عظمیٰ نیوز سروس
راجوری//بھارتی سائنس کے لیے ایک اہم سنگِ میل قرار دیتے ہوئے ضلع راجوری کے گاوں بہروٹ سے تعلق رکھنے والے ممتاز سائنسدان ڈاکٹر محمد وقاص نے وہیل کی ارتقائی تاریخ سے متعلق ایک غیر معمولی دریافت کی قیادت کی ہے، جس نے سائنسی دنیا میں نئی راہیں ہموار کر دی ہیں۔ہمالیہ کے دامن میں واقع جموں و کشمیر کے علاقے میں تحقیق کے دوران ڈاکٹر محمد وقاص اور ان کی بین الاقوامی ٹیم نے برصغیر میں اب تک دریافت ہونے والے وہیل کے قدیم ترین آباؤ اجداد کا سراغ لگایا ہے۔ ڈاکٹر وقاص کے مطابق اس نئی نوع کو ’کالاکوسیٹس اورورائے‘ کا نام دیا گیا ہے، جو ایک چھوٹا چار ٹانگوں والا جاندار تھا اور اندازاً پچاس سے پینتالیس ملین سال قبل کالاکوٹ کے قدیم دلدلی علاقوں میں پایا جاتا تھا۔
یہ اہم تحقیق ایک معروف بین الاقوامی سائنسی جریدے میں شائع ہوئی ہے، جس میں بھارت، بیلجیم اور فرانس کے ماہرین نے مشترکہ طور پر حصہ لیا۔دریافت شدہ فوسل ایک محفوظ شدہ نچلے جبڑے اور دانتوں پر مشتمل ہے، جسے وہیل کے خاندانی سلسلے کا ابتدائی ترین رکن قرار دیا جا رہا ہے۔ سائنسدانوں کے مطابق یہ دریافت اس اہم خلا کو پْر کرتی ہے جس کے ذریعے یہ سمجھنے میں مدد ملتی ہے کہ خشکی پر رہنے والے ممالیہ جانور بتدریج جدید وہیل میں کیسے تبدیل ہوئے۔ماہرین کے مطابق یہ نئی نوع ارتقا کے اس مرحلے کی نمائندگی کرتی ہے جہاں خوراک کے انداز میں نمایاں تبدیلی رونما ہو رہی تھی۔ ابتدائی اجداد کے دانت پودوں کو پیسنے کے لیے موزوں تھے، جبکہ اس نوع میں ایسے دانت پائے گئے ہیں جو پودوں کو پیسنے کے ساتھ ساتھ گوشت کو کاٹنے کی صلاحیت بھی رکھتے تھے۔دانتوں کی ساخت اور استعمال کے تجزیے سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ جاندار گوشت خور بننے کے عمل میں داخل ہو چکا تھا، جو ارتقائی سفر کا ایک اہم مرحلہ ہے۔ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ دریافت اس نظریے کو مزید مضبوط کرتی ہے کہ قدیم ارضیاتی دور میں برصغیر نے وہیل کی ابتدائی ارتقا میں کلیدی کردار ادا کیا۔ کالاکوٹ کا علاقہ فوسلز کے حوالے سے مسلسل اہمیت اختیار کر رہا ہے۔ڈاکٹر محمد وقاص نے کہا کہ یہ تحقیق نہ صرف ارتقائی سلسلے کی ایک اہم کڑی کو واضح کرتی ہے بلکہ ہمالیائی خطے کی سائنسی اہمیت کو بھی اجاگر کرتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ کامیابی عالمی سائنسی میدان میں بھارت کے بڑھتے ہوئے کردار کی عکاسی کرتی ہے اور مستقبل میں مزید تحقیق کے نئے امکانات پیدا کرتی ہے۔