عظمیٰ نیوز سروس
سرینگر// محکمہ جنگلات نے نیشنل گرین ٹریبونل کو بتایا ہے کہ مالی سال 2025-26 میں جموں و کشمیر میں 926 جنگلاتی آگ کے واقعات رپورٹ ہوئے۔ جس سے 2,105.57 ہیکٹر متاثر ہوئے۔ آگ لگنے کے 95 فیصد سے زیادہ واقعات زمینی نوعیت کی ہوتی ہے اور 95 فیصد سے زائد واقعات انسانی عمل یا غفلت کی وجہ سے پیش آتے ہیں، جبکہ کچھ حادثاتی ہوتے ہیں۔ بدلتے موسمی حالات، بڑھتے درجہ حرارت اور طویل خشک موسم نے جنگلات کو مزید خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔ اہلکاروں نے بتایا کہ جموں و کشمیر نے وزارت ماحولیات و جنگلات کی جانب سے جاری نیشنل ایکشن پلان آن فاریسٹ فائرز (NAPFF) کو اپنایا ہے اور جنگلاتی آگ کے خطرے کی زونیشن میپنگ اور ویلنریبلٹی اسسمنٹ اسٹڈیز بھی مکمل کی ہیں۔ 2018-19 سے 2037-38 تک کے لیے 20 سالہ ایکشن پلان (154 کروڑ روپے تخمینہ) وزارت کو جمع کرایا گیا ہے۔ 2025-26 کے لیے 3.5 کروڑ روپے کا سالانہ منصوبہ پیش کیا گیا، جس میں سے 2.45 کروڑ منظور ہوئے، لیکن صرف 27.71 لاکھ جاری کیے گئے۔ محکمہ نے 1,133 کلومیٹر فائر لائنز تیار کیں اور 22,000 کوئنٹل خشک بایوماس (پائن کی سوئیاں، کونز وغیرہ ہٹایا۔ – 223 فائر کنٹرول رومز چوبیس گھنٹے فعال ہیں اور 1,500 جنگلاتی تحفظ فورس اہلکار ڈیوٹی پر تعینات ہیں۔ 60 سے زائد تربیتی و آگاہی پروگرام مقامی کمیونٹی کے ساتھ منعقد کیے گئے۔ محکمہ نے کہا کہ SOPs تیار کیے گئے ہیں تاکہ آگ بجھانے اور روکنے کے عمل میں ذمہ داریاں واضح ہوں۔ آئندہ مالی سال 2026-27 کے لیے “پروٹیکشن فرام فائر” کے تحت 4.85 کروڑ روپے کا بجٹ تجویز کیا گیا ہے۔