عظمیٰ نیوز سروس
راجوری//محکمہ صحت و خاندانی بہبود نے ضلع راجوری میں قائم نجی ہسپتالوں، پولی کلینکس، لیبارٹریز، ڈینٹل اور آئی کلینکس کے مالکان کو سخت نوٹس جاری کرتے ہوئے غیر مجاز سرگرمیوں اور ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزیوں پر قانونی کارروائی کا انتباہ دیا ہے۔چیف میڈیکل آفیسر (سی ایم او) راجوری کی جانب سے جاری کردہ نوٹس کے مطابق متعدد نجی طبی ادارے ضلع رجسٹرنگ اتھارٹی کی پیشگی اجازت یا اطلاع کے بغیر میڈیکل کیمپس کا انعقاد کر رہے ہیں، جو کہ قوانین کی صریح خلاف ورزی ہے۔
حکام نے اس عمل کو کلینیکل اسٹیبلشمنٹ رجسٹریشن اینڈ ریگولیشن (CERR) ایکٹ 2010 کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔نوٹس میں واضح کیا گیا ہے کہ ہر نجی ہسپتال یا پولی کلینک ایک نامزد ڈاکٹر کے تحت رجسٹرڈ ہوتا ہے، اور کسی بھی بیرونی ڈاکٹر کو بغیر اجازت ان اداروں میں نجی پریکٹس کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ مزید یہ کہ کسی بھی طبی ادارے کو متعلقہ اتھارٹی سے عارضی یا مستقل رجسٹریشن حاصل کیے بغیر چلانا غیر قانونی عمل ہے۔محکمہ صحت نے قانونی دفعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کسی بھی قسم کے میڈیکل کیمپ کے انعقاد سے قبل پیشگی منظوری لازمی ہے، بصورت دیگر سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ ایکٹ کی دفعہ 32 کے تحت حکام کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ خلاف ورزی میں ملوث اداروں کی رجسٹریشن منسوخ کر سکتے ہیں۔نوٹس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ بغیر رجسٹریشن کے کلینیکل لیبارٹری چلانا جرم ہے اور اس میں ملوث افراد کے خلاف قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔ محکمہ نے دو ٹوک انداز میں خبردار کیا ہے کہ ضابطوں کی خلاف ورزی کرنے والے کسی بھی ادارے کے خلاف فوری کارروائی کی جائے گی، جس میں بغیر کسی مزید نوٹس کے رجسٹریشن کی منسوخی بھی شامل ہے۔مزید برآں، تمام غیر رجسٹرڈ طبی اداروں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ فوری طور پر اپنی سرگرمیاں بند کریں اور مکمل رجسٹریشن حاصل کرنے تک ادارے کو بند رکھیں۔چیف میڈیکل آفیسر راجوری ڈاکٹر منوہر لال رانا نے بتایا کہ یہ احکامات فیلڈ سے موصول ہونے والی متعدد شکایات اور اطلاعات کی بنیاد پر جاری کیے گئے ہیں، جن میں قواعد و ضوابط کی خلاف ورزیوں کی نشاندہی کی گئی تھی۔