ڈاکٹر عبدلمجید بھدواہی
محبت کبھی کبھی خاموشی میں پلتی ہے اور کبھی ضد میں۔
وریندر اور سلوچنا ایک ہی یونیورسٹی کے طالب علم تھے۔ راستہ ایک، مزاج جدا۔
سلوچنا نے ابتدا میں محبت کا دروازہ دستک سے کھولنا چاہا، مگر وریندر نے ہر بار سرد مہری کی کنڈی چڑھا دی۔ ایک پورا سال وہ اس کے گرد گھومتی رہی بھی چائے، نوٹس، راہ چلتے سوال، بے سبب گفتگو بھی مگر جواب میں اسے بس مختصر جملے ملے۔
پھر ایک دن اس نے خاموشی سے کھیل کا پانسہ پلٹ دیا۔
وریندر کے موبائل سے اس کے والد کو پیغام بھیج دیا کہ شادی کی خواہش، پسندیدگی، عزت و احترام کے جملوں سے سجا ہوا پیغام۔
اور یوں بات رشتہ تک جا پہنچی۔
شادی ہو گئی۔
شادی کے بعد سلوچنا نے خود کو ایک مثالی بہو اور بیوی کے قالب میں ڈھال دیا۔ صبح کی چائے، ساس سسر کی خدمت، شوہر کی ضرورتوں کا خیال، ہر چیز میں خلوص کا رنگ نمایاں تھا۔ وریندر کا دل آہستہ آہستہ بدلنے لگا۔ گھر خوشیوں سے آباد ہونے لگا۔
چند ماہ بعد سلوچنا امید سے تھی۔
اسی دوران ایک دن وہ لیڈی ڈاکٹر کے پاس چیک اَپ کے لئے نکلی۔ کلینک کی سیڑھیاں چڑھتے ہوئے اچانک اس کے ذہن میں ایک شرارتی خیال بجلی کی طرح کوند گیا۔
’’جس نے مجھے ایک سال گھاس نہ ڈالی… کیوں نہ اسے ایک لمحے میں تڑپا دوں؟‘‘
چیک اَپ کروایا۔ سب خیریت تھی۔
مگر گھر لوٹنے کے بجائے وہ سیدھی اپنے میکے چلی گئی۔
ادھر گھر میں میز پر ایک کاغذ رکھا تھا۔
طلاق نامہ۔
ساتھ ایک تحریر:
’’میں تمہیں طلاق دیتی ہوں۔ عدالت سے کل تک تصدیق بھی آ جائے گی۔اور ہاں… یہ بچہ تمہارا نہیں۔ ڈی این اے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔‘‘
وریندر کے ہاتھ کانپنے لگے۔ اس نے فوراً فون ملایا۔
پہلی کال۔
’’ہاں، کیا ہے؟‘‘ آواز کڑک تھی۔
’’یہ سب کیا ہے؟‘‘
’’جو لکھا ہے، وہی ہے۔‘‘
دوسری کال۔
’’میں تم سے ملنا چاہتا ہوں، تمہارے والدین سےبھی‘‘
’’بالکل نہیں! یہاں آنے کی کوشش بھی نہ کرنا۔ تمہاری بے عزتی ہو گی۔‘‘
تیسری کال۔
سلوچنا، خدا کے لئے…‘‘
’’ڈراما ختم ہو چکا ہے، وریندر۔‘‘
ہر بار جواب تیز، سرد اور بے رحم۔
گھر میں قیامت کا سماں تھا۔
ماں رو رہی تھی۔ باپ سر پکڑے بیٹھا تھا۔ بہن بھائی، چچا تایا، رشتہ دار، دوست—سب جمع ہو گئے۔ چہ میگوئیاں شروع ہو گئیں۔
’’ہم تو سمجھتے تھے دونوں بہت خوش ہیں…‘‘
’’آخر اچانک کیا ہو گیا؟‘‘
’’ہماری کیا غلطی تھی؟‘‘
فضا گھمبیر ہوتی گئی۔
وریندر کا چہرہ زرد پڑ چکا تھا۔ وہ خود بھی نہیں سمجھ پا رہا تھا کہ یہ سب کیوں ہوا۔
اتنے میں دروازہ آہستہ سے کھلا۔
سلوچنا بڑے اطمینان سے اندر داخل ہوئی۔
چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ۔
’’ارے… کیا بات ہے؟ سب کے چہرے کیوں لٹکے ہوئے ہیں؟ خیریت تو ہے؟‘‘
کمرے میں سناٹا چھا گیا۔
وریندر کی ماں لرزتی آواز میں بولی،
’’بیٹی… یہ ہم کیا سن رہے ہیں؟‘‘
دوسرے نے کہا،
’’ہماری کیا غلطی تھی؟‘‘
سلوچنا نے حیرانی جتائی،
’’مجھے کچھ سمجھ نہیں آ رہا… آپ لوگ کیا کہہ رہے ہیں؟‘‘
کسی نے کاغذ اٹھایا۔
’’یہ طلاق… یہ بوائے فرینڈ… یہ بچہ… ڈی این اے؟‘‘
چند لمحے وہ سب کو دیکھتی رہی۔ پھر اس نے گہری سانس لی۔
’’یہ سب… ایک ڈراما تھا۔‘‘
سب چونک اٹھے۔
’’ڈراما؟!‘‘
وہ سیدھی وریندر کی طرف دیکھ کر بولی،
’’پورا سال اس نے مجھے گھاس نہیں ڈالی۔ میں عزت سے بات کرتی رہی، قریب آنا چاہتی رہی۔ اس کی سرد مہری نے مجھے اندر سے توڑ دیا۔
میں نے سوچا… ایک جھٹکے میں احساس دلا دوں۔
طلاق نامہ بھی جعلی۔ عدالت والی بات بھی جھوٹ۔
میں چیک اپ کے بعد سیدھی میکے گئی تھی۔ کوئی بوائے فرینڈ نہیں۔ بچہ اسی کا ہے۔‘‘
کمرے میں خاموشی اتر آئی۔
وریندر کی آنکھوں میں نمی تیرنے لگی۔
اس نے پہلی بار اعتراف کیا،
’’میں نے تمہیں سمجھا ہی نہیں…‘‘
سلوچنا کی آواز اب نرم تھی،
’’بدلہ نہیں لینا چاہتی تھی… بس یہ چاہتی تھی کہ تمہیں میرے ہونے کا احساس ہو جائے۔‘‘
ماحول کی سختی آہستہ آہستہ پگھلنے لگی۔
کسی نے کہا،
’’چلو… آج چائے بناؤ۔ اس بار ہنستے ہوئے۔‘‘
اور یوں ایک گھر جو چند لمحوں پہلے ٹوٹنے کے دہانے پر تھا،
ایک سچائی کے اعتراف سے پھر جڑ گیا۔
کیونکہ بعض اوقات محبت کو ثابت کرنے کے لیے دلیل نہیں بلکہ
ایک جھٹکا کافی ہوتا ہے۔
���
کریم منزل پیس اوینیو شیخ پورہ بڈگام ، کشمیر
موبائل نمبر؛8825051001