بلا شبہ انسان کی شخصیت محض معلومات کے انبار سے نہیں بنتی بلکہ اس کے باطن کی آبیاری اور فکر کی بالیدگی سے پروان چڑھتی ہے۔ اگرانسان کا دل بے چین ہو اور روح بے قرار، تو علم کی کثرت بھی اُسےسکون نہیں دے سکتی۔ اسی لئے ہمارے معاشرے کی نئی نسل کی تعمیر کے لئے روحانی تربیت اور فکری ترقی کا ایک حسین سنگم ناگزیر ہے۔عام کہاوت ہے کہ انسان جیسا بوتا ہے ویسا ہی پھل پاتا ہے۔اس لئے اگرہم ابتداء ہی میں اپنے بچوں کے اندر پاکیزہ اقدار اور بلند خیالات کو راسخ کر دیں تو اُن کی زندگی خود بخود سنور جائے گی۔البتہ روحانی تربیت کا مقصد صرف عبادات کی ادائیگی نہیں بلکہ انسان کے اندر اخلاص، تحمل، عاجزی اور حسنِ اخلاق کو بھی پیدا کرنا ہے۔چنانچہ جب ایک نوجوان کے دل میں یہ اوصاف جاگزیں ہو جاتے ہیں تو وہ زندگی کے نشیب و فراز میں بھی ثابت قدم رہتا ہےاوراُس کی فکری ترقی اس کے اندر سوال کرنے، غور و فکر کرنے اور حقیقت تک پہنچنے کی صلاحیت پیدا کرتی ہے،اُس کا ذہن اندھی تقلید کا شکار نہیں ہوتا بلکہ وہ دلیل اور بصیرت کی روشنی میں اپنا راستہ متعین کرتا ہے۔
ہماری نسلِ نو کی متوازن شخصیت سازی کے لیے ضروری ہے کہ اُنہیں ایسے ماحول میں پروان چڑھائیں ،جہاں مثبت سوچ، تخلیقی صلاحیت اور اعلیٰ اخلاق فروغ پائیں۔ گھروں میں والدین کی تربیت، سکولوں میںاساتذہ کی رہنمائی اور معاشرے کا مجموعی رویہ اِس عمل میں بنیادی کردار ادا کرسکتا ہے۔ظاہر ہے کہ بچوں کو صرف نصیحتوں سے نہیں بلکہ عملی نمونوں سے سکھایا جاسکتا ہے، کیونکہ عمل، قول سے زیادہ اثر رکھتا ہے۔ جب روحانیت کی لطافت اور فکر کی گہرائی ایک ساتھ جمع ہو جاتی ہے تو ایک ایسا فرد وجود میں آتا ہے جو نہ صرف اپنے لئے بلکہ پوری انسانیت کے لئے باعثِ رحمت بن جاتا ہے۔ یہی متوازن شخصیت اس قابل ہوجاتی ہے کہ وہ زندگی کے عملی میدان میں اپنے علم اور کردار کا حقیقی مظاہرہ کرتی ہے۔یاد رکھیں کہ زندگی کا اصل امتحان محض علم کے حصول میں نہیں بلکہ اُس علم کو عملی میدان میں برتنے میں پوشیدہ ہے۔اس لئےجہاں ایک طرف دینی تعلیمات انسان کے لئے وہ رہنمائی ہے جو اُسے حق و باطل میں تمیز سکھاتی ہے اور دوسری طرف زمانے کے بدلتے ہوئے تقاضے ، جو انسان سے حکمت، بصیرت اور حسنِ تدبیر کا مطالبہ کرتے ہیں۔ ایسے میں کامیابی اسی کا مقدر بنتی ہے جو اِن دونوں دھاروں کو ہم آہنگ کر کے اپنی زندگی کا لائحہ عمل ترتیب دیتا ہے ،جس سے اُس کی زندگی علم، عمل اور حکمت کا ایک خوبصورت امتزاج بن جاتی ہے۔قرآن کریم ہمیں اعتدال، عدل اور حکمت کی تعلیم دیتا ہے۔ یہی اصول جب جدید زندگی کے معاملات پر منطبق کئے جاتے ہیں تو ایک ایسا متوازن طرزِ عمل وجود میں آتا ہے جو نہ افراط کا شکار ہوتا ہے نہ تفریط کا۔بلکہ انسان معاش کے معاملات میں دیانت و امانت اختیار کرتا ہے، سماجی زندگی میں رواداری اور انصاف سے کام لیتا ہے، اور پیشہ ورانہ میدان میں محنت و ذمہ داری کو اپنا شعار بنالیتا ہےاور ان عملی اصول سے ہر معاملے میں کامیاب حاصل کرتا ہے۔اس ہم آہنگی کو برقرار رکھنے کے لئے ضروری ہے کہ انسان اپنے روزمرہ کے فیصلوں میں شعوربیدار رکھے اور اپنا ہر قدم اخلاقی و دینی اقدار کے مطابق اٹھائے۔ موجودہ دور کے جدید ذرائع، ٹیکنالوجی اور علوم کو محض سہولت کے طور پر استعمال کی کریں، نہ کہ اُنہیں مقصدِ حیات بنائیں۔حقیقت یہی ہے کہ دینی تعلیمات انسان کو اُس کے مقصدِ حیات سے روشناس کراکے اُسے اخلاق، صبر، شکر اور خوفِ خدا کی دولت سے مالا مال کرتا ہے،جبکہ عصری تعلیم اسے شعور، فہم اور تدبیر عطا کرتی ہے تاکہ وہ اس دنیا میں عزت و وقار کے ساتھ زندگی گزار سکے۔ ہمارے اسلاف نے ہمیشہ اسی توازن کو اپنایاتھا،جن سے اُن کے دل اللہ کی یاد سے سرشار ہوتے تھے اور اُن کے دماغ زمانے کی حکمتوں سے روشن۔ یہی وجہ تھی کہ وہ جہاں عبادت گزار تھے، وہیں بہترین مفکر، سائنسدان اور رہنما بھی تھے۔ آج ہمیں بھی اسی روشن راہ کی ضرورت ہے کہ ہم اپنے بچوں کو ایسا علم دیں جو ان کے دلوں کو نرم کرے اور ذہنوں کو جِلا بخشے۔