سلام کیا اور بولا:”استاد محترم، آپ کی باتوں نے مجھے توڑا ضرور تھا مگر میں نے ہار نہیں مانی۔ میں نے یہ سیکھا کہ ادب کسی ایک شخص کی جاگیر نہیں ہوتا——“یہ الفاظ اس کے دل میں گہرائی تک اتر گئے۔اس رات ’’فرعونِ ادب‘‘سو نہ سکا۔ اس نے اپنی پرانی ڈائریاں کھولیں۔ ان میں الفاظ تو بہت تھے مگر وہ خلوص نہ تھا جو آج اس نے نوآموز کی تحریر میں محسوس کیا تھا۔اسے یاد آیا—وہ بھی کبھی ایسا ہی تھا… سیکھنے والا، جھکنے والا، خواب دیکھنے والا۔مگر تعریفوں نے اس کی آنکھوں پر غرور کی پٹی باندھ دی تھی۔اگلے دن اس نے ایک جملہ لکھا:”ادب پر حکمرانی نہیں کی جاتی، اسے سمجھا اور محسوس کیا جاتا ہے۔”چند دن بعد وہ ایک چھوٹی سی ادبی نشست میں گیا۔ اس بار وہ خاموشی سے ایک کونے میں بیٹھ گیا۔ایک نوجوان نے جھجکتے ہوئے اپنی تحریر سنائی۔ کچھ لوگ مسکرا رہے تھے۔اس نے آہستہ سے کہا:”پڑھتے رہو… تمہارے لفظوں میں سچائی ہے۔”لوگ حیران رہ گئے۔یہ وہی شخص تھا—-مگر اب اس کے لہجے میں غرور نہیں، انکساری تھی۔مگر وقت کا اپنا فیصلہ ہوتا ہے۔لوگ اب بھی اسے یاد کرتے تھے۔ مگر ایک مثال کے طور پر، اس سبق کے طور پر کہ انا انسان کو بلندی سے پستی تک لے آتی ہےاور آج کے دور میں بھی کچھ ایسے “فرعونِ ادب” موجود ہیں ——-جو خود کو معیار سمجھ کر دوسروں کو کمتر جانتے ہیں۔ وہ رہنمائی کے بجائے حوصلہ شکنی کرتے ہیں اور ادب کے وسیع دائرے کو اپنی انا کے حصار میں قید کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور ریاکاری اور لابزم( Lobbyism )کے غلام بنے ہیں مگرحقیقت یہ ہے کہ ادب کسی ایک فرد، ایک گروہ یا ایک نام کی میراث نہیں ہوتا——-یہ ایک دریا ہے، جو سب کے لیے بہتا ہے۔جیسا کہ کسی صاحبِ فکر نے خوب کہا ہے: “جو سیکھا ہے، اسے بانٹتے چلو…دِیئے سے دِیا جلاتے چلو۔”
شاید اگر یہ “فرعونِ ادب” اس حقیقت کو سمجھ لیں تو ادب کا دامن اور بھی وسیع ہو جائے، اور نئے قلمکار خوف کے بجائے حوصلے کے ساتھ آگے بڑھ سکیںکیونکہ لفظوں کی دنیا میں اصل عظمت انکساری میں ہے، نہ کہ انا میں۔
���
مہو بانہال ، جموں
موبائل نمبر؛9596948793