یواین آئی
نئی دہلی/وزارتِ کھیل نے ملٹی نیشنل (کثیر الجہتی) ٹورنامنٹس کے علاوہ پاکستان کے ساتھ کھیلنے پر پابندی جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔وزارتِ کھیل نے کھیلوں کے تعلقات کے حوالے سے اپنے موجودہ منصوبے کو برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے، جس کے تحت دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ ٹورنامنٹس پر مکمل پابندی رہے گی۔ تاہم، آئی سی سی ٹورنامنٹس، اولمپکس اور ایشین گیمز جیسے بین الاقوامی مقابلوں کے لیے استثنیٰ برقرار رہے گا۔ نیشنل اسپورٹس فیڈریشن، انڈین اولمپک ایسوسی ایشن، اسپورٹس اتھارٹی آف انڈیا کے ساتھ ساتھ وزارتِ داخلہ اور وزارتِ خارجہ کو بھیجے گئے ایک سرکاری سرکلر میں حکومت نے اپنی پوزیشن واضح کرتے ہوئے کہا ہے کہ جہاں تک ایک دوسرے کے ملک میں دوطرفہ مقابلوں کا تعلق ہے، ہندوستانی ٹیمیں پاکستان میں مقابلوں میں حصہ نہیں لیں گی اور نہ ہی پاکستانی ٹیموں کو ہندوستان میں کھیلنے کی اجازت دی جائے گی۔
سرکلر میں مزید کہا گیا ہے کہ ہندوستان یا بیرونِ ملک بین الاقوامی اور کثیر الجہتی مقابلوں کے معاملے میں، حکومت بین الاقوامی اسپورٹس باڈی کے طریقہ کار اور اپنے کھلاڑیوں کے مفادات کے مطابق فیصلہ کرتی ہے۔ اس میں اس بات پر بھی زور دیا گیا ہے کہ ہندوستان کا بین الاقوامی کھیلوں کی میزبانی کے لیے ایک قابلِ اعتماد مقام کے طور پر ابھرنا بھی انتہائی اہم ہے۔ یہ فیصلہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ہندوستان کئی بڑے عالمی ٹورنامنٹس کی میزبانی کی تیاری کر رہا ہے اور مستقبل کے لیے بھی پرعزم ہے۔وزارت کے مطابق ہندوستان اس وقت کئی بڑے عالمی مقابلوں کی میزبانی کی تیاری کر رہا ہے۔ ملک 2030 کے کامن ویلتھ گیمز کی میزبانی کرے گا جبکہ 2036 اولمپکس کے انعقاد کے لیے بھی بولی دے چکا ہے۔ اس کے علاوہ ہندوستان 2029 کی آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی اور 2031 کے مردوں کے ایک روزہ عالمی کپ کی میزبانی بھی کرے گا۔ہندوستان نے 1982 کے بعد پہلی مرتبہ ایشیائی کھیلوں کی میزبانی میں دلچسپی ظاہر کی ہے اور 2038 ایشین گیمز کے انعقاد کی خواہش ظاہر کی گئی ہے۔ اس تجویز پر گزشتہ ماہ اولمپک کونسل آف ایشیا کی ایگزیکٹو بورڈ میٹنگ میں بھی غور کیا گیا تھا۔وزارتِ کھیل نے یہ بھی کہا کہ بین الاقوامی کھیلوں کے مقابلوں کی میزبانی کے لیے ہندوستان کو مزید سازگار اور پُرکشش مقام بنانے کی غرض سے کھلاڑیوں، ٹیم آفیشلز، تکنیکی ماہرین اور عالمی اسپورٹس اداروں کے عہدیداروں کے لئے ویزا کے عمل کو سہل بنایا جائے گا۔سرکولر میں کہا گیا ہے کہ بین الاقوامی اسپورٹس اداروں کے عہدیداروں کو ضرورت کی بنیاد پر زیادہ سے زیادہ پانچ سال تک کے ملٹی انٹری ویزے دیے جا سکیں گے تاکہ ان کی آمد و رفت آسان ہو اور بین الاقوامی ضابطوں کے مطابق کھیلوں کی سرگرمیوں کا انعقاد بہتر انداز میں ہو سکے۔