دوسرا مصرعہ
تمہارا نام شامل جب تلک ہوتا نہیں اس میں
مری تخلیق کے رخ پرکوئی لالی نہیں آتی
مکمل شعر یہ میرا کسی صورت نہیں ہوتا
میں اپنے لفظوں کی خوشبو، تمہارے نام کرتا ہوں
اگر تو ایک مصرعہ ہے
تو میں ہوں دوسرا مصرعہ
ملیں گے جب یہ دو مصرعے، تبھی اک شعر جنمے گا
تبھی اس فن کی دنیا میں کوئی ہلچل بپا ہوگی
محبت کی کتابوں میں، ہمارا نام آئے گا
تمہارے حسن کی رعنائیاں جب تک نہ شامل ہوں
بھلا کس کام کی یہ شاعری، یہ قافیے سارے؟
بنے گی کس طرح سے خوبصورت یہ غزل آخر؟
تخیل کی حسیں وادی، تمہارے بن ادھوری ہے
چلے آؤ جہاں بھی ہو
یہ دیکھو موسم گل بھی تمہیں آواز دیتا ہے
یہ موسم خوبصورت ہے، فضا میں ایک جادو ہے
مگر تم بن مری ہر اک خوشی بے رنگ سی کیوں ہے؟
مکمل شعر میں کر لوں، مجھے تیری ضرورت ہے
تمہاری اک جھلک مل جائے تو مصرعہ بدل جائے
مری بے نام سی ہستی کو کوئی نام مل جائے
ادھورا سا میں اک نغمہ، تم اس کی تان ہو جیسے
میں پیاسا اک جزیرہ ہوں، تم اک طوفان ہو جیسے
ہماری یہ رفاقت ہی، غزل کا روپ دھارے گی
جو رہ جائے گی صدیوں تک، جو دنیا کو سنوارے گی
تمہارا ہاتھ تھاموں گا، تو ہر بندش پگھل جائے
تمہارا ساتھ ہوگا، تو ہر اک سپنا بدل جائے
مکمل شعر ہونے تک، میں تیری راہ دیکھوں گا
تمہاری خوشبوؤں کو میں،غزل کا نام دےدوں گا!
پرویز مانوس
آزاد بستی نٹی پورہ سرینگر 9419463487
دیکھو دیکھو ریل ہے آئی
دہلی سے کشمیر میں آئی
نئی صبح کا سورج لائی
نئی ہوا کا جھونکا لائی
بل کھاتی شرماتی آئی
کیا پتہ کیا ساتھ ہے لائی
میٹھی میٹھی سیٹی اس کی
نازک نازک لچک ہے اس کی
سب سے اوپر پل سے آئی
دیکھو دیکھو ریل ہے آئی
کوہوں اور دامن سے آئی
پھولوں کی خوشبو میں آئی
نی نی دلہن شرمائی
دیکھو دیکھو ریل ہے آئی
رات میں تارے دن میں سورج
ایک سے منظر ایک نرالا
وادی کا ہے خوب نظارہ
سن لو ساتھی سن لو بھائی
شہر میں اپنے ریل ہے آئی
اس کی اب رکھوالی کرنا
ساقی اپنا بھرم بھی رکھنا
دیکھو دیکھو ریل ہے آئی
دہلی سے کشمیرمیں آئی
امدادساقی
لعل بازار،سرینگر ،کشمیر
موبائل نمبر؛9419000643
بہت پژ مردہ خاطر ہیں میرے سائے گھنیرے سے
یہ خاکہ دورِ پیری کاستم لایا کیا دھیرے سے
سراسر ناتوانی کے گرد میرے ہیں گہرے سے
اماں! اب ڈر سا لگتا ہے مجھے انجام ہستی ہے
بہت پژ مردہ خاطر ہیں مرے سائے گھنیرے سے
بتائوں کیا تمہیں آذرؔ زباں اب گنگ ہے میری
دیارِ غیر میں رہ کر ہیں دیدے اب اندھیرے سے
صبحِ دم گھر میں آنگن کے سبھی گل کِھل گئے ہونگے
کئی ہونگے سبز مائیل کئی ہونگے سنہرے سے
گُلِ لالہ و نسریں کا یہ اندازِ تبسم پھر
جبینِ شاخِ نازک پہ لٹکتے ہونگے سہرے سے
نہ جانے کیوں یہ بھاتے ہیں مجھے اب دشت کی صورت
یہ نالاں خود بھی ہیں شاید مرے دِل کے اندھیرے سے
چِڑاتی ہے مجھے اکثر مری یہ خانہ ویرانی
در و دیوار لگتے ہیں مجھے دیتے ہیں پہرے سے
گذاری زندگی اب تک اماں کیا گوشہ گیری میں
محسن ہیں مرے کامل مرے سائے گھنیرے سے
سفر اب اپنی ہستی کا ہے پہنچا گامِ آخر پر
میں ہجرت کرنے والا ہوں جہاں کے اس جزیرے سے
یقیناً سلف کی رُوحیں مری اب منتظر ہونگی
جہانِ زیست کا عُشاق یہی دستور ہے ازلناً
بہ وقتِ مرگ لیتا ہے بشر سپنے سنہرے سے
عُشاقؔ کشتواڑی
صدر انجمن ترقی اردو (ہند)شاخ چناب ویلی کشتواڑ،جموں
موبائل نمبر؛9697524469
رباعیات
رزمگامِ گاہِ حیات میں ہار جیت ہوتی ہے
کبھی شادماں کبھی آنکھ روتی ہے
ایک سیدھ نہیں رہتے حالات سدا
کبھی چھائوں کبھی دھوپ ہوتی ہے
ایک فنی شاہکار رہتا ہے سدا بہار
شائقینِ فن کے واسطے کششِ استمرار
سچا فنکار ہوتا نہیں اپنا میاں مِٹُھو
اُسکا فن ہے اُس کی عظمت کا آئینہ دار
جھلک دکھلا کے وہ چلا جاتا ہے
آتا آندھی کی طرح مانند بگولہ اُڑ جاتا ہے
دم بھرنے کی کہاں ہے اُسکو فرصت
رسماً ٹاٹا کہہ کے رخصت ہو جاتا ہے
غلام نبی نیئر
ناصر آباد، کولگام، کشمیر
موبائل نمبر؛9541547612
فریب
لکھِوادیا تھا سینے پرنام اُن کا کاتِب سے
کر کے لیکن کنارہ ہم سے روئے آنکھیں کرب سے
پیار پر اپنے ناز تھا، چھائی یہ کیسی اُداسی
رشتہ ہم نے توڑا ہے! خط آیا ان کی جانِب سے
پل میں وعدے توڑے ، پل میں کیا ہم کو غیر
پایا جب اُن کو غیروں میں دل ڈوبا تعجُب سے
پہنا تھا اُسس نے لبَادہ غیر کا! نہ تھا معلوم
کی جو بے وفائی اُس نے ! کی غیب سے
یاربّ یہی ہے تمنّا ، رہے نہ وہ اُداس تنہاؔ
قائم رہے ہمیشہ کرتے ہیں دُعا صاحِب سے
قاضی عبدالرشید تنہاؔ
روزلین چھانہ پورہ، سرینگر کشمیر
موبائل نمبر؛7006194749
چائے
مجھے اس سے عشق ہے
مجھے اس کی عادت ہے
ہونٹوں پہ اس کی مٹھاس ہے
چائے میرے لئے خاص ہے
مجھے اس کی طلب ہے
مجھے اس کا نشہ ہے
بھرا ہوا کپ میرے پاس ہے
چائے میرے لیے خاص ہے
مجھے اس کی خوشبو کا اثر ہے
صبح، دوپہر، شام اس کا انتظار ہے
منہ میں اس کی پیاس ہے
چائے میرے لیے خاص ہے
مجھے اس کا رنگ بھاتا ہے
ہر گھونٹ دل کو لبھاتا ہے
ہر دن اس کی آس ہے
چائے میرے لئے خاص ہے
مجھے اس کا جنون ہے
رگوں کا میرے خون ہے
ہر پل اس کا احساس ہے
چائے میرے لئے خاص ہے
کبھی چولہے پہ گرتی ہے
کبھی میرے کپڑوں پر
کرتی خراب میرا لباس ہے
چائے میرے لئے خاص ہے
نہ ملنے پہ یہ ضد ہے
رہتی اس کی تلاش ہے
دن اس کے بن اداس ہے
چائے میرے لئے خاص ہے
دانش عائشہ
[email protected]