ٹی ای این
سرینگر// مرکزی حکومت نے پانچ برس سے زائد انتظار کے بعد ملک میں نئے لیبر قوانین کو مکمل طور نافذ کرنے کی سمت اہم قدم اٹھاتے ہوئے چاروں نئے لیبر کوڈ باضابطہ طور سرکاری گزٹ میں شائع کر دئے ہیں۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس اقدام کے بعد ملک بھر میں مزدوروں کیلئے کم از کم اجرت، سماجی تحفظ، محفوظ کام کے ماحول اور روزگار سے متعلق اصلاحات مکمل طور نافذ العمل ہو جائیں گی۔یہ چار لیبر کوڈ، جن میںکوڈزآن ویجز2019،انڈسٹریل ریلیشن کوڈز2020،کوڈز آن سوشل سیکورٹی 2020اورآکپیشنل سیفٹی ہیلتھ اینڈ ورکنگ کنڈشن کوڈ2020شامل ہیں، 21 نومبر 2025 سے نافذ ہوئے تھے، تاہم قواعد کی عدم موجودگی کے باعث ان پر مکمل عملدرآمد ممکن نہیں ہو پا رہا تھا۔حکومتی ذرائع کے مطابق اب ان قوانین کے تحت تمام ضروری قواعد کو باضابطہ نوٹیفائی کر دیا گیا ہے، جس کے بعد لیبر اصلاحات کا عمل مکمل تصور کیا جا رہا ہے۔ حکومت نے ان قواعد کے مسودے 30 دسمبر 2025 کو عوامی رائے اور متعلقہ فریقوں سے مشاورت کیلئے جاری کئے تھے، جس کے بعد قانونی جانچ اور ترامیم کے بعد انہیں حتمی شکل دی گئی۔
مرکزی حکومت نے 29 پرانے لیبر قوانین کو سادہ، جدید اور مربوط نظام میں تبدیل کرنے کیلئے ان چار کوڈز کو متعارف کرایا تھا۔ حکومت کے مطابق ان اصلاحات کا مقصد کاروبار میں آسانی پیدا کرنا، روزگار کے مواقع بڑھانا، مزدوروں کو بہتر تحفظ فراہم کرنا اور صنعتی نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنا ہے۔نئے قوانین کے تحت تمام ملازمین کو تقرری نامہ دینا لازمی قرار دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ 40 برس یا اس سے زائد عمر کے کارکنوں کیلئے مفت طبی معائنہ بھی لازمی ہوگا۔ خواتین کارکنوں کو مختلف شفٹوں میں کام کرنے کی اجازت کے ساتھ مساوی کام پر مساوی تنخواہ اور مساوی مواقع فراہم کرنے کی بھی ضمانت دی گئی ہے۔قوانین میں ایک ’نیشنل رِی اسکلنگ فنڈ‘ قائم کرنے کی بھی شق شامل کی گئی ہے، جس کے ذریعے ملازمت سے محروم ہونے والے کارکنوں کو نئی مہارتوں کی تربیت دی جائے گی تاکہ وہ دوبارہ روزگار حاصل کر سکیں۔نئے قواعد کے مطابق ہفتہ وار کام کے اوقات 48 گھنٹے مقرر کیے گئے ہیں۔ حکومت نے واضح کیا ہے کہ کسی بھی ملازم سے ہفتے میں 48 گھنٹے سے زائد معمول کا کام نہیں لیا جا سکے گا۔