عظمیٰ نیوز سروس
سرینگر// جموں و کشمیر میں منشیات سے متعلق 10 ہزار 900 سے زائد مقدمات عدالتوں میں زیر التوا ہیں، جس سے فوجداری نظام انصاف پر بڑھتا دباؤ صاف ظاہر ہوتا ہے۔ وہیں اس بیچ انتظامیہ کی جانب سے منشیات فروشی کا قلع قمع کرنے کے لیے کارروائیاں تیز کر دی ہیں۔حکام کے مطابق نارکوٹک ڈرگز اینڈ سائیکوٹروپک سبسٹینسز (این ڈی پی ایس) ایکٹ کے تحت درج 10,956 مقدمات اس وقت مختلف عدالتوں میں زیرِ سماعت ہیں، جن میں سے 6,156 کیسز پانچ خصوصی این ڈی پی ایس عدالتوں میں زیر غور ہیں۔ یہ انکشاف حکام نے یونین ٹیریٹری میں منشیات کی اسمگلنگ اور نشہ آور اشیاء کے استعمال کے خلاف کارروائیوں اور قانونی پیش رفت کا جائزہ لینے کے بعد کیا۔آئی جی پی کرائم، سارہ رضوی، نے بتایا کہ سال 2026 میں اب تک جموں کشمیر پولیس نے 542 این ڈی پی ایس مقدمات درج کیے ہیں، جن میں 716 افراد کو گرفتار کیا گیا اور تقریباً 640 کلو گرام منشیات برآمد کی گئی، جن کی مالیت تقریباً 18.49 کروڑ روپے ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ کمرشل مقدار میں منشیات کے کیسز میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ حکام کے مطابق اس سال ایسے 31 مقدمات درج ہوئے جبکہ گزشتہ سال اسی مدت میں یہ تعداد 19 تھی۔سینئر حکام نے بتایا کہ اب قانون نافذ کرنے والے ادارے منشیات کی اسمگلنگ کے مقدمات میں آگے اور پیچھے کے روابط (لنکیجز) پر بھی توجہ دے رہے ہیں تاکہ بین ریاستی نیٹ ورکس کو جڑ سے ختم کیا جا سکے۔ 24 مقدمات میں ایسے روابط قائم کیے گئے، جس کے نتیجے میں 53.77 لاکھ روپے مالیت کی جائیداد ضبط کی گئی اور 22.63 لاکھ روپے کے بینک اکاؤنٹس بھی منجمد کیے گئے۔حکام نے یہ بھی بتایا کہ مشتبہ منشیات فروشوں کے خلاف غیر فوجداری اقدامات بھی کیے جا رہے ہیں۔ جنوری سے مارچ کے دوران 489 ڈرائیونگ لائسنس منسوخ کرنے اور 700 گاڑیوں کی رجسٹریشن معطل کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔
حکام کے مطابق مقدمات کے فیصلوں میں تاخیر ایک بڑا مسئلہ ہے۔ سال 2025 میں 1,991 کیسز درج ہوئے جبکہ عدالتوں نے صرف 483 مقدمات نمٹائے۔اعداد و شمار کے مطابق 1,435 استغاثہ گواہوں میں سے صرف 839 کے بیانات قلمبند ہوئے، جبکہ 596 گواہ طریقہ? کار اور شیڈول کے مسائل کے باعث بغیر بیان دیے واپس لوٹ گئے۔حکام نے مزید کہا کہ تاخیر کم کرنے کے لیے مختلف اقدامات پر غور ہو رہا ہے، جن میں سرکاری گواہوں کے بیانات ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے ریکارڈ کرنا بھی شامل ہے، خاص طور پر جب افسران کا تبادلہ ہو جائے۔منشیات سے متعلق مقدمات میں بریت کے فیصلوں کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ تفتیش اور استغاثہ میں خامیوں کی نشاندہی کی جا سکے۔ حکام کے مطابق سال 2025 میں 91 ضمانتی احکامات کو چیلنج کیا گیا جبکہ 2026 میں اب تک مزید 57 کیسز میں ایسا کیا گیا۔سرکاری اعداد و شمار کے مطابق سزاؤں کی شرح 2024 میں 135، 2025 میں 140 جبکہ اس سال اب تک 23 رہی ہے۔ حکام نے کہا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ہدایت دی گئی ہے کہ این ڈی پی ایس ایکٹ کی دفعہ 52A کے تحت گاڑیوں کی ضبطی کے معاملات میں سخت کارروائی انجام دیں اور منشیات سے جڑے مالی لین دین پر بھی کڑی نظر رکھی جائے۔اسی کے ساتھ انتظامیہ نشہ کے عادی افراد کی بحالی اور کونسلنگ کی سہولیات کو بھی وسعت دے رہی ہے۔ حکام کے مطابق اسکولوں، کالجوں، بنیادی طبی مراکز اور دیہی علاقوں میں کونسلرز کی تربیت کے لیے اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں، جس میں سیلف ہیلپ گروپس اور ذہنی صحت کے ماہرین کو شامل کیا جا رہا ہے۔ضلع سطح پر انتظامیہ کو بھی ہدایت دی گئی ہے کہ ڈسٹرکٹ اسپتالوں میں قائم منشیات بحالی مراکز میں داخل مریضوں کے لیے سہولیات فعال رکھی جائیں۔یہ تازہ جائزہ اس وقت سامنے آیا ہے جب لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے 11 اپریل کو “نشہ مکت جموں و کشمیر ابھیان” کا آغاز کیا، جس کا مقصد منشیات کے خلاف مربوط مہم چلانا ہے۔ اس مہم میں عوامی بیداری، بحالی، سخت قانون نافذ کرنا اور عوامی شمولیت شامل ہے، جبکہ حکام نے منشیات کے استعمال کو خطے کے بڑے سماجی چیلنجز میں سے ایک قرار دیا ہے۔