یو این آئی
سرینگر//پی ڈی پی لیڈرالتجا مفتی نے جمعہ کو کہا کہ وہ اردو زبان سے متعلق ایک ویڈیو کی مکمل ذمہ داری قبول کرتی ہیں، جس میں مرحوم علیحدگی پسند رہنما سید علی گیلانی اردو کے بارے میں بات کرتے نظر آتے ہیں، اور وہ پولیس تحقیقات میں مکمل تعاون کریں گی۔سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘‘ایکس’’ پر ایک پوسٹ میں، سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کی بیٹی التجا مفتی نے کہا کہ اس ویڈیو کو شیئر کرنے والے افراد کو سائبر پولیس کشمیر کی جانب سے طلب کیا جا رہا ہے۔انہوں نے لکھاکہ ‘‘میں اس ویڈیو کی مکمل ذمہ داری لیتی ہوں جو میں نے ٹویٹ کی تھی۔
مجھے معلوم ہوا ہے کہ اسے شیئر کرنے والے دیگر افراد کو بھی طلب کیا جا رہا ہے۔ میں ان سے کہتی ہوں کہ ایسا نہ کریں بلکہ مجھ سے جو بھی سوال کرنا ہو کریں۔ میں قانون کی پابند شہری ہوں اور مکمل تعاون کروں گی۔’’یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب دو روز قبل پولیس نے سائبر پولیس اسٹیشن سری نگر میں نامعلوم افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کی تھی، جس میں سید علی گیلانی کی ویڈیو کو پھیلانے کا الزام تھا۔ حکام کے مطابق اس مواد میں علیحدگی پسند نظریات کو فروغ دیا گیا۔پولیس کے مطابق ویڈیو میں ایسے عناصر شامل تھے جو کالعدم تنظیم تحریک حریت—جس کی قیادت کبھی گیلانی کے پاس تھی—کی غیر قانونی سرگرمیوں کو فروغ دیتے اور ان کی تعریف کرتے ہیں، ساتھ ہی مبینہ طور پر گمراہ کن معلومات پھیلاتے اور ذات، رنگ اور زبان کی بنیاد پر نفرت اور دشمنی بھڑکانے کی کوشش کرتے ہیں۔یہ ویڈیو، جسے التجا مفتی نے بدھ کے روز شیئر کیا تھا، میں گیلانی اردو زبان کی اہمیت پر گفتگو کرتے نظر آتے ہیں۔ ویڈیو پوسٹ کرتے ہوئے انہوں نے کہا تھا کہ وہ ان کے نظریات سے متفق نہیں ہیں، لیکن اردو کے حوالے سے ان کی باتیں ‘‘دیکھنے کے قابل’’ ہیں۔اس سے قبل اسی ہفتے التجا مفتی نے ریونیو سروس کی بھرتی میں اردو کو لازمی زبان کے طور پر ہٹانے کی تجویز کے خلاف احتجاج بھی کیا تھا۔