یواین آئی
لندن/عالمی نمبر ایک ٹینس کھلاڑی ارینا سبالینکا کا ماننا ہے کہ انعامی رقم سے متعلق جاری تنازع کے سبب کھلاڑی ’’کسی نہ کسی وقت‘‘گرینڈ سلیم ٹورنامنٹس کا بائیکاٹ کر سکتے ہیں۔بیلاروس کی اسٹار کھلاڑی نے کہا کہ ’’اپنے حق کے لیے لڑنے کا یہی واحد طریقہ ہوگا۔ شو ہماری وجہ سے ہے، ہمارے بغیر نہ ٹورنامنٹ ہوگا اور نہ ہی تفریح۔‘‘انہوں نے امید ظاہر کی کہ مستقبل میں ایسا حل نکل آئے گا جس سے تمام فریق مطمئن ہوں۔سبالینکا کے مطابق موجودہ دور میں خواتین کھلاڑی آسانی سے متحد ہو سکتی ہیں اور اپنے حقوق کے لیے مضبوط موقف اختیار کر سکتی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ کھلاڑیوں کے ساتھ جو ہو رہا ہے، وہ درست نہیں۔عالمی نمبر چار کوکو گاف نے بھی کہا کہ اگر تمام کھلاڑی متحد ہوں تو وہ “سو فیصد” گرینڈ سلیم بائیکاٹ کی حمایت کر سکتی ہیں۔ تاہم عالمی نمبر تین ایگا شویانٹیک نے انعامی رقم بڑھانے کے مطالبے کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ بائیکاٹ ’’کچھ زیادہ‘‘بڑا قدم ہوگا۔برطانیہ کی ایما راڈوکانو نے واضح کیا کہ وہ کسی بائیکاٹ کا حصہ نہیں بنیں گی، جبکہ عالمی نمبر دو ایلینا رائباکینا نے کہا کہ اگر اکثریت بائیکاٹ کا فیصلہ کرتی ہے تو وہ بھی ساتھ دیں گی۔شویانٹیک نے کہا کہ وہ بائیکاٹ کے بجائے گرینڈ سلیم منتظمین کے ساتھ مسلسل بات چیت اور مذاکرات کو ترجیح دیں گی۔ ان کے مطابق کھلاڑی انفرادی حیثیت میں ایک دوسرے کے خلاف کھیلتے ہیں، اس لیے اجتماعی بائیکاٹ پر عمل درآمد آسان نہیں ہوگا۔عالمی نمبر پانچ جیسیکا پیگولا نے بھی کھلاڑیوں کی مہم کی کھل کر حمایت کی۔ انہوں نے کہا کہ کھلاڑی صرف وہی مانگ رہے ہیں جس کے وہ حق دار ہیں، اور اگر مرد و خواتین کھلاڑی ایک ساتھ کھڑے ہوں تو اس میں کوئی غلط بات نہیں۔واضح رہے کہ پیر کو کئی بڑے کھلاڑیوں نے اس سال کے فرینچ اوپن میں انعامی رقم کے معاملے پر ’’گہری مایوسی‘‘کا اظہار کیا تھا۔